ایودھیا کے سادھو کو تاج محل میں داخل ہونے سے روک دیا گیا

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے جو تاج محل کی دیکھ بھال کر رہا ہے، بعد میں واضح کیا کہ تینوں سنت لوہے کی چھڑی کے ساتھ داخلہ چاہتے تھے، لیکن سیاحت کے معیار کے مطابق انہیں لوہے کی سلاخوں کے ساتھ داخلہ کی اجازت دینا ممکن نہیں تھا۔

آگرہ: اترپردیش کے ضلع آگرہ میں واقع تاج محل کا دیدار کرنے کے لئے ایودھیا سے پہنچے ایک سنت کو وہاں تعینات سیکورٹی اہلکار نے داخلہ دینے سے صاف طور سے منع کردیا جس سے اس پر تنازعہ کھڑا ہوگیا۔

موصولہ اطلاع کے مطابق یہ واقعہ منگل کو اس وقت پیش آیا جب ایودھیا کے چھاؤنی علاقہ سے آئے سنت جگد گرو پرمہنساچاریہ اور ان کے تین شاگرد’ ڈنڈ کمنڈل ‘کے ساتھ تاج میں داخل ہوئے لیکن سیکورٹی اہلکاروں نے سنتوں کے ہاتھ میں لوہے کا ڈنڈا ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں داخل ہونے سے روک دیا گیا۔

آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) نے جو تاج محل کی دیکھ بھال کر رہا ہے، بعد میں واضح کیا کہ تینوں سنت لوہے کی چھڑی کے ساتھ داخلہ چاہتے تھے، لیکن سیاحت کے معیار کے مطابق انہیں لوہے کی سلاخوں کے ساتھ داخلہ کی اجازت دینا ممکن نہیں تھا۔

دوسری طرف سنت لوہے کی چھڑی کے بغیر جانے کو تیار نہیں تھے۔ پرمہنساچاریہ اپنے شاگردوں کے ساتھ تاج محل کے قریب پہنچے تو یوپی پولس کے اہلکاروں نے انہیں تاج محل کے دروازے تک جانے والی گولف کارٹ میں بٹھایا لیکن دروازہ پر موجود سنٹرل انڈسٹریل سیکوریٹی فورس (سی آئی ایس ایف) کے اہلکاروں نے انہیں لوہے کی چھڑی کے ساتھ اندر جانے سے روک دیا۔

اے ایس آئی کے سپرنٹنڈنٹ ماہر آثار قدیمہ آر کے پٹیل نے کہا کہ بھگوا پوش شخص کو سی آئی ایس ایف نے روکا تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے ساتھ لوہے کی سلاخ لے کر گئے تھے۔ سیکوریٹی اہلکاروں نے ان سے کہا کہ وہ ڈنڈا وہیں رکھ کر چلے جائیں لیکن وہ نہیں مانے۔

پرمہنساچاریہ کے ایک شاگرد نے بتایا کہ ان کے گرو علی گڑھ میں رہنے والے اپنے ایک بھکت خاندان سے ملنے آئے تھے۔ علی گڑھ سے وہ تاج محل دیکھنے آئے۔ ان کے ساتھ ایک سرکاری بندوق بردار بھی تھا۔ شاگرد نے بتایا کہ جب وہ شمشان گھاٹ سے تاج محل کے لیے روانہ ہوا تو وہاں موجود پولیس والوں نے تعارف جانتے ہوئے اسے گولف کارٹ میں بٹھا کر مغربی دروازہ پر بھیج دیا۔

انہوں نے بتایا کہ جب شام 5.30 بجے پرمہنساچاریہ اپنے شاگردوں کے ساتھ تاج محل میں داخل ہونے لگے تو انہیں وہاں موجود سی آئی ایس ایف اور دیگر عملہ نے روک دیا۔ شاگرد نے الزام لگایا کہ اسے اندر داخل نہ ہونے کو کہا گیا کیونکہ اس نے زعفرانی پہن رکھا تھا اور ان سے ٹکٹ لے کر دوسرے سیاحوں کو فروخت کر کے رقم واپس کردی۔

یہی نہیں، یہ بھی الزام لگایا گیا کہ جب ان کے شاگرد نے تصویر لینے کی کوشش کی تو موبائل فون چھین کر تصویر کو ڈیلیٹ کر دیا۔

تبصرہ کریں

Back to top button