ایوان میں تعطل کے لئے حکومت ذمہ دار:کھڑگے

کھڑگے نے کہا کہ چیئر مین سے مسلسل گزارش کررہے ہیں کہ ان ارکان کی معطلی غلط ہے اور معطل کیے گئے 12ارکان کی معطلی منسوخ کی جائے لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ ہر گھنٹے ایوان ملتوی ہورہا ہے۔

نئی دہلی: کانگریس اور دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں نے راجیہ سبھا میں کارروائی نہ چلنے دینے کے لیے حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے ارکان کو ضابطے کے تحت معطل نہیں کیا گیا ہے، اس لیے ان کی معطلی فوری طور پر واپس لی جائے۔راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے منگل کو یہاں پارلیمنٹ کے احاطہ میں نامہ نگاروں سے کہاکہ جس واقعہ کے لیے ارکان کو معطل کیا گیا وہ11اگست کو پیش آیا تھا لیکن حکومت نے غیر قانونی طریقے سے ارکان کو اگلے سیشن میں معطل کیا‘جب کہ ضابطہ یہ کہتا ہے کہ ایوان کے غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی ہونے کے بعد پچھلے سیشن کی سرگرمیوں کے سلسلے میں ارکان کو اگلے سیشن میں معطل نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ چیئر مین سے مسلسل گزارش کررہے ہیں کہ ان ارکان کی معطلی غلط ہے اور معطل کیے گئے 12ارکان کی معطلی منسوخ کی جائے لیکن وہ ایسا کرنے کے لیے بالکل تیار نہیں ہیں۔ ہر گھنٹے ایوان ملتوی ہورہا ہے۔ حکومت نہ تو ایوان کو چلانا چاہتی ہے اورنہ ہی سماجی مسائل پر بحث چاہتی ہے۔ اسی لیے اپوزیشن کی گزارش کو مسلسل نظر انداز کررہی ہے۔کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر حکومت معطلی واپس نہیں لیتی ہے تو جہاں یہ ارکان دھرنے پر بیٹھے ہیں، وہاں ان کی پارٹی کے ارکان بھوک ہڑتال کریں گے۔

 انہوں نے لوک سبھا میں پارٹی کے ارکان سے بھی اس بھوک ہڑتال میں شامل ہونے کی گزارش کی ہے۔ ڈی ایم کے کے تری چی شیوا نے کہا کہ حکومت من مانی کررہی ہے۔ انہو ں نے کہا کہ ایوان میں جب زرعی قوانین کو واپس لینے کا بل آیا تو اپوزیشن کے ارکان اس بارے میں کچھ کہنا چاہتے تھے لیکن حکومت نے 2 منٹ کے اندر ہی بغیر بحث کے اس بل کو واپس لے لیا۔

 ایوا ن میں موجود اپوزیشن ارکان نے اپنی بات رکھنی چاہی تو انہیں معطل کردیا گیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت اپوزیشن پر الزام تراشی کررہی ہے کہ وہ ایوان چلنے نہیں دے رہا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود حکومت انتہائی غیر ذمہ دارانہ طریقے سے کام کررہی ہے۔معطل ارکان میں سے ایک مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کے الامارم کریم نے بھی حکومت کے اقدام کو جمہوری اقدار کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے نامہ نگاروں کو ایوان میں بہت کم تعداد میں داخلہ کی اجازت دینے کی بھی مذمت کی۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button