بھگود گیتا نہیں طلبہ کو دستور ہند پڑھایا جائے، بومئی کو ممتاز مصنفین کا مکتوب

اس مکتوب پر کے مرولو سدپا، پروفیسر ایس جی سدارامیا، بنجاگری جئے پرکاش جیسے مصنفین اور دیگر کئی نے دستخط کئے ہیں اور چیف منسٹر سے خواہش کی ہے کہ وہ ان رہنمایانہ خطوط کو واپس لیں جن کے تحت مسلمان لڑکیوں پر تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر امتناع عائد ہے۔

بنگلورو: کرناٹک میں حجاب تنازعہ اور ہندوتہواروں میں مسلمان دکانداروں پر پابندی کے پس منظر میں 61 ممتاز شخصیتوں بشمول مصنفین اور کارکنوں نے چیف منسٹر بسواراج بومئی کو  ایک مکتوب روانہ کیا اور ریاست میں امن و  ہم آہنگی کے تحفظ کیلئے ان سے مداخلت کرنے کی خواہش کی ہے۔ ایک ایسے وقت جبکہ ریاستی حکومت اسکولی نصاب میں بھگود گیتا متعارف کرانے پر غور کررہی ہے، اس مکتوب میں کہا گیا کہ اس کے بجائے طلبہ کو دستور ہند پڑھایا جانا چاہئے۔

 اس مکتوب پر کے مرولو سدپا، پروفیسر ایس جی سدارامیا، بنجاگری جئے پرکاش جیسے مصنفین اور دیگر کئی نے دستخط کئے ہیں اور چیف منسٹر سے خواہش کی ہے کہ وہ ان رہنمایانہ خطوط کو واپس لیں جن کے تحت مسلمان لڑکیوں پر تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے پر امتناع عائد ہے اور مسلمان دکانداروں کو مندروں کے سالانہ تہواروں میں دکان لگانے کی اجازت نہیں ہے۔

 مکتوب میں کہا گیا کہ انتہا پسند طاقتیں غریب مسلم طلبہ کو حق تعلیم سے محروم کرنے حجاب تنازعہ کو ایک آلہ کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب رہی ہیں۔ اس مکتوب میں کہا گیا کہ کووڈ۔19 کی وجہ سے دوسالہ وقفہ کے بعد جیسے ہی اسکول دوبارہ کھلے، تنازعات کی وجہ سے تعلیمی ماحول آلودہ ہوگیا۔

حکومت نے بھی بھگودگیتا کو اسکولی نصاب کی حیثیت سے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہمارے خیال میں اس کے بجائے بچوں کو دستور پڑھنا چاہئے۔ کووڈ۔19، افراط زر کی اونچی شرحوں، بے روزگاری اور تنخواہوں میں کٹوتی جیسے دیگر مسائل کی وجہ سے لوگوں پر پہلے ہی کافی بوجھ ہے، امن و ہم آہنگی کو درہم برہم ہوتا دیکھنا انتہائی دلسوز ہے۔

ذریعہ
ایجنسیز

تبصرہ کریں

Back to top button