ایک کمزور کانگریس بھی مفید ہے

ملک کے ایک انتہائی قابل احترام مورخ اور سیاسی مبصر رامچندرا گوہا نے حال ہی میں تجویز پیش کی کہ کانگریس اور جمہوریت کو بچانے کے لئے سونیاگاندھی‘ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو فوری سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہئے۔

ارون سنہا

ملک کے ایک انتہائی قابل احترام مورخ اور سیاسی مبصر رامچندرا گوہا نے حال ہی میں تجویز پیش کی کہ کانگریس اور جمہوریت کو بچانے کے لئے سونیاگاندھی‘ راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی کو فوری سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلینی چاہئے۔ اگرچہ دیگر کئی سیاسی مبصرین نے بھی تینوں گاندھیوں میں ووٹ بٹورنے کی صلاحیت پر سوال اٹھائے ہیں مگر گوہا نے آخری حد تک جاتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کرلیا کہ وہ اپنی اہلیت کامل طور پر کھودئیے ہیں اور کانگریس کی قیادت پر براجمان رہتے ہوئے صرف نریندر مودی اور بی جے پی کو مضبوط ہونے میں مدد کررہے ہیں۔ گوہا‘ گاندھی خاندان کو ایک رسولی سمجھتے ہیں اور اس رسولی کے جسم میں پھیل کر موت کا سبب بننے سے قبل کانگریس کا اس سے چھٹکارا پانا ضروری سمجھتے ہیں۔
گوہا تین بنیادوں پر اپنے اس نتیجہ پر پہنچے ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ بھارتی رائے دہندوں کے لئے اب خاندانی اجارہ داری قابل قبول نہیں رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دیگر پیشوں کی طرح سیاست میں بھی لوگ نریندر مودی جیسے اپنے بل بوتے پر اپنی قسمت بنانے والوں کے عروج کو دیکھ رہے ہیں۔ دوسری وجہ یہ کہ یکے بعد دیگر انتخابات میں بی جے پی کو شکست دینے اور کانگریس کو اقتدار واپس دلانے میں گاندھیز ناکام رہے ہیں۔ ووٹوں میں کانگریس کا تناسب گھٹتا ہی جارہا ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ راہول گاندھی میں رائے دہندوں کو راغب کرنے ‘ ایک مضبوط تنظیم کھڑی کرنے اور مودی کو کڑا چالینج دینے کی صلاحیت نہیں ہے ۔
کانگریس او رجمہوریت کو بچانے گوہا کے پیش کردہ تینوں دلائل کی درستگی کو پرکھنے کے لئے ہمیں ان کا یکے بعد دیگر جائزہ لینا ہوگا۔
کیا واقعی بھارتی رائے دہندوں کے لئے خاندانی اجارہ داری اب قابل قبول نہیں رہی ہے۔ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ 2014 ء میں 543 ارکان لوک سبھا میں زائد از 114 ارکان سیاسی گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے‘ ان کی تعداد 2019 ء میںبڑھ کر 162 ہوگئی۔ مہاراشٹرا‘ تامل ناڈو‘ آندھرا پردیش‘ اڈیشہ اور جھارکھنڈ کے وزرائے اعلیٰ کا تعلق سیاسی گھرانوں سے ہی ہے۔
صرف کانگریس پارٹی کی ہی قیادت سیاسی گھرانہ کے پاس نہیں ہے۔ کئی سیاسی پارٹیاں ہیں جن کی قیادت سیاسی گھرانے ہی کررہے ہیں‘ جیسے ڈی ایم کے‘ شیو سینا‘ وائی ایس آر کانگریس پارٹی‘ تلگو دیشم پارٹی‘ نیشلسٹ کانگریس پارٹی‘ شرومنی اکالی دل‘ بیجو جنتا دل‘ سماج وادی پارٹی‘ جھارکھنڈ مکتی مورچہ ‘ راشٹریہ جنتا دل‘ راشٹریہ لوک دل‘ انڈین نیشنل لوک دل جنّائیک جنتا پارٹی‘ نیشنل کانفرنس‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ لوک جن شکتی پارٹی‘ نشاد پارٹی‘ اپنا دل (کمیرا وادی)‘ اپنا دل (سون لال) ۔ وہ قابل لحاظ طور پر ووٹوں میں اپنا حصہ رکھتی ہیں۔ کس طرح گوہا یہ تصور کرسکتے ہیں کہ کانگریس اپنی خاندانی قیادت کے باعث خاتمہ کے دہانے پر کھڑی ہے جبکہ کئی پارٹیاں‘ خاندانی قیادت کے بل بوتے پر پنپ رہی ہیں۔
سیاسی خاندانوں کی زیر قیادت ان پارٹیوں کی یہ قوت اور طاقت ہے کہ خود پرداختہ سیاست داں نریندر مودی کی زیر قیادت پارٹی بھی ان سے اتحاد کے بغیر کچھ نہیں کرسکتی۔ مودی کی بی جے پی نے شرومنی اکالی دل‘ شیو سینا‘ تلگو دیشم پارٹی‘ لوک جن شکتی پارٹی‘ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی‘ نشاد پارٹی‘ اپنا دل (سون لان) اور جنّائیک جنتا پارٹی سے اتحاد کیا تھا۔ کئی مسائل پر اسے بیجو جنتادل اور وائی ایس آر کانگریس کی بھی پشت پناہی حاصل ہے۔
اس لئے گوہا نے جیسا کہا ہے کہ خاندانی اجارہ داری، بھارتی سیاست میںایک ڈائناسور ہے‘ نا درست ہے۔ یہ سیاسی خلاء میں ہنوز قابل لحاظ عمل داری رکھتی ہے اور ویسا نہیں لگتا جیسا گوہا سمجھ رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بھارت ایک معاشرہ کے طور پر تغیر کے دور سے گزر رہا ہے۔ ہم وفاقی دور سے باہر نکل رہے ہیں۔ ابھی ہم اس سے باہر نکل نہیں آئے ہیں۔ ہم وسط راہ میں ہیں۔ جہاں خاندانی قیادت کے خلاف جتنی ناگواری پائی جاتی ہے اتنی ہی دیوانگی بھی پائی جاتی ہے۔
تعجب نہیں کہ سیاس منظر ایک دوغلی تصویر پیش کرتا ہے: ہم دونوں ہی نوعیت کے خاندانی اور خود پرداختہ سیاست داں رکھتے ہیں۔ اور چونکہ معاشرہ تغیر کے مرحلہ میں ہے یہ درست نہیں ہے کہ سیاست‘ صنعت‘ تجارت اور پیشے بھی ایک دوغلی تصویر سے ہم آہنگ ہوں۔ گوہا نے بالی ووڈ کا ایک ایسے ہی میدان کے طور پر تذکرہ کیا ہے جہاں خود پرداختہ افراد حکمرانی کررہے ہیں تاہم بالی ووڈ میں بھی ایسا ہی امتزاج پایا جاتا ہے۔ اگر آپ رنویر سنگھس رکھتے ہیں تو رنبیر کپورس بھی رکھتے ہیں۔
گوہا کی دوسری بنیاد گاندھیوں خاص کر راہول گاندھی کی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے میں متواتر ناکامیاں ہیں۔ کیا ہم کسی کو اس کی متواتر ناکامیوں پر خارج کرسکتے ہیں؟ ایسے کروڑوں افراد کی مثالیں موجود ہے جو اپنے اپنے میدان کار میں ذلت آمیز شکستوں کے بعد کامیاب ہوئے ہیں۔ ایسے افراد ماضی بعید‘ قرون وسطیٰ اور دور جدید کی تواریخ میں اور ساری دنیا میں اور تمام شعبہ ہائے حیات جنگوں‘ سیاست‘ تجارت‘ سائنس‘ فنون لطیفہ‘ کھیل کود‘ کوہ پیمائی میں پائے جاتے ہیں۔
گوہا کی تیسری بنیاد یہ ہے کہ کانگریس کے احیاء اور بی جے پی کے ساتھ مقابلہ کی قیادت کرنے کی راہول گاندھی میں صلاحیت کا فقدان ہے۔ ایک بار پھر گوہا نے غلطی کی ہے۔ ہم کس طرح فراموش کرسکتے ہیں کہ 2014 ء میں جب انہوں نے بہ حیثیت صدر پارٹی پہلے لوک سبھا انتخابی مہم کی قیادت کی تھی کانگریس پارٹی نے 19.3 فیصد ووٹ حاصل کئے تھے؟ 2019 ء میںدوسرے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی 19.6 فیصد ووٹ حاصل کرپائی۔ اگرچہ یہ انتہائی معمولی اضافہ ہے مگر کوئی بھی اس حقیقت کو نظرانداز نہیں کرسکتا کہ پارٹی نے 2009 ء کے مقابل 2014 ء میں پارٹی کے ووٹوں کا تناسب 9 فیصد گھٹ گیا تھا مگر 2019 ء میں اس میں مزید گراوٹ نہیں آئی۔ تعداد کے اعتبار سے 2014 ء میں 10.69 کروڑ دہندوں اور 2019 ء میں 11.86 کروڑ رائے دہندوں نے کانگریس کے حق میں ووٹ دئیے تھے۔ ایک شخص جس کی قیادت میں پارٹی 11-12 کروڑ ووٹ حاصل کرسکتی ہے‘ اسے پانی کے بلبلے کی طرح پچھنا لگایا نہیں جاسکتا۔ انہیں فوری سبکدوش ہوجانے کے لئے کہنا مناسب نہیں ہے۔
یہ درست ہے کہ راہول گاندھی تنہا مودی کا مقابلہ نہیں کرسکتے لیکن ان کے بغیر علاقائی سیاسی پارٹیوں کا اتحاد بھی کچھ نہیں کرسکتا۔ وہ تقریباً 12 کروڑ ووٹس رکھتے ہیں۔ ان میں لاکھوں کمزوریاں ہوں گی لیکن ملک کی صورت حال ایسی ہے کہ بی جے پی کے پے در پے حملوں سے جمہوریت کو بچانے ایک پیہم، بڑی دیوار تعمیر کرنے اینٹوں کو جلانے اور خشک کرنے کے لئے ایک چھوٹی سی بھٹی چاہئے۔
بی جے پی قومیت کی تعریف نو کررہی ہے۔ یہ عوام کو یقین دلا رہی ہے کہ ہندواز ہی قومیت ہے اور قومیت ہی ہندوازم ہے۔ ملک بھر میں آزاد خیال اور بائیں بازو نظریات کے حامل لوگوں کا تعاقب کیا جارہا ہے۔ دوہری نوعیت کی قانون کی حکمرانی ہے جس کے مطابق مختلف مذاہب اور سیاسی افکار کے حامل لوگوں کے ساتھ ایک ہی نوعیت کے جرم کے لئے مختلف برتاؤ کیا جارہا ہے۔ ہر جگہ ہجوم کی دہشت گردی ہے۔ ذرائع ابلاغ کا ایک بڑا حصہ مودی حکومت کے نظریات کو فروغ دے رہا ہے۔ سیاسی گفتگو کا لب و لہجہ زہر آلود ہوگیا ہے۔ بھارتی مملکت اب مذہب کے لئے غیر جانبدار نہیں رہی ہے۔ وزیر اعظم کھلے طور پر ہندؤں کی عبادات کے مقامات کی تزئین نو کی تقاریب اور رسومات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل کبھی بھی بر اقتدار پارٹی نے اپوزیشن پارٹیوں کو کمزور کرنے مرکزی تفتیشی ایجنسیوں کا بے تکان استعمال نہیں کیا ہے۔ اس سے قبل کبھی بھی ایک برسر اقتدار پارٹی نے ریاستوں میں اقتدار حاصل کرنے ارکان اسمبلی کا بے رحمی سے شکار نہیں کیا ہے
ایسی غیر معمولی صورت حال میں ایک غیر کرشماتی راہول گاندھی اور ایک کمزور کانگریس ہی کو اجتماعی مزاحمت کا حصہ ہونا چاہئے۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button