تلنگانہ میں نئے میڈیکل کالجس کے قیام میں مرکزکامالی تعاون نہیں:ہریش راؤ

حیدرآباد: شہر حیدرآبادمیں قائم بستی دواخانوں سے بہتر ردعمل حاصل ہونے پر ریاستی وزیر صحت وبہبود خاندان ٹی ہریش راؤنے ایوان میں آج اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ بستی دواخانوں کی ریاست کے تمام بلدیات تک توسیع کی جائے گی۔

شہر حیدرآبادکے بستی دواخانوں سے 81لاکھ سے زائد افراد جن میں بڑی تعدادغریبوں کی ہے نے استفادہ کیا ہے۔ ان بستی دواخانوں کی کامیابی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت‘ریاست کے تمام بلدیات میں بستی دواخانہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

وہ ٹی آرایس کے ارکان کے پی وویکا نند‘ایم کرشنا راؤ‘اے رمیش اوردیگر کے سوال کاجواب دیتے ہوئے ہریش راؤ نے ریاست کے تمام بلدیات میں بستی دواخانوں کے قیام کی اقدامات کا تیقن دیا۔

مجلس کے رکن جعفرحسین کے ضمنی سوال کاجواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جی ایچ ایم سی حدود میں 259 بستی دواخانے کام کررہے ہیں۔ مزید91بستی دواخانے بہت جلد قائم ہوں گے۔ انہوں نے کہاکہ ڈاکٹروں‘اسٹاف اور دواؤں کی کوئی قلت نہیں ہے۔

راؤ نے کہاکہ جی ایچ ایم سی میں 350بستی دواخانوں کے قیام کے نشانہ کی تکمیل کی جائے گی۔ہر ایک بستی دواخانہ کوہرماہ 75ہزار روپے دیئے جارہے ہیں اور بستی دواخانے 9بجے صبح سے 4بجے شام تک کام کریں گے۔اوپی ڈی کنسلٹیشن کے حصہ کے طورپر خصوصی معالج کے ساتھ ٹیلی کنسلٹیشن کی سہولت بھی حاصل کی جارہی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ہر ایک بستی دواخانے میں بنیادی لیاب ڈیاگنوسٹکس‘مفت دواؤں کی تقسیم‘ٹیکہ اندازی خدمات‘حاملہ خواتین کی دیکھ بھال‘نس بندی‘ کونسلنگ اورمانع حمل خدمات دستیاب کرائے گئے ہیں۔ انیمیاکی تشخیص‘ بی پی‘ بلڈشوگر کینسر ہیلت خدمات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔

ٹی آرایس ارکان ایم سنجے‘ ایم جناردھن ریڈی‘جی کشورکماراوردیگر کے ایک اورسوال کا جواب دیتے ہوئے وزیر صحت ٹی ہریش راؤ نے الزام عائد کیا کہ ریاست میں میڈیکل کالجوں کے قیام میں مرکز کی جانب سے ایک پیسہ کی امداد نہیں دی گئی ہے جبکہ ریاستی حکومت نے مرحلہ وار اساس پر تلنگانہ میں 33میڈیکل کالجس قائم کرنے کافیصلہ کیاہے (ہرضلع میں ایک میڈیکل کالج رہے گا)۔

ان کالجوں کے قیام میں مرکز کی بی جے پی حکومت نے ایک پیسہ کامالی تعاون نہیں کیا ہے۔مرکزی حکومت نے ملک کے طول وعرض میں 171 میڈیکل کالجوں کے قیام کی منظوری دی ہے مگرتلنگانہ کے لئے ایک بھی کالج منظورنہیں کیاگیا ہے۔

ان کالجوں کو مرکز مالی امدادفراہم کررہاہے۔انہوں نے کہاکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد سے ریاستی حکومت نے 12 نئے میڈیکل کالجس قائم کئے ہیں جن مقامات پرنئے میڈیکل کالجس قائم کئے گئے ہیں‘ ان میں محبوب نگر‘سدی پیٹ‘ سوریاپیٹ‘ نلگنڈہ‘سنگاریڈی‘محبوب آباد‘منچریال‘ونپرتی‘ بھدرادری کتہ گوڑم‘جگتیال‘ناگرکرنول اور رام گنڈم شامل ہی۔ان میں 4 میڈیکل کالجس قائم ہوچکے ہیں۔

محبوب نگر‘سدی پیٹ‘ سوریاپیٹ اورنلگنڈہ کے میڈیکل کالجس کا رکرد ہوچکے ہیں جبکہ مابقی 8کالجس میں تعلیمی سال 2022-23 سے داخلے دیئے جائیں گے۔

میڈیکل تعلیم کے معیارکوبہتر بنانے اور دورافتادہ اضلاع میں ٹریژری کیئر سہولتوں کی فراہمی کے لئے قائم نئے میڈیکل کالجوں کے ساتھ 650 بستروں کی گنجائش کے حامل اسپیشالیٹی ہاسپٹلس قائم کئے جارہے ہیں۔

ان ہاسپٹلس میں تمام تربنیادی سہولتیں جیسے جنرل میڈیسن‘جنرل سرجری‘ آرتھوپیڈک‘ پڈیاٹرکس‘ای این ٹی‘آپتھالمولوجی‘ انسنھیشیا‘ وغیرہ دستیاب رہیں گی۔

Back to top button