ایک ملین سے زائد افغانی ایران فرار‘معیشت ٹھپ

نیویارک ٹائمس نے امدادی تحقیقی ادارہ کے تخمینے کے حوالہ سے یہ اطلاع دی ہے کہ تقریبا4تا 5ہزار لوگ ہر دن ایران میں داخل ہورہے ہیں۔

نئی دہلی: اکتوبر2011سے جنوری 2022 تک ایک ملین سے زائد (دس لاکھ)افغان شہری ایران کو فرار ہوگئے۔جبکہ معیشت جنگ زدہ ملک میں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔

نیویارک ٹائمس نے امدادی تحقیقی ادارہ کے تخمینے کے حوالہ سے یہ اطلاع دی ہے کہ تقریبا4تا 5ہزار لوگ ہر دن ایران میں داخل ہورہے ہیں۔

اگرچہ کہ کئی لوگ ملک چھوڑنا چاہتے ہیں کیونکہ فوری طورپر معاشی بحران ہے۔طویل مدتی طالبان حکمرانی کے امکانات بشمول خواتین پر تحدیدات کے خوف سے ایسا ہورہا ہے۔اس دوران افغانستان سے کئی لوگ روانہ ہورہے ہیں۔

یہ سفر ان کیلئے بڑا چیالنج سے بھرا ہواہے کیونکہ سرما کے مہینہ ہے۔یہ بات ڈیوٹ مینس فیلڈ تحقیقاتی افغان مائیگریشن نے اپنے تخمینہ میں بتایا ہے۔ چار گنا افغان شہری افغانستان چھوڑکر پاکستان جارہے ہیں۔

جنوری میں ہردن اسی تعداد میں گذشتہ سال کے تقابل پر پہنچے تھے۔اس سے خطہ یورپ میں خطرہ کی گھنٹی بچ گئی ہے جہاں سیاستدانوں کو یہ خطرہ ہے کہ 2015کا مائیگرینٹ بحران کا اعادہ ہوسکتاہے۔

جب ایک ملین سے زائد افراد جن میں بیشتر شام کے لوگ تھے جنہوں نے یورپ میں پناہ طلب کی تھی۔کئی لوگوں کو یہ ڈر ہے کہ اس موسم بَہارمیں درجہ حرارت میں اضافہ ہوسکتاہے اور برف سے ڈھکے ہوئے راستے سفر کرنے والوں کیلئے آسان ہوجائیں گے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button