بنگال میں یونیورسٹیوں کے چانسلر عہدہ پر چیف منسٹر کے تقرر کی مخالفت

مغربی بنگال کے سرکاری یونیورسٹیوں میں چیف منسٹر ممتابنرجی کے بحیثیت چانسلر تقرر پر نامور شخصیتوں کے ایک گروپ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے استدلال پیش کیاکہ اس سے یونیورسٹیوں کی خودمختاری کو ضرب پہنچے گی اور یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔

کولکتہ: مغربی بنگال کے سرکاری یونیورسٹیوں میں چیف منسٹر ممتابنرجی کے بحیثیت چانسلر تقرر پر نامور شخصیتوں کے ایک گروپ نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے استدلال پیش کیاکہ اس سے یونیورسٹیوں کی خودمختاری کو ضرب پہنچے گی اور یہ جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ریاستی کابینہ کے اس فیصلہ میں ماضی میں عوام کے اس مطالبہ کو نظرانداز کیاگیا ہے کہ اسی سرکردہ ماہر تعلیم کو اس عہدہ پر تقرر کیا جائے۔ ہفتہ کے دن جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہاکہ ریاستی یونیورسٹی کے چانسلر عہدہ پر چیف منسٹر کوتقرر کرنے کے حالیہ فیصلہ سے انہیں حیرت اور اچنبھا ہوا ہے۔

وہ سب تعلیمی اداروں کی خودمختاری اور آزادی کی اہمیت کے بارے میں جانتے ہیں اوراس فیصلہ سے اس پر ضرب پڑے گی جو جمہوریت کے خلاف ہے۔ بیان پر دستخط کرنے والے 40 سرکردہ شخصیتوں میں اداکار کوشک سین ہدایت کاروں انیک دتہ اور راجہ سین مصور سمیر ائیچ افسانوی شخصیت بیبھاس چکرورتی سماجی جہد کار میراتن نہار اور حقوق انسانی کے جہد کار سجاتو بھدرا شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اس عہدہ پر ماہر تعلیم کے تقرر سے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ میں بیرونی مداخلت کا انسداد ہوگا۔ بیان میں ادعا پیش کیاگیا کہ اقتدار حاصل ہونے کے بعد سے موجودہ حکومت تحتانوی اور ثانوی تعلیم کے بورڈس پر اپنے لیڈروں کو فائز کررہی ہے۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں کی گورننگ باڈی اور مینجنگ کمیٹیوں میں بھی پارٹی لیڈروں کو عہدوں پر فائز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیرتعلیم کو خانگی یونیورسٹیوں کے وزیٹر عہدہ پر تقرر کا فیصلہ بھی ایسا ہی نقصاندہ ہے۔ کوشک سین نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ وہ ان تقررات کے ایسے ہی مخالف ہیں جیسے گورنر کو چانسلر مقرر کرنے کے مخالف ہیں۔

کابینہ کے اس فیصلہ کے تعلق سے حکومت اسمبلی کے جاریہ اجلاس میں بل پیش کرنے والی ہے جس کے تحت گورنر جگدیپ دھنکر کی جگہ چیف منسٹر کو ریاست کی سرکاری یونیورسٹیوں کا چانسلر مقرر کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button