بیٹی کی آخری رسومات کے فوری بعد وشنولنکی کی سنچری

رانجی ٹرافی میں بڑودہ کی طرف سے کھیلنے والے وشنو سولنکی نے چندی گڑھ کے خلاف سنچری بنائی۔ سنچری بنانے کے بعد ہر کوئی وشنو کو سلام کررہا ہے۔

ممبئی: رانجی ٹرافی میں بڑودہ کی طرف سے کھیلنے والے وشنو سولنکی نے چندی گڑھ کے خلاف سنچری بنائی۔ سنچری بنانے کے بعد ہر کوئی وشنو کو سلام کررہا ہے۔

اس کھلاڑی کی نومولود بچی خرابی صحت کے باعث اس دنیا سے چلی گئی۔ بیٹی کی موت نے وشنو کو ہلاکر رکھ دیا لیکن وہ اپنی بیٹی کی آخری رسومات ادا کرنے کے بعد میدان میں اترے اور اپنی ٹیم کیلئے سنچری بنائی۔

چنڈی گڑھ کے خلاف وشنو نے 12 چوکوں کی مدد سے 104 رنز بنائے۔ بڑودہ کرکٹ اسوسی ایشن نے انہیں حقیقی ہیرو قرار دیاہے۔ ان کی بولڈ اننگز کو دیکھ کر ہر کوئی سیلوٹ کررہا ہے۔

اسی وقت سوراشٹرا کیلئے رانجی ٹرافی کھیلنے والے بلے باز شیلڈن جیکسن نے ٹویٹ کیا اور لکھا، ’شاید ہی کوئی ایسا کھلاڑی ہو جسے میں اتنا سخت جانتا ہوں۔

وشنو اور ان کے خاندان کو میرا سلام۔ میں اب اس کے بلے سے اس طرح کی مزید سنچریاں دیکھنا چاہتا ہوں۔ ماسٹر بلاسٹر سچن ٹنڈولکر نے اپنے والد پروفیسر رمیش ٹنڈولکر کے انتقال کے فوراً بعد 1999 کے ورلڈکپ کے دوران سنچری بنائی تھی۔

ٹنڈولکر نے کہا تھاکہ ’جب میں گھر آیا تو اپنی ماں کو دیکھ کر جذباتی ہوگیا۔ میرے والد کے انتقال کے بعد وہ ٹوٹ گئی، لیکن غم کی اس گھڑی میں بھی، وہ نہیں چاہتی تھی کہ میں گھر پر رہوں اور چاہتی تھی کہ میں ٹیم کیلئے کھیلوں۔

جب میں نے کینیا کے خلاف سنچری بنائی تو میں بہت جذباتی ہوگیا۔ سچن نے کینیا کے خلاف 101 گیندوں میں 140 رنز بنائے تھے۔ ایسا ہی کچھ ہندوستان کے سابق کپتان کوہلی اور فاسٹ بولر محمد سراج کے ساتھ بھی ہوا تھا۔

کوہلی دہلی کی ٹیم کیلئے کھیل رہے تھے کہ اچانک ان کے والد کا انتقال ہوگیا۔ اس کے باوجود ویراٹ بلے بازی کیلئے آئے اور عمدہ نصف سنچری بناکر اپنی ٹیم کو شکست سے بچالیا۔

اس کے بعد وہ اپنے والد کی آخری رسومات میں شریک ہوئے۔ حیدرآبادی فاسٹ بولر محمد سراج ٹیم انڈیا کے ہمراہ آسٹریلیا دورہ پر تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوا۔

بی سی سی آئی انہیں فوری طورپر حیدرآباد واپس بلانے تمام انتظامات کرنے تیار تھی تاہم فاسٹ بولر نے ملک کی نمائندگی کا فیصلہ کیا۔

سراج اس فیصلہ کی ہر طرف سے ستائش کی گئی۔ اس سیریز میں سراج ٹیم انڈیا کیلئے سب سے زیادہ 13 وکٹس حاصل کرنے والے بولر ثابت ہوئے۔

تبصرہ کریں

Back to top button