اکھلیش یادو سماج وادی پارٹی کے لیجسلیچر لیڈر منتخب

اسمبلی انتخابات کے بعد اکھلیش نے اعظم گڑھ لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔ اتم نے بتایا کہ ایس پی کے سینئر لیڈر اودھیش پرساد نے اکھلیش کو لیجسلیچر لیڈر منتخب کئے جانے کی تجویز رکھی اور ایم ایل اے عالم بدیع نے اس کی حمایت کی۔

لکھنؤ: اترپردیش میں حال ہی میں منعقد ہونے والے اسمبلی انتخابات میں دوسری سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھر کر سامنے آنے والی سماج وادی پارٹی(ایس پی) صدر اکھلیش یادو کو اسمبلی میں پارٹی کے لیجسلیچر لیڈر منتخب کیا گیا ہے۔ یہاں واقع ایس پی دفتر میں ہفتہ کو اراکین اسمبلی کی میٹنگ میں اکھلیش کو سبھی اراکین اسمبلی نے اتفاق رائے سے اپنا لیڈر منتخب کیا۔

 ایس پی کے ریاست صدر نریش اتم پٹیل نے اراکین اسمبلی کی میٹنگ کے بعد یہ جانکاری دی۔ انہوں نے بتایا کہ میٹنگ میں اکھلیش کو اتفاق رائے سے پارٹی کے ودھان منڈل دل کا لیڈر بھی منتخب کیا گیا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ اسمبلی انتخابات میں ایس پی کے 111اراکین اسمبلی منتخب ہوئے ہیں۔ اس طرح سے اسمبلی میں دوسری سب سے بڑی پارٹی ہونے کے ناطے ایس پی مین اپوزیشن پارٹی ہوگی۔

 ایسے میں اکھلیش کا اپوزیشن لیڈر بننا تقریبا طے ہے۔ اسمبلی انتخابات کے بعد اکھلیش نے اعظم گڑھ لوک سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔ اتم نے بتایا کہ ایس پی کے سینئر لیڈر اودھیش پرساد نے اکھلیش کو لیجسلیچر لیڈر منتخب کئے جانے کی تجویز رکھی اور ایم ایل اے عالم بدیع نے اس کی حمایت کی۔ اس کے علاوہ ایم ایل اے لال جی ورما نے اکھلیش کو ودھان منڈل کا لیڈر منتخب کئے جانے کی تجویز رکھی۔

ایس پی کے انتخابی نشان پر ایم ایل اے منتخب ہوئے شیوپال سنگھ یادو کو میٹنگ میں نہ بلائے جانے کے بارے میں نریش اتم نے کہا کہ آج صرف ایس پی کے اراکین کو بلایا گیا تھا۔ میٹنگ میں اتحادی پارٹیوں کے کسی ایم ایل اے کو نہیں بلایا گیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا’ اتحادی پارٹیوں کے جو اراکین ایس پی کے انتخابات پر الیکشن جیتے انہیں اور اتحادی پارٹیوں کے اراکین کی میٹنگ 28 مارچ کو طلب کی گئی ہے۔چاہے وہ شیوپال یادو ہوں،پلوی پٹیل یا اوپی راج بھر ہوں سب کو 28مارچ کو بلایا جائے گا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button