آگرہ کے ایک کالج میں بھی برقعہ کی مخالفت

اس انسٹی ٹیوٹ نے ایک نوٹس جاری کی ہے اور تمام طلباء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کے لیے طے کردہ ڈریس کوڈ میں ہی آئیں ، ورنہ ان کی حاضری درج نہیں کی جائے گی ۔ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل نواب سنگھ نے کہا کہ طلباء کے لیے یونیفارم پہننے کے اصول متعین کردیئے گئے ہیں اور سبھی کو ان کی پابندی کرنی چاہیے ۔

آگرہ ۔ گورنمنٹ انڈسٹرئیل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ (آئی ٹی آئی) کے طلباء کے ایک گروپ نے آج یہاں اس وقت ہنگامہ کھڑا کردیا جب انہیں زعفرانی شالیں اتارنے کے لیے کہا گیا ، جو انہوں نے کیمپس میں موجود برقعہ پوش طالبات کے خلاف بطورِ احتجاج پہنی تھیں ۔

اس انسٹی ٹیوٹ نے ایک نوٹس جاری کی ہے اور تمام طلباء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ان کے لیے طے کردہ ڈریس کوڈ میں ہی آئیں ، ورنہ ان کی حاضری درج نہیں کی جائے گی ۔ انسٹی ٹیوٹ کے پرنسپل نواب سنگھ نے کہا کہ طلباء کے لیے یونیفارم پہننے کے اصول متعین کردیئے گئے ہیں اور سبھی کو ان کی پابندی کرنی چاہیے ۔

ادارہ میں تقریباً 1500 طلباء ہیں ، جن میں 200 لڑکیاں ہیں ، جن کے منجملہ 20مسلمان ہیں ۔ ایک سینئر استاد ہری چندر نے بتایا کہ پیر کے روز بعض طلباء اپنی گردن میں گمچھا پہن کر آئے ۔ جب انہیں اسے اتارنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ کیمپس میں موجود لڑکیوں کا برقعہ بھی اتارا جائے ۔ یہ تیقن دینے کے بعد کہ ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے گا ، انہوں نے اپنے گمچھے نکال دیئے ۔

احتجاج میں حصہ لینے والے شخص موہت کمار نے پرنسپل کو بتایا ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی ہورہی ہے ، لیکن کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ہے ۔ جب میں زعفرانی شال پہن کر انسٹی ٹیوٹ کو آیا تو اساتذہ نے اعتراض جتانا شروع کردیا اور مجھ سے کہا کہ میں اس نکال دوں ، لیکن میں نے ان سے کہا کہ پہلے طالبات کو کیمپس میں برقعہ پہننے سے روکا جائے ۔ انہوں نے مجھے تیقن دیا کہ ہر طالب ِ علم ڈریس کوڈ کی پابندی کرے گا ۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button