ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی دوحہ میں آمد

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر قطر کے امیر کی سرکاری دعوت پر پیر کے روز دوحہ پہنچ گئے جہاں ان کا پر جوش استقبال کیا گیا۔

دوحہ: اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر قطر کے امیر کی سرکاری دعوت پر پیر کے روز دوحہ پہنچ گئے جہاں ان کا پر جوش استقبال کیا گیا۔

قطر کی میزبانی میں گیس برآمد کرنے والے 11 بڑے ممالک کے فورم کا اہم اجلاس کل سے شروع ہوگا جس میں شرکت کے لیے ایران کے صدر ابراہیم رئیسی بھی دوحہ پہنچ گئے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق روس کے یوکرائن پر حملے کی صورت میں یورپ کو گیس کے شدید بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کے باعث گیس برآمد کرنے والے 11 بڑے ممالک کی تنظیم GECF کا اہم اجلاس کل سے شروع ہو رہا ہے۔

دوحہ میں ہونے والی ”جی ای سی ایف“ کی چھٹی گیس سمٹ میں شرکت کے لیے الجزائر کے صدر کل ہی قطر پہنچ گئے تھے اور امیرِ قطر سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان اہم معاہدے بھی طے پائے ہیں۔

اب تک ”جی ای سی ایف“ ممالک کے سربراہان کے 5 اجلاس ہوچکے ہیں۔گیس برآمد کرنے والے ممالک کے فورم ”جی ای سی ایف“ میں الجزائز،بولیویا، مصر، استوائی گنی، ایران، لیبیا، نائیجیریا، قطر، روس، متحدہ عرب امارات، وینزویلا، ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو شامل ہیں۔

ان میں سے روس، قطر، لیبیا، الجزائز اور نائیجیریا گیس برآمدات میں مجموعی طور پر 70 فیصد حصہ ڈالتے ہیں اور 51 فیصد ایل این جی بھی ان ہی ممالک سے دنیا بھر میں سپلائی ہوتی ہے۔

ایران کے وزیر شاہراہ و ٹرانسپورٹ رستم قاسمی نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان چار سمجھوتوں پر دستخط ہوگی ان میں سب سے اہم زیر آب سرنگ کے ذریعہ ایران اور قطر کو مربوط کرنے کے منصوبہ کا سمجھوتہ ہے۔

قاسمی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو یہ بات بتائی۔ دیگر دو سمجھوتوں کا تعلق جہاز رانی اور بحری تجارت کو فروغ دینے سے ہوگا اور چوتھا سمجھوتہ دونوں ممالک کے درمیان فضائی سفر کو بہتر بنانے کے لے ہوگا۔

توقع ہے کہ منگل کو رئیسی GECF سمٹ میں ایران کی نمائندگی کریں گے۔ ساری دنیا میں ایران کے بعد دوسرے سب سے زیادہ کثیر قدرتی گیس کے ذخائر ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button