برہمنیت کی تاریخ- ادوار وخصوصیات

 احمد نور عینی

استاذ :المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد

 ہمارا یہ دیش فکری جنگ سے دو چار ہے، یہ جنگ برہمنواد نے اپنے نظام حیات کے لیے چھیڑ رکھی ہے، یہ دیش برطانوی غلامی سے تو آزاد ہو گیا مگر برہمنوادی غلامی سے اب تک آزاد نہ ہو سکا، یہ غلامی ہزاروں سال سے جاری ہے، برہمنواد نے اپنا ورچسو (تسلط) باقی رکھنے کے لیے مختلف ادوار میں مختلف حکمت عملیاں اپنائی ہیں، ہر دور میں اس کا مقصد ایک ہی رہا ،البتہ حکمت عملیاں بدلتی رہیں، گوتم بدھ کے انقلاب سے پہلے اس کی جو حکمت عملی تھی رد انقلاب اور اس کے بعد کے دور میں اس نے اپنی اس حکمت عملی میں تبدیلی لائی، صوفی تحریک کے دور میں بھی اس نے اپنی حکمت عملی تبدیل کی، مسلم دور حکومت میں اس کی حکمت عملی کچھ اور رہی اور انگریزوں کے آنے کے بعد کچھ اور ، استعماری دور میں کچھ رہی اور جمہوری دور میں کچھ اور (تفصیل کے لیے دیکھیے: سوامی دھرم تیرتھ کی کتاب The Menace of Hindu Imperialism )۔

برہمنیت کی تاریخ کا تجزیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ موجودہ جمہوری دورمیں برہمنواد کا تسلط در اصل غلامی کا تیسرا دور ہے۔ پہلا دور ودیشی یوریشیائی حملہ آور قوم کے بھارت پر غلبہ کے بعد شروع ہوتا ہے، عدم مساوات پر مبنی طبقاتی نظام، برہمن طبقہ کی سریشٹا (افضلیت)، مولنواسی قوموں کی بنیادی حقوق اور عزت واحترام سے محرومی، یگیہ کے نام پر بے تحاشا جانوروں کی اور خاص کر گائے کی قربانی اور تشدد (ہنسا) پہلے دور کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ یہ دور گوتم بدھ کے انقلاب تک چلتا ہے، گوتم بدھ کے انقلاب کی بنیادوں میں مساوات کا پیغام، اہنسا (عدم تشدد) کا درس، جنم کے بجائے کرم (عمل)کے معیار فضلیت ہونے کا تصور، یگیہ کی ممانعت اور پالی زبان کا استعمال قابل ذکر ہیں۔

 گوتم بدھ کے پیروکاروں کی’’ سنگھ‘‘ نامی جماعت نے بدھ کے پیغام کی تبلیغ واشاعت کا کام کیا اور اشوک کے بدھ مت قبول کرنے کے بعد اس تحریک کو حکومتی سرپرستی میں پھلنے پھولنے کا کافی موقع ملا۔ برہمنواد نے تحریک کو دبانے کے لیے مختلف حربے اپنائے اور رد انقلاب شروع کیا،برہمن طبقہ کے باشعور لوگوں نے سنگھ میں داخل ہوکر سنگھ کی قیادت اپنے ہاتھ میں لے لی،بدھ مت کی تعلیم گاہوں میں بھی برہمن بدھسٹ اونچے مناصب پر فائز ہوئے یہاں تک کہ ناگرجنا نامی برہمن بدھسٹ نالندہ یونیورسٹی کے کلیدی عہدے پر فائز ہوا، یوں بدھ مت کے خانقاہی اور تعلیمی نظام کی قیادت برہمن طبقہ کے ہاتھ آئی اور بدھ مت کے پردے میں برہمنی مت مضبوط ہوا، رد انقلاب کے اس دور میں گوتم بدھ کی تعلیمات کچھ کی کچھ ہوگئیں، انھیں اوتار مان لیا گیا، ان کی تحریک کی انقلابیت کو ختم کردیا گیا،بدھ مت مہایان ہنایان دو بڑے حصوں میں تقسیم ہوگیا، سنسکرت کو دوبارہ زندہ کیا گیا، برہمنی مت کے باز استحکام کے لیے لٹریچر کا بڑا ذخیرہ تیار کیا گیا۔

برہمن طبقہ بدھسٹ خانقاہوں اور تعلیم گاہوں میں تو داخل ہوا ہی، بدھسٹ حکومت یعنی موریہ حکومت کے اندر بھی داخل ہوا، چنانچہ پشیہ مترسونگ نامی برہمن فوج میں سپہ سالارکے عہدے تک پہنچا اور آخری موریہ راجہ برہدتیہ موریہ کا قتل کرکے حکومت پر قابض ہوگیا، آخری موریہ راجہ کےقتل کے بعد برہمنواد کو حکومتی قوت حاصل ہوگئی، بدھ مت کے پیروکاروں کی لنچنگ کی گئی، ان کا قتل عام کیا گیا، بدھ عبادت گاہوں اور خانقاہوں کو یا تو مسمار کیا گیا یا مندر میں بدل کردیا گیا۔ اس رد انقلاب کے ذریعہ غلامی کے دوسرے دور کا آغاز ہوتا ہے۔

اس دور غلامی میں پہلے دور غلامی کی خصوصیات تو ہیں ہی، ان کے علاوہ ذات پات کا استحکام ، ذاتوں کی بنیاد پر مولنواسی قوموں یعنی شودر اتی شودر (موجودہ:ایس سی، ایس ٹی او بی سی) کی ہزاروں ٹکڑیوں میں تقسیم، بین ذاتی کھان پان اوربین ذاتی شادی بیاہ پر پابندی، ہر ذات کے ساتھ مخصوص پیشہ کا لزوم، پیشہ بدلنے کی ممانعت، ذات کے قوانین کا نفاذ، ان قوانین کی خلاف ورزی پر ذات سے باہر کردینے کی سزا، چھوت چھات کارواج، گائے کا تقدس،برہمن کو دیوتا ماننے کا عقیدہ، دیوتا طبقہ کی طرف سے بے حیائی کو مقدس ماننے کی ذہنیت، گائے کھانے کی وجہ سے اچھوت پن کا نفاذ، شاستروں کے ذریعہ ذات پات کے نظام کو قانونی ومذہبی حیثیت کا حصول، مندر کلچر کا فروغ، بدھ عبادت گاہوں اور خانقاہوں کی مندر میں تبدیلی، گوتم بدھ کو اوتار ماننے کا عقیدہ، گوتم بدھ کی مورتیوں کا مختلف دیوی دیوتاؤں کے روپ میں استعمال اس دوسرے دور غلامی کی قابل ذکر خصوصیات ہیں۔

اسی دوسرے دور غلامی میں تاجرین، مبلغین اور فاتحین کے ذریعہ اسلام کی بھارت میں آمد ہوئی، ان تینوں میں مبلغین یعنی صوفیاء کا کردار بہت اہم ہے، اسلام کی انسانیت اور مساوات پر مبنی تعلیمات نے یہاں کے لوگوں کا دامن دل کھینچا اور لوگ اسلام میں داخل ہونے لگے، اسلام میں داخل ہونے کا یہ عمل صوفی تحریک کے آغاز میں ایک تحریک بن گیا، اور بڑے پیمانے پرلوگ اسلام قبول کرنے لگے، بلا امتیاز ذات پات صوفیا کا عوام سے ربط، لنگر کا نظام، انسانی بنیادوں پر خانقاہوں میں سب کا استقبال اور سب سے بڑھ کر اسلام کی اپنی کشش ان سب باتوں کی وجہ سےقبول اسلام کے عمل نے ایک انقلابی شکل اختیار کرلی۔

اس دور کے ڈانڈے بھارت میں مسلم سلطنت کے قیام کے دور سے مل جاتے ہیں، صوفی تحریک کا غلام قوموں یعنی شودر واتی شودر ذاتوں پر اتنا اثر پڑا کہ ان پست وپسماندہ ذاتوں میں برہمنیت کی مخالف اور مساوات کی داعی تحریک کھڑی ہوئی جس کو بھگتی تحریک کانام دیا گیا، کبیرداس، رودی داس، گرونانک اور بسویشور اس تحریک کے نمایاں نام ہیں۔ برہمنواد کے لیے اس انقلاب کو روکنا اور اپنا تسلط سماج پر باقی رکھنا ایک چیلنج بن گیا، البتہ خانقاہوں کے انقلابی کردار کا مقابلہ کرنے کے لیے اس نے آشرم اور مٹھ کے نظام کا سہارا لیا، جس میں غیر برہمنوں کے لیے بھی پروہتائی رو ا رکھی ، بھگتی تحریک میں گھس کر اس کا رخ بھی موڑ دیا اور آگے چل کر خانقاہی نظام کی انقلابیت بھی باقی نہ رہی۔

اسی طرح برہمنواد غیر مسلم سماج پر تسلط برقرار رکھنے میں کامیاب رہا،اس کامیابی کے کئی اسباب ہیں، جن میں مسلم بادشاہوں کا شاہانہ مزاج، بھارتی سماج کا تنوع اور اس کی پیچیدگی، محکوم طبقات کی زبان سے حاکم طبقے کی ناواقفیت، برہمنوں کی تعلیمی وفکری قابلیت اور شودر واتی شودر کی تعلیمی وفکری محرومی، مذہبی رواداری اور مذہب پر عمل کی آزادی وہ نمایاں اسباب ہیں جن کی بنیاد پر مسلم حکمرانوں کی طرف سے برہمن طبقہ کو سماج پر تسلط برقرار رکھنے آزادی مل گئی، محمد تغلق اور ٹیپو سلطان کے استثنا کے ساتھ مسلم عہد سلطنت کی عمومی صورت حال یہی رہی۔برہمنواد کی طرف سے خانقاہوں کی انقلابیت ختم کرنےاور غیر مسلم سماج پر اس کا تسلط قائم ہونے کے بعد اسلام کی اشاعت وحفاظت رک سی گئی۔

البتہ گوتم بدھ کے انقلاب کو پلٹنے کے لیے برہمنواد نے جو رد انقلاب برپا کیا تھا اس میں وہ بدھسٹ اور غیر بدھسٹ دونوں کو یعنی پورے سماج کو دوبارہ غلامی میں جکڑنے میں کامیاب ہوگیا ؛ مگر قبول اسلام کا جو انقلاب آیا اس میں وہ غلامی سے آزاد ہونے والوں کو یعنی مسلمانوں کو دوبارہ غلام نہیں بنا سکااور نہ اسلام میں ایک حرف کی بھی تحریف کرسکا، یہی وہ بات ہے جس نے جمہوری دور میں برہمنواد کی مستقل نیند اڑا رکھی ہے۔ مسلم عہد سلطنت کے قیام سے برہمنوں کو یہ فائدہ ہوا کہ غیر مسلم سماج پر برہمنوں کے تسلط کو مذہبی رواداری اور مذہب پر عمل کی آزادی کے نام پر سرکاری سرپرستی حاصل ہوگئی۔

وہیں مسلم سماج کا یہ فائدہ ہوا کہ علما نے اس سماج کی مذہبی ودینی تربیت پر یکسوئی کے ساتھ توجہ دی، جس کی وجہ سے آج اسلام بھی اپنی واضح شکل میں موجود ہے اور مسلمان بھی اپنے نمایاں تشخص کے ساتھ موجود ہیں، جب کہ برہمنواد نے نہ بدھ مت کو اس شکل پر باقی رکھا اور نہ بدھ قوم کا کوئی مستقل تشخص قائم رکھا؛مسلم عہد سلطنت سے مسلم سماج کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ صوفی تحریک کو ختم کرنے کے لیے برہمنواد تلوار کا استعمال نہ کرسکا، مسلم عہد سلطنت میں برہمن سماج اور مسلم سماج دونوں کا فائدہ ہوا؛ مگر پست وپسماندہ سماج کا دوہرا نقصان ہوا، مسلم سماج کے اعتزال کی وجہ سے یہ لوگ برہمنواد سے آزاد نہ ہوسکے اور برہمن سماج کو سرکاری سرپرستی ملنے کی وجہ سے ان کی غلامی کی زنجیریں پہلے سے زیادہ سخت ہوگئیں۔

البتہ چوں کہ مسلم عہد سلطنت میں بننے والے قوانین کی بنیاد منوسمرتی نہیں تھی اس لیے جہاں کہیں غیر مسلم سماج پر برہمن کی گرفت ڈھیلی پڑی پست وپسماندہ ذاتوں کو انسانی حقوق سے کسی حد تک استفادہ کا موقع ملا، اگر ایسا نہ ہوتا تو بھگتی تحریک کو پست وپسماندہ ذاتوں سے تعلق رکھنے والے وہ باشعور مہا پرش نہ ملتے جنھوں نے برہمنواد، ذات پات اور اونچ نیچ کے خلاف مساوات کی بنیاد پر محاذ آرائی کی، بھگتی تحریک کی انقلابیت بھی آہستہ آہستہ ختم ہوگئی جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ غیر مسلم سماج پر برہمنواد کا تسلط آہستہ آہستہ مضبوط ہوتا گیا۔ اسلام آنے کے بعد اور مسلم سلطنت کے قیام کے بعد ہونے والی اس تبدیلی کو ہم غلامی کا تیسرا دور تو نہیں کہہ سکتے ؛ البتہ اسے غلامی کے دوسرے دور کا ایک اہم مرحلہ کہہ سکتے ہیں۔

ایک ایسا مرحلہ جس کی خصوصیات میں شودر واتی شودر کہے جانے والے موالنواسیوں کا بڑی تعداد میں برہمنوادی غلامی سے آزاد ہوکر اسلام قبول کرنا، قبول اسلام کی تحریک کو دبانے کے کے لیےبرہمنواد کی طرف سے آشرم اور مٹھ کے نظام کا سہارا لینا، پست وپسماندہ طبقات میں چلنے والی بیداری کی تحریک کا رخ موڑنا، مذہبی رواداری اور مذہب پر عمل کی آزادی کے نام پر برہمنواد کا سرکاری سرپرستی میں غیر مسلم سماج پر ورچسو اور تسلط حاصل کرنا قابل ذکر ہیں۔ یہ مرحلہ انگریزی تسلط تک چلتا ہے، انگریزوں کے تسلط کے بعد سے بھارت کے عوامی جمہوریہ ہونے تک کا مرحلہ غلامی کے دوسرے دور کا آخری مرحلہ ہے، اس آخری مرحلہ میں بھارت کے عہد جدید کی برہمنیت مخالف تحریک کا آغاز ہوتا ہے۔

یہ تحریک شودر (موجودہ: او بی سی) طبقہ کے ایک عظیم قائد بابائے قوم جیوتی با پھلے کی قیادت میں شروع ہوتی ہے، ان کے بعد شاہو جی مہاراج سے اس کو تقویت ملتی ہے، پھر ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اس کی کمان سنبھالتے ہیں، حیدرآباد کے بی شیام سندر، ٹاملناڈو کے پیریار ، کیرلا کے شری نارائنا گرو اور دوسرے کئی بہوجن قائدین اس کی سرکردگی کرتے ہیں، یہ تحریک در اصل عہد جدید میں برہمنیت مخالف انقلاب ہے۔ دوسرے دور کی غلامی کے اس آخری مرحلہ میں انقلاب اور رد انقلاب کی کشمکش چلتی رہی، یہ کشمکش تیسرے دور کی غلامی میں بھی داخل ہوئی اور ابھی تک جاری ہے۔ تیسرے دور کی غلامی میں برہمنواد کو ایک بڑے چیلنج سے نمٹنا پڑا، وہ چیلنج جمہوریت کی وجہ سے پیدا ہوا تھا، برہمنواد سے جس طبقہ کا مفاد وابستہ ہے وہ اقلیت میں ہے، اس کو حکومت کرنے کے لیے اکثریت کی تائید چاہیے تھی۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے برہمنوں کے دو گروہ ہوگئے، دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے لیے الگ راہ منتخب کی، دونوں کا طریقۂ کار ایک دوسرے سے مختلف تھا، البتہ مقصد دونوں کا ایک تھا، برہمنواد کے خاتمہ کے لیے دونوں میں سے کوئی تیار نہیں تھا، دونوں میں سے ایک نے سیکولرزم کا انتخاب کیا، اور ایک نے ہندوتو کا۔ اصل میں دیش کی آزادی کے وقت تین ہی صورتیں تھیں: مسلم حکومت قائم کی جائے، ہندو راشٹر (برہمن راشٹر) قائم کیا جائے، سیکولر حکومت بنائی جائے۔ سورنوں اور برہمنوں کا جو گروہ مسلمانوں کے ساتھ تحریک آزادی میں شریک ہوا تھا اس کے سامنے سیکولرزم کو کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں تھا، کیوں کہ مسلم حکومت سے وہ راضی ہوجائے اس کا کوئی تصور ہی نہیں تھا۔

مسلمانوں کو چھوڑ کر اچانک کوئی نیا ووٹ بینک بنالے یہ کوئی آسان نہیں تھا، ہندوتوادی برہمنوں کو شبانہ روز جو محنت کرنی پڑی اس سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، یہ آسان اس لیے بھی نہیں تھا کہ تحریک آزادی کے دور میں برہمنوں اور سورنوں نے پست وپسماندہ ذات کو نظر انداز کیاتھا، امبیڈکر جب پست طبقات کو ہندو قوم سے الگ کرنے اور انھیں مستقل حقوق دینے کا مطالبہ لے کر اٹھے تو اس وقت سورنوں اور برہمنوں نے کچھ ہمدردی دکھانی شروع کی، مگر مسلم قوم کو یکسر نظر انداز کرکے ہندو کے نام پر پست وپسماندہ طبقات کو چند سالوں میں اپنا ووٹ بینک بنا لینا پھر بھی آسان نہیں تھا۔

اس گروہ کے لیے آخر میں یہی صورت بچی کہ سیکولرزم کو اپنا لیا جائے،آزادی کے وقت جب قومیت کی بحث چھڑی تو متحدہ قومیت کو ماننے والی مسلم قیادت سیکولر برہمنوں کے ساتھ تھی، اس وقت کی صورتحال کچھ ایسی تھی کہ بھارت کو اپنا دیش بنانے والی مسلم قیادت کے پاس سیکولرزم کے سوا بہ ظاہر کوئی اور راستہ نہیں تھا،سیکولر برہمنوادی گروہ کی طرف سے متحدہ قومیت کے بہانے آہستہ آہستہ مسلمانوں کی سیاسی قیادت ختم کردی گئی، اور تقسیم وطن کے وقت بھارتی مسلمانوں پر ٹوٹنے والی قیامت صغری اور آئندہ ہونے والے فسادات کی وجہ سے ان کے اندر تحفظ اور سیکوریٹی کی نفسیات نے جنم لیا، سیکولر برہمنوادی گروہ نے اس نفسیات سے خوب فائدہ اٹھایا۔

یوں آہستہ آہستہ مسلم قوم معاشی اور سماجی اعتبار سے دلتوں سے زیادہ بد حالی کا شکار ہوگئی، نہ تحفظات(ریزرویشن) ملے اور نہ کوئی حقوق، بس تحفظ کے لیے مسلمان ووٹ دیتے گئے، چوں کہ مسلم قوم اس برہمنوادی گروہ کا ووٹ بینک تھی اس لیے ’’بہ ظاہر‘‘ یہ سیکولر گروہ مسلمانوں کے تئیں نرم پہلو ہونے کا مظاہرہ کرتا رہا اور برہمنواد کو اس طرح مستحکم کرتا رہا کہ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ۔ برہمنوں کے دوسرے گروہ نے ہندوتو کی راہ کا انتخاب کیا، یہ راہ آسان نہیں تھی، کیوں کہ ذات پات کی دنیا میں ہر ذات کی اپنی دنیا ہوتی ہے، اس کی دنیا ذات سے شروع ہوکر ذات پر ختم ہوجاتی ہے۔

تمام ذاتوں کو متحد کرنا کوئی کھیل نہیں تھا، اور پھر متحد بھی اس طرح کرنا تھا کہ ان کے اندر ذات پات کی جو تقسیم ہے وہ باقی رہے، یعنی وہ سب متحد بھی رہیں اور آپس میں دست وگریباں بھی، چناں چہ اس کے لیے’’ ہندوتو‘‘ کی آئیڈیالوجی اپنائی گئی اور مسلمانوں کو دشمن بنا کر پیش کیا گیا، اس گروہ نے ایسا منظم اور مستحکم کام کیا کہ سیکولرزم اختیار کرنے والا برہمنوادی گروہ بھی آہستہ آہستہ نرم ہندوتو کی طرف بڑھنے لگا۔ تیسرے دور کی غلامی کی اصل حکمت عملی یہی ہے ، اور اسی حکمت عملی کو بنیاد بنا کر ہندو راشٹر (برہمن راشٹر) قائم کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔یہاں اس بات کا ذکرکردینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے دور غلامی اور موجودہ تیسرے دور غلامی میں کئی خصوصیات مشترک ہیں۔

دوسرے دور غلامی میں باغی طبقہ کو سیاسی، سماجی ،معاشی ہر اعتبار سے اچھوت بنایا گیا موجودہ دور غلامی میں بھی باغی طبقہ یعنی مسلمانوں کو ہر اعتبار سے اچھوت بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، (واضح رہے کہ بھارتی مسلم قوم کے پوروجوں نے آمد اسلام کے وقت برہمنواد سے بغاوت کی تھی)، دوسرے دور غلامی میں گائے کے نام پر اچھوت بنایا گیا موجودہ دور غلامی میں بھی مسلمانوں کو گائے کے نام پر اچھوت بنایا جا رہا ہے، دوسرے دور غلامی میں گائے کے نام پر اچھوتوں کا قافیۂ حیات تنگ کرنے کے لیے شودر کو استعمال کیا گیا، موجودہ دورغلامی میں بھی گائے کے نام پر مسلمانوں کا قافیۂ حیات تنگ کرنے کے لیے شودر یعنی او بی سی کا استعمال کیا جارہا ہے۔

دوسرے دور غلامی میں باغی طبقے پر حملہ کرنے کے لیے شودر کو استعمال کیا گیا موجودہ دور غلامی میں بھی اوبی سی کو استعمال کیا جارہا ہے، دوسرے دور غلامی میں شودر کو گائے کے تقدس کا دیوانہ بنایا گیا موجودہ دور میں بھی او بی سی کو گائے کے تقدس کا دیوانہ بنایا گیا، دوسرے دور غلامی میں بدھ عبادت گاہوں کو مندروں میں تبدیل کردیا گیا موجودہ دور غلامی میں بھی مسجدوں کو مندروں میں تبدیل کیا جارہا ہے،دوسرے دور غلامی میں برہمنوں نے گوتم بدھ کی مورتیوں کے آگے سر جھکا کر بدھسٹوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی موجودہ دور غلامی میں بھی یہ لوگ امبیڈکر کی مورتی کے آگے سر جھکا کر امبیڈکر وادیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

دوسرے دور غلامی میں قانون کے ذریعہ برہمنواد کی بنیادیں مضبوط کی گئیں موجودہ تیسرے دور غلامی میں بھی دستور کے پریمبل اور بنیادی حقوق کے خلاف قانون بنا کر برہمنواد کی بنیادیں مضبوط کی جارہی ہیں، دوسرے دور غلامی میں سماج کے اندر رہنے والے شودر طبقہ حقوق کے حصول کے لیے بغاوت کرنے کے بجائے بس اتنی سی بات پر طبقاتی نظام کا حصہ بنا رہا کہ برہمن طبقہ کی طرف سے اسے تحفظ حاصل ہے، جبکہ اتی شودروں کو یہ تحفظ حاصل نہیں ہے، اسی طرح موجودہ تیسرے دور غلامی میں مسلم سماج حقوق کے حصول کی حکمت عملی بنانے اور حصہ داری کی سیاست کرنےکے بجائے بس اتنی سی بات پر ووٹ دے رہا ہے کہ فلاں پارٹی کی حکومت میں اسے تحفظ مل سکتا ہے؛ جبکہ فلاں دوسری پارٹی کی حکومت میں اسے تحفظ حاصل نہیں رہے گا۔

دوسرے دور غلامی میں شودر واتی شودر کو آپس میں لڑا کر برہمن راج کرتا رہا موجودہ دور غلامی میں بھی مسلمانوں اور بہوجنوں کو آپس میں لڑا کربرہمن راج کر رہا ہے، دوسرے دور غلامی میں برہمنوں نے بدھسٹ خانقاہوں، تعلیمی اداروں اور حکومتی محکموں میں گھس کر قیادت اپنے ہاتھ میں لی موجودہ دور حکومت میں بھی برہمنوں نے تمام جمہوری اداروں اور محکموں میں گھس کر قیادت اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے،دوسرے دور غلامی میں برہمنوں نے حکومتی اقتدار کی راہ ہموار ہونے تک ’’سنگھ‘‘ کے ذریعہ سماج کے اندر گھس کر کام کیا۔

موجودہ دور غلامی میں بھی ان لوگوں نے حکومتی اقتدار کی راہ ہموار ہونے تک ’’سنگھ‘‘ کے ذریعہ سماج کے اندر گھس کر کام کیا؛ البتہ دوسرے دور غلامی اور تیسرے دور غلامی میں ایک بڑا فرق ہے جو اوپر بھی ذکر ہوا ہے کہ دوسرے دور غلامی میں بدھ مت اس برہمنواد کا پلٹ وار نہ سہہ سکا اور اس کی انفرادی شناخت باقی نہ رہی؛ مگر اسلام اس ملک میں آج بھی اپنی غیر محرف شکل میں وحدت الہ اور وحدت انسانیت کا علم لیے سینہ تانے کھڑا ہے۔

برہمنواد اچھی طرح سمجھ چکا ہے کہ وہ اسلام کی شکل اور مسلمانوں کے تشخص کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا تو پھر تیسرے دور کی غلامی کا کام کیسے مکمل ہوگا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کو اچھوت بنا کر برہمنواد اپنے مقصد کی تکمیل کرے گا، مسلمانوں کو اچھوت اسی وقت بنایا جا سکتا ہے جب ان کا رشتہ ایس سی، ایس ٹی، او بی سی سماج سے مکمل کاٹ دیا جائے ، اور یہ اسی وقت ہوگا جب مسلمانوں کے خلاف ایس سی، ایس ٹی، او بی سی کو’’ ہندو‘‘ کے نام پر بھڑکایا جاتا رہےاور مسلمانوں کے مسائل اٹھا کر انھیں مسلمانوں سے لڑایا جاتا رہے۔ برہمنواد کی اس پالیسی کو سمجھنے اور اس کے خلاف اقدامی طور پر فکری یلغار کرنے کی ضرورت ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button