ایس بی آئی کے 3,897 صارفین کا ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک ہونے کا انکشاف، سائبر حملے سے تشویش
اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے 3,897 بینک کھاتہ داروں کی ذاتی معلومات سائبر حملے کے بعد مبینہ طور پر ڈارک ویب پر لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے بینک صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
نئی دہلی: اسٹیٹ بینک آف انڈیا (ایس بی آئی) کے 3,897 بینک کھاتہ داروں کی ذاتی معلومات سائبر حملے کے بعد مبینہ طور پر ڈارک ویب پر لیک ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ اس واقعے نے بینک صارفین کے ڈیٹا کے تحفظ اور سائبر سکیورٹی سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔
دستیاب اطلاعات کے مطابق، متاثرہ صارفین کے نام، موبائل فون نمبر، تاریخِ پیدائش اور ای میل ایڈریس سمیت اہم ذاتی معلومات افشا ہوئی ہیں۔ تاہم، سائبر حملے کی نوعیت، ڈیٹا لیک ہونے کے اصل ذرائع اور متاثرہ صارفین کے تحفظ کے لیے کیے گئے اقدامات سے متعلق مزید تفصیلات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔
ماہرین کے مطابق، اس طرح کی معلومات کا غلط استعمال کرتے ہوئے سائبر مجرم صارفین کو جعلی فون کالز، مشتبہ پیغامات اور فشنگ ای میلز کے ذریعے نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس کے نتیجے میں آن لائن دھوکہ دہی اور شناخت کے غلط استعمال کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
صارفین کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ بینک کے نام پر آنے والی مشتبہ کالز، پیغامات اور ای میلز سے محتاط رہیں۔ کسی بھی صورت میں اپنا او ٹی پی، اے ٹی ایم پن، پاس ورڈ یا دیگر خفیہ بینکنگ معلومات کسی کے ساتھ شیئر نہ کریں اور مشتبہ لنکس پر کلک کرنے سے گریز کریں۔
اگر کسی صارف کو اپنے کھاتے سے متعلق غیر معمولی سرگرمی کا شبہ ہو تو اسے فوری طور پر ایس بی آئی کے سرکاری ذرائع سے رابطہ کرنا چاہیے۔
اس واقعے نے بینکنگ شعبے میں ڈیجیٹل معلومات کے تحفظ اور سائبر حملوں سے نمٹنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔