بنیادی سہولتوں سے محروم علاقے

زیر نظر تصاویر الجابری اور شاہ جہاں کالونیز کی ہیں جہاں کی حد درجہ غیر مسطح، ناقابل استعمال اور موجب حادثات سڑکیں آخر کب سیمنٹ یاڈامبر روڈ میں تبدیل ہوں گی؟ معذورین، معمرین ، حاملہ خواتین، راہ گیروں کے علاوہ مسجد اور قبرستان تک جنازے لے جانے بے حد دقتیں ومشکلات پیش آرہی ہیں۔

قاری ایم ایس خان

راقم الحروف نے بتاریخ 16ستمبر 2021ء بروز جمعرات دن کے 12تا 3:30 بجے پہاڑی شریف روڈ کے لب سڑک تا اندرون علاقے الجابری کالونی اورپہاڑی شریف روڈ سے کافی اندر شاہ جہاں کالونی کا تفصیلی سروے کیا اور بہت ہی گہرائی اور گیرائی سے مذکورہ بالا دونوں مسلم آبادی پر مشتمل کالونیز کا دورہ کیا۔ یہ دونوں کالونیز حلقہ اسمبلی مہیشورم اور ضلع رنگاریڈی میں واقع ہیں اورچارمینار سے صرف12تا15 کلومیٹر کی دوری پر ہیں ۔ جل پلی میونسپلٹی سے ان کا تعلق ہے ۔

ان کالونیز کے معمر وسنیئر ساکنین کے مطابق یہ دونوں کالونیاں تقریباً بیس سال قبل سے آباد ہونا شروع ہوئیں اوران دنوں گنجان آبادیوں میں تیزی سے تبدیلی ہونے جارہی ہے۔ ارباب مجازکی سنگین ومجرمانہ لاپروائیوں اور سیاسی چالوں کی وجہ سے درج بالا دونوں کالونیز بیس سال سے تمام بنیادی وضروری اورلازمی سہولتوں سے محروم ہیں۔

حالانکہ بلحاظ دستور ہند و شہری و ٹیکس ورائے دہندگان حقوق عامہ ہر نوعیت کے شہریوں کو بنیادی سہولتوں ولازمی اورضروری بلدی وآبرسانی وبرقی اورتعلیمی وطبی ونیز سرکاری ذرائع حمل ونقل سے عمداًمحروم رکھنا سنگین جرم ہے جوکہ ناقابل معافی بھی ہے دنیا کی کوئی بھی اسلامی یا غیر اسلامی اور جمہوری وغیر جمہوری حکومت ہویا بادشاہت اگر وہ اپنی رعایا یا شہریوں یا رائے دہندوں اور ٹیکس دہندگان کی بنیادی اور لازمی ضرورتوں کی تکمیل نہیںکرتی تو شرعاً وقانوناً اور اصولاً انہیںحکومت کرنے کا کوئی استحقاق نہیں رہتا بقول شاعر مشرق علامہ اقبال ؒ:

خداوندا یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ درویشی بھی عیاری ہے سلطانی بھی عیاری

میں نے زندگی میں اس قدر اور حدرجہ خراب، غیر مسطح اور موجب حادثات بننے والی خطرناک اور مٹی کی طویل طویل سڑکیں نہیں دیکھیں بوقت بارش اور موسم برسات میںا ن دونوں متذکرہ کالونیز کی تمام سڑکیں ناقابل استعمال ہوجاتی ہیں، ایسے میں کمسن بیمار بچے، درد زہ میںمبتلاخواتین، معذورین ومجبورین اورمعمرین ودیگر عام شہری کیسے آئیں گے اور جائیںگے ؟اس کی فکر متعلقہ رکن پارلیمان و اسمبلی واراکین جل پلی میونسپلٹی اور ضلع رنگاریڈی کے کلکٹرس کیوں نہیںکرتے ؟

کہیں یہ علاقے کسی تعصب کا شکار تو نہیں ہیں؟یہ بھی ایک اہم و تحقیق طلب سوال ہے۔ کیونکہ پہاڑی شریف روڈ سے کچھ کیلو میٹر کے فاصلہ پر مہیشورم(جس کا سابقہ نام میسرم منکھال تھا) مشہور گائوں ہے اس کو پچھلے چند سالوں میں جنگی خطوط پر ترقی دی گئی۔ اس گائوں والوں کے ساکنین کو تمام بنیادی سہولتیں بآسانی مہیا ہیں۔

TSRTC کا بس ڈپو بھی صبح کے05تا10شب مہیشورم تاآئی ایس سدن، کوٹھی، سکندرآبادودیگر مصروف ترین و تجارتی وتعلیمی اداروں کیلئے بسوں کی بہترین سہولتیں بھی ہیں اور الجابری اور شاہ جہاں کالونیز کو آباد ہوئے بیس سال ہوچکے ہیں لیکن ان کالونیز میں آج تکTSRTC کی ایک بھی بس آتی جاتی نہیں ہے۔ میری دانست میں جتنی بسیں مہیشورم کو آتی جاتی ہیں،اگر انہیںVIA الجابری اور شاہ جہاں کالونیزچلایا جائے تو ان کالونیز کے ضرورت مندوں اور ریگولر بس پاسنجرس کو سہولت کے علاوہ رقمی بچت کا بھی باعث ہوگا۔

متذکرہ دونوں کالونیز قدیم ہونے کے باوجود یہاںپر نہی کوئی سرکاری دواخانہ ہے نہی کوئی پرائمری ہیلتھ سنٹر ہے ،نہی کوئی سرکاری مدرسہ ،تحتانیہ وسطانیہ و فوقانیہ ہے، نہی کوئی سرکاری جونیئر وڈگری کالج، نہی کوئی سرکاری یاخانگی دارالمطالعہ، نہی کوئی سرکاری بازی گاہ اور نہی کوئی سرکاری یا بلدیہ کمیونٹی ہال ہے اور نہی سرکاری یا خانگی سطح پر کوئی غریب مریضوں و حاملہ خواتین اورمریضوں کیلئے 24×7 والی ایمبولینس اور نہی غریب میتوں کیلئے کوئی24×7 والی میت گاڑی، تقریباً چار گھنٹوں کی گشت اور سروے میں مجھے کسی بھی گلی یا نکڑ یا چوراہے پر حیدرآباد کی کسی بھی دینی جماعت کا نہی دفتر نظرآیا اورنہی حیدرآباد کے مشہور وبڑے بڑے بیت الاموال یا ٹرسٹوں یا فلاحی اداروں کا بورڈ یا دفتر نظرآیا حالانکہ بعض ٹرسٹوں کا ٹرن اوور کروڑوں میں ہے …کیا ان قابل وہوشیار مصلح قوم اور ہمدردان ملت (خودساختہ) کو درج بالا حد سے زیادہ پسماندہ محلہ جات نظر نہیںآتے؟

الجابری کالونی تا شاہ جہاں کالونی کا فاصلہ محتاط اندازے کے مطابق4تا5کلو میٹر پر مشتمل ہے اور یہاں کی آبادی اندازاً چالیس ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ ہم متعلقہ رکن بلدیہ جل پلی میونسپلٹی سے مزید تفصیلات وحقائق جاننے کیلئے ان کے گھر پر گئے لیکن موصوف کاگھر مقفل تھا…

الجابری کالونی کی مساجد کے نام یہ ہیں، مسجد عثمان غنیؓ، مسجد آمنہ اورمسجد نور …شاہ جہاں کالونی کی مساجد کے نام یہ ہیں: مسجد حسینی، مسجد محمدیہؐ،ان دونوں محلوں میںعیدگاہ اور قبرستان بھی نظر نہیںآئے۔

الجابری اور شاہ جہاںکالونیز کے ساکنین اور بعض مساجد کے آئمہ نیبتایا کہ وقتاً فوقتاً یہاںبڑے بڑے سانپ نکلتے ہیں۔ سانپوں کو پکڑوانے کے لیے Friends of Snake Society موقوعہ سینک پوری سکندرآباد کے سیل نمبر 8374233366 پر24×7 فون کرکے انہیںطلب کریں یہ اسنیک سوسائٹی کے لوگ بلامعاوضہ سانپوں کو پکڑکر لے جاتے ہیں…درج بالا دونوں کالونیوں کے حدود اربع میں پہاڑی شریف، جل پلی،شاہین نگر،ملا پور، سلطان پور اور شمس آباد ایئر پورٹ روڈ واقع ہیں۔

یہاں کہ حددرجہ خطرناک، ہڈیوں و جوڑوں کی بیماری میں مبتلا کرنے والی غیر مسطح و جان لیوا سڑکوں اور دیگر بنیادی بلدی وشہری مسائل ضروریہ کے فوری حل کیلئے یہاں کے ساکنین کلکٹر ضلع رنگا ریڈی کے دفتر موقوعہ نزد لکڑی کا پل ریلوے اسٹیشن اورسیکریٹری لوک ایوکت موقوعہ نزد بشیر باغ فلائی اووربرج حیدرآباد کو مع تصاویر بزبان انگلش لکھ کر بذریعہ اسپیڈ پوسٹ ضرور روانہ کریں…. سچ ہے کہ قدرت بھی مدد فرماتی ہے جب کوشش انساں ہوتی ہے…

زیر نظر تصاویر الجابری اور شاہ جہاں کالونیز کی ہیں جہاں کی حد درجہ غیر مسطح، ناقابل استعمال اور موجب حادثات سڑکیں آخر کب سیمنٹ یاڈامبر روڈ میں تبدیل ہوں گی؟ معذورین، معمرین ، حاملہ خواتین، راہ گیروں کے علاوہ مسجد اور قبرستان تک جنازے لے جانے بے حد دقتیں ومشکلات پیش آرہی ہیں۔ آخر یہاں کی متعلقہ جل پلی میونسپلٹی کے علاوہ متعلقہ رکن پارلیمان کے ایم پی فنڈ، متعلقہ ایم ایل اے کا ایم ایل اے فنڈ اور متعلقہ اراکین بلدیہ کے فنڈس کی کروڑوں کی رقومات کہاں استعمال ہورہی ہیں؟

مذکورہ دونوں محلہ جات اورکالونیز کے ساکنین کلکٹر دفتر آرآر ڈسٹرکٹ متصل لکڑی کا پل ریلوے اسٹیشن حیدرآباد کو مع تازہ ترین تصاویر انگریزی میں لکھ کربذریعہ اسپیڈ پوسٹ اپنی اپنی ناقابل بیان تکالیف کیوں نہیں بھیجتے؟ نیشنل لیگل فری اتھاریٹی موقوعہ فرسٹ فلور تلنگانہ ہائیکورٹ بلڈنگ نزد سیٹی کالج Zoo روڈ حیدرآباد سے شخصی طور پر یا بذریعہ مراسلت ربط پیدا کیوں نہیںکرتے؟ یوں چپ رہنا ،بے حس ارباب کی مدد کرنے کے برابرہی تو ہے… بقول شاعر نامعلوم :

حالات پہ چھاجانا ہی جینے کا ہنر ہے
وہ جی نہیںسکتا جسے حالات کاڈر ہے
علی الاعلان کیاکرتاہوں سچی باتیں
چور دروازے سے آندھی نہیںآیا کرتی
(مظفر وارثی)

٭٭٭

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button