باقی سب خیریت ہے

محمد اسد اللہ

کیا زمانہ تھا ، لوگ سفر پرجاتے،بر سوں مفقود الخبر رہتے ،کو ئی پر سانِ حال نہ تھا۔اب ٹرین میں چڑھتے ہی سامان ٹھکانے لگے نہ لگے، گھر والوں کو یہ بتاناضروری ہے کہ آ پ اپنے ٹھکانے پہنچ گئے ہیں، یہ ایسا ہی ہے جیسے ماہِ رمضان میں مسجد سے اعلان ہوجا نے کے بعد فوراً افطاری کرنا۔ان دنوں ہر ایک کے منہ میں زبان اور جیب میں موبائیل ہے ۔ اس لیے بات کرنا لازمی ہے۔بات کر نے جیسی کوئی بات تو ہو ۔ بیمار پرسی کے لیے کم از کم ایک عدد مریض در کار ہے ۔ خیریت دریافت کر نے کے لیے ناسازگارحالات کا وجود بھی ضروری ہے ۔
ذرا سوچئے دنیا کے حالات اگر واقعی ساز گار ہوتے تو کس قدر مشکل پیش آ تی کہ آ خرکس کی خیریت دریافت کریں اور کیوں؟ (یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے کہ آ پ کیسے ہیں ،بخیر تو ہیں؟ ) ، کوئی موضوع ہی نہیں، کیا بات کریں ؟ اسی لیے اب ملک کے حالات مفادِ عامہ کی خاطر ، عمداً بگاڑ دیے گئے ہیں تاکہ لو گ ایک دوسرے کی خیریت پوچھتے رہیں، کیوں کہ یہ’ شے لطیف‘ ان دنوں پل پل دگر گوں ہوتی رہتی ہے ۔
اس دن اپنی منزلِ مقصود پر پہنچ کر میںنے خدا کا شکر ادا کیا ۔ ا لہٰ دین کی طرح جیب سے اپنا چراغ یعنی اسمارٹ فون نکالا۔جدید چراغ رگڑ نے کا متحمل نہیں ہو سکتا اس لیے اسے انگلی سے دھیرے دھیرے سہلانا شروع کیا ۔اسکرین پر جناتی روشنی کے نمودار ہوتے ہی ، حکم دیا کہ ہزار کوس پر بیٹھی ہماری بیگم سے ،جسے شب و روز ہماری خیریت نیک مطلوب ہے ، رابطہ قائم کیا جائے، تاکہ اسے ہمارے دہلی بعافیت پہنچے کی اطلاع دی جا سکے ۔اس جناتی آ لے نے ٹکا سا جواب دیا : ’آ پ نیٹ ورک کی خرابی کے سبب بات نہیں کرسکتے البتہ کوئی میسیج بھیجا جا سکتا ہے ۔‘
تب اس موبائیل فون کو دیکھ کر دلی ہی کے ایک شاعر کا مصرع زبان پر آ گیا ۔’بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی‘ ۔
مجھے بے اختیار مہا بھارت اور جنگِ عظیم( اول و دوم )سے لے کر آ زادی کی لڑائی میں شریک ہونے وا لے وہ تما م بد نصیب سپاہی یاد آ ئے جو بے وقت یعنی انٹر نیٹ اور موبائیل کے فقدان کے زمانے میں، اپنے وطنِ عزیز پر نچھاور ہوئے ۔وہ اپنی پل پل کی خبر گھر والوں کو کیا دیتے ،ان میں سے بیشتر کی سر فروشی کی اطلاع بھی وقت پر ان کے پیاروں تک نہ پہنچ پائی ۔بے چارے اپنے جنگی کارناموں کی تصاویر بھی سوشل میڈیا پرپیش کر نے سے قاصر رہے ۔ آج ترسیل و ابلاغ کے اس سنہرے دور میں عام آ دمی کا حال یہ ہے کہ وہ دن بھر گھر میں بیٹھا، مکھیاں مارنے کی اپنی کار گزاری بھی، سیلفی لے کر، واٹس ایپ پر پہلی فرصت میں وائرل کر تا ہے ۔بہر حال میںنے بیگم کے نام میسیج لکھا :’ خدا کا شکر ہے ،پہنچ گیا ہوں ،اب دلّی دور نہیں ۔یہاں نیٹ ورک ٹھیک نہیں، باقی سب خیرت ہے ۔‘
’یہاں نیٹ ورک ٹھیک نہیں ،باقی سب خیرت ہے ۔‘۔۔۔۔،ٹیلی ویژن اشتہار کے کسی سلوگن کی طرح یہ جملہ ذہن کے اسکرین پرابھر ابھر کرٹھمکنے لگا۔خیال آ یا کہ اس نئے شہر کا کیا ذکر،پورے ملک کا یہی حال ہے ۔حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالی تو ہر شخص کو چست اورہر چیز کو درست پایا ۔ہرطرف اس بیان کی تصدیق کرنے والے مناظر موجود تھے ۔کیا دیکھتا ہوں !
ملک میں دولت کی فراوانی ہے ، ہر طرف علم کا دور دور ہ ہے ۔خوشحالی پھوٹی پڑ رہی ہے۔ صاحبِ اقتدار ، ملازمین ، تاجرپیشہ ،کسان مزدور ،شاداں و فرحاں ترقی کی شاہراہ پر کشاں کشاں آگے بڑھتے چلے جا رہے ہیں ۔امن و امان کا یہ عالم ہے، ایک خاتون ، حسین ،ماہ جبین، حسبِ منشا، بس ،ٹرین ،جہاز میںسوار ہو کر کنیا کماری سے سری نگر تک چلی جائے ،کوئی آ نکھ اٹھا کر دیکھنے والا نہیں ( سب اپنے اپنے موبائیل کے اسکرین پر آ نکھیں گڑائے بیٹھے ہیں ) ۔ اخبار، ریڈیو اورٹی وی کے رپورٹر بے چارے رات دن ،ٹامک ٹوئیاں مارتے ہیں ، سیاسی ،سماجی،معاشی ہر قسم کی خبریں ندارد۔ آ ہِ سحر گاہی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آ تا۔تنگ آ کر بابری مسجد ،تین طلاق ،دیش بھکتی اذان کا مسئلہ اور آتنک واد جیسے خالص تہذیبی موضوعات پر علمی مباحثے منعقد کرواکر اپنا کام چلاتے ہیں ۔جاندار تو جاندار ہمارے ملک میں بے جان چیزیں بھی زبردست آ سودگی کا شکار ہیں۔جہاز ہوا میں اونچے اونچے اڑتے ہیں ۔راستوں پر بسیں کاریں اور لاریاں خرگوشوں کی طرح پھدکتی ہوئی چلتی ہیں ۔( بعض بد خواہ، اس کا سبب راستوں کا اوبڑ کھابر ہونا بتاتے ہیںجو سراسرغلط ہے ۔آ خر سواریوں کی اپنی ترنگ بھی کوئی چیز ہے ) ریلیں پٹریوں پر چلتے چلتے مارے خوشی کے تھرکنے لگتی ہیں اور عالمِ بے خودی میں کبھی پٹری سے نیچے بھی اتر آ تی ہیں ۔اس اظہار ِ سر خوشی میں درجن دو درجن مسافر بلا ٹکٹ، راہیِ ملک عدم ہو جائیں تو کیا حرج ہے ۔دیکھا ہے جو ہم نے وہ اوروں کو نظر نہ آ ئے ،تو ان کی نظروں کا قصور ہے ۔اگر وہ اپنی خیریت چا ہتے ہیں تو ایسی نظر پیدا کریں جو انھیں ہرطرف ہرے بھرے مناظردکھائے ،اسی کا نام فیل گڈ ہے۔جمہوری ممالک میںاقلیتوں کو جینے کا حق سہی، رائے اکثریت ہی کی بر حق سمجھی جاتی ہے۔ جب سب کو ہرطرف سہانے مناظر دکھائی دینے لگیں تو آ پ سے ،کس نمی پرسد کہ بھیا کون ہو؟
اقبال ہمارا پسندیدہ شاعر ہے۔ اس کے کم از کم ایک مصرعے کو سبھی نے اپنی گرہ میں باندھ رکھا ہے ۔(تاحال یہ گرہ ڈھیلی نہیں ہوئی ہے)۔ مصرع کیا ہے ایک آفاقی سچائی ہے ،’سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘۔اس کی صداقت کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہوگا کہ کسی ملک نے آج تک اس پر اپنا اعتراض یا احتجاج درج نہیں کروایا۔آ پ یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ اردو ہے جس کا نام ہمی جانتے ہیں ،دیگر ممالک کو کیا پتہ اقبال کیا کہہ گئے !آج ساری دنیا میں اردو مشاعروں کی دھوم ہے۔اقبال کے شعر نے ہمارے اس یقین کوپختہ کر دیا کہ بھارت مہان ہے ۔ اس کے باوجود اگر کوئی ہمارے چاند جیسے ملک میں داغ دکھانے کی کو شش کرے تو ہمیں اپنی صفائی پیش کرنی چاہیے ۔ہمارے ہاں صفائی کی کوئی کمی نہیں، پورے ملک میں مہم جاری ہے ۔خود ہمیں بھی مثبت نکتہ نظر سے کا م لینا چاہیے ۔
ہمارے ملک کی نام نہاد خرابیاں بڑھا چڑھا کر بیان کرنے والوں کی خدمت میں عرض ہے،یہاں نیٹ ورک ٹھیک نہیں باقی سب خیریت ہے ۔جو لوگ غربت کو ہماراسب سے بڑا عیب بتاتے ہیں انھیں جان لینا چاہیے کہ یہ کوئی معیوب چیز نہیں ۔ کسی اسکول کے استاد نے اقبال کے مشہور شعر۔
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی، د ل ہو جہاں ہمارا
کی تشریح کر تے ہوئے یہی فرمایا تھا کہ اگر ہم غربت زدہ ہوں تو ہمارا دل اپنے وطن میں لگارہتا ہے ۔ضرورت سے زیادہ دولت پاس ہو،یا دولت کمانے کی ہوس آ دمی کو جکڑ لے ،تو آ دمی بیرونی ممالک کا رخ کر تا ہے،بلکہ ملک کے اندر رہ کر ضرورت سے زیادہ مال کمالے تو اس ہمالیائی کمائی پرقانون کی گرفت سے بچنے کے لیے وہ ملک سے راہِ فرار اختیار کرتا ہے ۔دوم یہ کہ اقبال ہی نے کہا تھا ’خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر‘ ، بچے ہمارے ملک میں سہل الحصول سہی، مگر دیدہ ور کی طرح نام بھی بڑی مشکل سے پیدا ہوتا ہے ۔اہلِ وطن برسوں سے غریبی میں نام پیدا کر نے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ آزادی کے بعد ملک میں گاہے بگاہے ہونے والے فسادات ساری دنیا میں ہماری سبکی کرواتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان ہی کے سہارے ملک کی سیاست زندہ ہے اور بغیر سیاست کے بھلا ملک کہیں چلتا ہے ۔ فرقہ وارانہ فسادات سر زمینِ وطن کو لالہ زار بنانے کی سوچی سمجھی کوشش نہیں بلکہ لہو گرم رکھنے کا ایک بہانا ہے۔ اسی لیے لہو کابہتے رہنا ،مختلف فرقوں اور ذاتو ں کے آ پسی اتحاد کے لیے از حد ضروری ہے ۔
اسی چارج شیٹ میں ایک الزام یہ بھی ہے بھارت میں جہالت زیادہ ہے ۔تہذیب کے اس مرکز میں جسے کبھی ایران و مصر و روما کے مٹ جانے کے باوجود اپنی بقا پر ناز تھا، آ ج یہاں جہالت و بد تہذیبی کی کمی نہیں ۔لوگوںمیں جینے کا ڈھنگ نہیں، پان کھا کھاکر زمینِ وطن کو لالہ زار بنا دیتے ہیں ،جو صاحبان پان نہیں کھاتے سرِ راہ تھوک کر یہ شوق پورا کر لیتے ہیں۔ اس موقع پرمعترضین یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ’ تھوکنا برائے تھوکنا ‘نہیں ، ’تھوکنا برائے اظہارِ خیال ‘ہے ۔ یہ تمام لوگ، دراصل اس نظام پر تھوکتے ہیں جس کی کوئی کل سیدھی نہیں ،وہ اس نظام ِ تعلیم پرتھوکتے ہیں جو تعلیم یافتہ بے روز گار پیدا کرتا ہے ۔وہ اس سیاست پر تھوکتے ہیں جس میںبد عنوانیاں ،گھوٹالے،لوٹ کھسوٹ ،منافع خوری ، مکر و فریب وغیرہ وغیرہ پنپ©تے ہیں ۔یہ ہمارے عوام کی خیر پسندی اور برائیوں سے نفرت کا اظہار ہے اور اس حقیقت کا بھی مظہر ہے کہ ہمارے ملک میں اظہارکی کی مکمل آ زادی ہے۔برائیاں دنیا میں کہاں نہیں ہیں ،دوسرے ممالک میں چلے جائیے ۔ وہاں کے سماج نے ان خرابیوں کو دل سے تسلیم کر لیا ہے ، کوئی ان پر تھوکتا تک نہیں ۔
اکثر لوگ یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ بھارت میں رشوت ستانی کا دور دورہ ہے ۔ لینے والے کے لیے منفعت بخش اور دینے والے کے لیے کار گر،راحت بخش اور ذود اثر رشوت خوری کا یہ عمل نہ صرف ایک عام رسم ہے بلکہ دفاتر کا دستور بھی ہے جس کے لین دین کا ہر جگہ موقع نکل آ تا ہے ۔ رشوت ستانی کی اس رسم کو آ پ انصاف کی نظرسے دیکھیں تو اس کے اجرا کرنے والے کی شان میں آ پ کے منہ سے بے اختیا ر چند کلمات نکل آ ئیں گے۔ جہاں قانون جگہ جگہ اپنی ٹانگ اڑاتا ہے اور جس جگہ اس کی ٹانگ پہنچ نہیں پاتی وہاں معمولی معمولی کاموں کے لئے سرکاری کارندے، لوگوں کو ستانے کے نئے نئے بہانے ڈھونڈتے ہیں اور آ پ کو ایسی بے بسی کی کیفیت میں مبتلا کر دیتے ہیں جہاں کو ئی یار و مدد گار نہ ہوتو وہاں رشوت ہی سے کام نکلتاہے ،بلکہ رشوت لیتے ہوئے پکڑے گئے تب بھی چھوٹنے کے لیے رشوت ہی دینی پڑتی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ اس ملک میں رشوت ایک نعمت سے کم نہیں ۔
ہمارے زمانے میں رشوت وہ پاس ورڈ ہے جو کھل جا سم سم کی طرح ہر دروازے پر کارگر ثابت ہوتا ہے۔یہ پاس ورڈ ، ڈاکوﺅں کے سردار یعنی ’ ڈاکوﺅں کے بابائے قوم ‘نے دیا تھا ،آ خر کام تو علی بابا ہی کے آ یا۔علی بابا یعنی عوام ۔آ ج عوام رشوت نامی پاس ورڈ کو اس فراوانی سے استعما ل کر رہے ہیں جس آسانی سے وہ اپنے ای میل اکاﺅنٹ کا پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں۔کبھی کبھی علی بابا کے بھائی بند، قاسم کی طرح پکڑے بھی جاتے ہیں اور ان کے سر قلم بھی ہوتے ہیں مگر ڈاکوﺅں کے سردار اور ان کی ٹولی آ ج بھی محفوظ ہے ۔
ہمارے تعلیمی ادارے تنقید کے نشانے پر ہیں کہ ان میں دولت کی ریل پیل ہے۔ ایک مشہور مقولہ ہے : علم بڑی دولت ہے ۔ یہ بات اب تک محض خیالی پلاﺅ تھی ۔مدرسہ، مکتب اور دانش گاہوں میں اب تک دولت کے نام پر کچھ نہیں تھا۔(فی زمانہ علم کے نام پربھی کچھ نہیں ہے)ہمارے زمانے نے دولت نامی ’خیالی پلاﺅ ‘کو صحیح معنوں میں ’حقیقی بریانی‘ میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔اب وہاں علم بھلے ہی نظر نہ آ ئے ،آ پ تعلیمی اداروں میں دولت کو پانی کی طرح بہتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں ۔یہ وہی حقیقی بریانی ہے جس میں جاندار علم کی بوٹیاں ہیں ، تعلیمی قدروں کے مسالحے جاتے پڑے ہیں ، عقل کا دہی شامل ہے ، اس میں تہذیب کے چاولوں کو ابال کر دم دیا گیا ہے ۔
یہاں یہ سوال آ پ کے ذہن ِ رسا میں آ سکتا ہے کہ اگر تعلیم گاہوں میں صرف دولت ہے تو علم کہاں گیا ؟جواب یہ ہے کہ ہمارا ملک اب بھی علم کا گہوارہ ہے ۔علم کی ساری ریل پیل اب ہماری ٹیوشن کلاسیس میں منتقل ہو گئی ہے۔ جدید ’دروناچاریہ ‘ اپنے شاگرد ِ رشید،’ماڈرن ایک لویہ‘ سے ٹیوشن فیس وصول کرتا ہے، تب اسے علم سے آراستہ کرتاہے۔ سچ ہی تو ہے۔ ’درونا چاریہ ‘نے ’ایک لویہ ‘سے گرو دکشنا کے طور پر انگوٹھا مانگا تھا ۔ انگوٹھا جہالت کی علامت ہے ،گویا استاد شاگرد سے اس کی جہالت لے کر اسے علم دیتا ہے۔چنانچہ علم اب ٹیوشن کلاس میں بکتا ہے ، اکثرتعلیمی اداروں میں تو فقط جوتیوں میں دال بٹتی ہے۔
ان دنوںکسانوں کے بارے میں افواہیں گرم ہیں کہ ان میں خود کشی کا رجحان بڑھتا جارہاہے ۔ گاہے بگاہے خبریں آ تی رہتی ہیں ۔حکومت نے انھیں ہر قسم کی سہولتیں دے رکھی ہیں۔ان کے کھیتو ں میں ہر طرف ہر یالی ہے ۔ہر قسم کا عیش و آ رام موجود ہے ۔ کسانوں نے پورے ملک کو اناج اور ہر قسم کے پھل کھلا کر ثوابِ دارین حاصل کر رکھا ہے ۔جے جوان جے کسان کا نعرہ سن کر اپنا دل شاد کر چکے۔ اب کون سا سکھ حاصل کرنا باقی رہ گیا یہ سوچ کر اگر چند کسان اس دنیا کو تیا گ کر چل دیے تو اسے بجائے خود کشی کے شادیِ مرگ کہنا چاہیے ۔
ابھی ابھی تک ہمارے ملک میں خواتین کی پسماندگی کی شکایت عام تھی ۔موجودہ زمانے میں نہ صرف شرح پیدائش بلکہ تعلیم کے معاملے میں بھی خواتین نے مردوں کو اس قدر پیچھے چھوڑ دیا ہے کہ اب ’ تحریک ِ مرداں ‘چلانے کی ضرورت ہے ۔ لیڈیز فرسٹ کا نعرہ اب لیڈیز فاسٹ کے نعرے میں تبدیل ہوچکا ہے ۔اس کے باوجود بعض لوگ ہمارے ملک کو بد نام کرنے کی خاطر یہ شور مچاتے ہیں کہ یہاں خواتین محفوظ نہیں ۔
ہر سال ہزاروں دلہنیں جہیز کی لعنت کے سبب جلا کر مارڈالی جاتی ہیں ۔معاملے کی سنگینی سے قطع نظر کبھی آ پ نے غور کیا کہ یہ رسمِ ستی کا احیا ہے۔ وہی رسم ِ ستی جو بعض سماج سدھارکوں اور انگریزوں کی کو شش سے ختم کر دی گئی تھی اور جس کے بارے میں ہندی شاعر پر دیپ نے کہاتھا۔
ا س مٹی سے تلک کرو یہ دھرتی ہے بلیدان کی
یہ ہے اپنا راجپوتا نہ ناز اسے تلواروں پہ
کود پڑی تھیں یہاں ہزاروں پدمنیاں انگاروں پہ
قدیم زمانے میں اس ملک کی خواتین اپنے شوہر اورسسرال کی عزت و ناموس پر ستی ہوجایا کرتی تھیں موجودہ زمانے میں اپنے والدین اور مائیکے کی غربت پر اپنی ساسوں کے ہاتھوں نچھاور ہو جاتی ہیں ۔خواتین کا ایسا زبردست کرداردنیا میں اور کہاں ؟
شیکسپیئر نے کہا تھا: ’عاشق کا المیہ یہ ہے کہ اسے محبوبہ کے رخسار کے خوبصورت تل کے لیے محبوبہ کے پورے وجود کو برداشت کر نا پڑتا ہے ۔‘
اگر باالفرض ِ محال ہمارے ملک میں چند خرابیاں ہیں بھی تو ان کی حیثیت بہر حال ایک تل جیسی ہیں ۔کیا ہم اپنے محبوب وطن کے لیے اس تل کو برداشت نہیں کر سکتے ( تل کا تاڑ بنانا کیا ضروری ہے ) ۔ بس ایک تِل ہی تو ہے ،باقی تو سب خیریت ہے !

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button