جب برسات کا موسم کباب میں ہڈی بن گیا

بقر عید سے پہلے ہی مطلع ابر آلود تھا، عید کے بعد تومسلسل چار پانچ دن وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی ، گویا بارش پھول بانو کے لیے ’’ کباب میں ہڈی‘‘بن چکی تھی ،اس کے باوجود پھول بانو نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا،وہ برابر دن کے اجالے میںکباب کے حسین خواب دیکھتی رہیں...وہ ہرد ن کباب بنانے بیٹھ جاتیں اور ہم موبائل کی مدد سے موسم کا حال سنا کر انہیں اس حرکت سے بازرکھتے ... فریج کے اندر گوشت کی رنگت بدل رہی تھی اور فریج سے باہر ہماری ...دراصل ہمیں یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ گوشت ناکارہ نہ ہوجائے لیکن پھول بانو کے چہرے پر اطمینان تھا...انہوں نے حتمی فیصلہ کرلیا تھا کہ بارش تھمے نہ تھمے ، وہ کباب بناکر رہیں گی... ہم سے کہنے لگیں کیوں نہ ہم پنکھے کی ہوا میں کباب سکھائیں ؟...

حمید عادل

بقر عید، بڑی عید بھی کہلاتی ہے ،بچے یہی سمجھتے رہے کہ جب تک گھر میں بکرا نہ لایا جائے عید کی تیاریاں ادھوری ہیں ۔ٹھیک اسی طرح پھول بانو سمجھتی ہیں جب تک گھر میں رسیوں پر جھولتے ہوئے کباب نہ پڑے ہوں ، عید کی خوشیاں نامکمل ہیں ۔بقر عید کے موقع پر وہ یہ سوچ کر پریشان رہتی ہیں کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ گوشت اسٹور کیا جائے اور ہم یہ سوچ کر پریشان رہتے ہیں کہ کس طرح انہیںکم سے کم گوشت اسٹور کرنے پر راضی کیا جائے … پھول بانو کو کباب اتنے عزیز ہیں کہ وہ ان کے لیے کچھ بھی کرنے اور کچھ بھی کہنے کوتیار ہوجاتی ہیں اور کباب سے متعلق ان کے کہے اور کیے کو دیکھ کر دل ہی پر کیا منحصر ہے ،ہم خود جل کر کباب ہوجاتے ہیں … پھول بانو ہمیں ’’ جملہ جیوی ‘‘ بلکہ ’ جملہ بیوی‘‘ معلوم ہوتی ہیں…عموماً ان کے جملے ہوتے ہیں ’’بقر عید کے موقع پر وہ گھر ہی کیا جوکبابوں کی مہک سے خالی ہو‘‘وہ مزید کہتی ہیں’’مہمان گھر آئیں گے تو کیاسوچیں گے؟کیا وہ یہ سوچیں کہ مجھے کباب بنانا نہیں آتا،یا وہ یہ سمجھیں کہ میں انتہائی کاہل قسم کی خاتون ہوں…نہیں نہیں! میں اپنے مہمانوں کو ایسا ہرگز سمجھنے نہیں دوں گی ۔‘‘ ہم انہیں کبابوں سے باز رکھنے کی حماقت کرتے ہیں تو وہ ہمیں ’’ کباب میں ہڈی‘‘ کہنے سے بھی نہیں ہچکچاتی ہیں…
جس دن سے بن گیا ہوں میں ہڈی کباب میں
وہ شوخ پڑ گیا ہے عجب پیچ و تاب میں
محمد یوسف پاپا
’’ کباب میں ہڈی‘‘ پر یاد آیا کہ بی جے پی کا دوراقتدار ملک کی ترقی میںکباب میں ہڈی بن چکا ہے …. بھاجپا کے لیے گودی میڈیا توبنا ہڈی کا کباب ہے لیکن زبیر جیسے ایماندار صحافی کباب میں ہڈی بن چکے ہیں۔بی جے پی کے لیے کباب میں ہڈی ایسے الفاظ بھی بن چکے ہیں جن سے بی جے پی کی انا کو ٹھیس پہنچتی ہو ۔اب پارلیمنٹ ہاوز میں ’’جملہ جیوی‘‘ کے علاوہ ’’شرم‘‘، اور’’ بھرشٹ ‘‘جیسے الفاظ تک سنائی نہیں دیں گے…جن سے سیاست دانوں کی اٹوٹ محبت ہوتی ہے۔
کہیے کسے رقیب کہ سب ہم نوالہ ہیں
ہڈّی بنی ہوئی ہے محبت کباب میں
راحیل فاروق
خیر!ہمارا موضوع کباب میں ہڈی نہیں بلکہ وہ کباب ہیں جو بقر عید کے موقع پر گھروں میں لٹک لٹک کرہمارے گوشت خوری کے جنون کو اجاگرکرتے ہیں…کبابوں کی تیاری سے پہلے قصائی کا ملنا ضروری ہوتاہے اور عید کے دن کہاں قصائی آسانی سے دستیاب ہوتے ہیں ،بھلے ہی انہیں اڈوانس رقم دی جائے ، بلکہ جس قصائی کو ہم نے اڈوانس رقم دی، اسی نے ہمیں خون کے آنسو رلائے ہیں…اڈوانس رقم اینٹھنے والاقصائی پہلے تو فون ریسیو نہیں کرتا اور ریسیو کربھی لے تو ہر بار یہی کہتا ہے بس دو منٹ میں آپ کے پاس رہوں گا .. اور اس کے دو منٹ بیس منٹ گزر جانے کے بعدبھی پورے نہیں ہوتے ہیں… خدا خدا کرکے جب وہ وارد ہوتا ہے تو پھرہماری منٹ دو منٹ کی تاخیر بھی برداشت نہیں کرتا … اس قدر تیزی میں ہوتا ہے کہ ہماری جیب سے معاوضہ تو نکال لیتا ہے لیکن بکرے کے سر سے بھیجا نہیںنکالتا…ایک بار تو بکرے کی کھوپڑی سے بھیجا نکالے بغیر یہ کہہ کر چلا گیا کہ اس نے بھیجا نکال دیا ہے …خدا جانے قصائی میں ہمارے سیاست دانوںکا سا مکر و فریب کیسے منتقل ہوگیا؟
سری پائے کو قصائی حضرات ہاتھ تک نہیں لگاتے،سوہم نے سری پائے تھیلی میں ڈالے اورگھر سے نکل پڑے… جب بازار پہنچے تو دیکھاکہ سرراہ دور دور تک سری پائے بھننے والے قطار لگائے بیٹھے ہیں اور ایک جم غفیر اپنی باری کے انتظار میں کھڑا ہے ۔ہم سروں کے سمندرکو چیرتے ہوئے گبرو بھائی تک پہنچے توانہوں نے ہمیں یا ہماری تھیلی کو دیکھے بغیر ہی کہہ دیا دو گھنٹے لگیں گے ،اپنا سر اور پیر چھوڑ جاؤ، پھوڑ کر رکھ دوں گا۔‘‘دو گھنٹوں کے طویل انتظار کا اعلان سنتے ہی ہم اس قدر حواس باختہ ہوئے کہ اگر اپناسر اور پیر نکالنے کا آپشن ہوتا تو ہم سچ مچ بکرے کی بجائے اپنے سری پائے وہاں چھوڑکر لڑکھتے ہوئے گھر کی راہ لیتے … ہم نے سری پائے کی تھیلی چھوڑ کر گھر لوٹ جانے میں ہی عافیت سمجھی … ڈھائی گھنٹے تک بسترپر لوٹتے رہے ، نیند سے اس وقت جاگے جب خواب میں جس بکرے کو ہم نے ذبح کیا تھا، اسے نہایت غصہ میں ہمیں ٹکر مارتا ہوا دیکھا ….موٹر سائیکل نکالی اور دوبارہ پہنچ گئے گبرو بھائی کے ہاں … یہاں یہ ہرگز ضروری نہ تھا کہ جس بکرے کے سری پائے ہم نے انہیں دیے ہیں ہمیں واپس وہی ملے، افرا تفری کا یہ عالم تھا کہ گبرو بھائی جو بھی تھیلی گاہک کے حوالے کررہے تھے وہ اسے چپ چاپ لے کر کھسک رہا تھا ۔ ہمارے ہاتھ میں بھی ایک تھیلی تھما دی گئی … معاوضہ پوچھا تو جواب ملا تین سو روپئے …ہم نے گبرو بھائی سے پوچھا :آپ کے ہاں سری پائے کتنے میں ملتے ہیں ؟ کہنے لگے چار سو روپئے …معلوم ہوا کہ ہم محض سو روپئے کی خاطر تین گھنٹے سے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں ۔ہم تو پھر بھی کچھ نہ کچھ پانے میں سرخرو ہوگئے ، لیکن چمن بیگ نے جس شخص کو سری پائے دیے تھے، وہ چمن سمیت دیگر گاہکوں کے سراور پیر لے کر فرار ہوچکا تھا۔
بقر عید سے پہلے ہی مطلع ابر آلود تھا، عید کے بعد تومسلسل چار پانچ دن وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہی ، گویا بارش پھول بانو کے لیے ’’ کباب میں ہڈی‘‘بن چکی تھی ،اس کے باوجود پھول بانو نے اپنا حوصلہ نہیں کھویا،وہ برابر دن کے اجالے میںکباب کے حسین خواب دیکھتی رہیں…وہ ہرد ن کباب بنانے بیٹھ جاتیں اور ہم موبائل کی مدد سے موسم کا حال سنا کر انہیں اس حرکت سے بازرکھتے … فریج کے اندر گوشت کی رنگت بدل رہی تھی اور فریج سے باہر ہماری …دراصل ہمیں یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ گوشت ناکارہ نہ ہوجائے لیکن پھول بانو کے چہرے پر اطمینان تھا…انہوں نے حتمی فیصلہ کرلیا تھا کہ بارش تھمے نہ تھمے ، وہ کباب بناکر رہیں گی… ہم سے کہنے لگیں کیوں نہ ہم پنکھے کی ہوا میں کباب سکھائیں ؟…
سیلنگ فیان کی ہوا سے کباب خشک کرنا کوئی آسان کام نہیں ہوتا ہے،خاص طورپر اُس وقت جب موسم انتہائی سرد اور وقفے وقفے سے برسات ہورہی ہو …لیکن چونکہ کباب سکھانے میں ہی پھول بانو کا سکھ پوشیدہ تھا، ہم بادل نخواستہ راضی ہوگئے ۔
کباب سکھانے کے لیے گھر کے تینوں کمروں اور مختصر سے ہال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ سوائے ہمارے کمرے کے کہیں اور رسیوں کو باندھنے کی سہولت میسرنہیں ہے…کبابو ں کو خشک کرنے کے لیے چوبیسوں گھنٹے پنکھے کا چلنا اور وہ بھی فل اسپیڈ میں چلنا ضروری تھا تاکہ گوشت میں سڑن نہ پیدا ہو اور کباب جلدی سے جلدی خشک ہوجائیں لیکن ہمارے لیے ’’ دن ڈھل جائے ،ہائے رات نہ جائے ‘‘ والا معاملہ درپیش تھا۔دن میں تو ہم دفتر میں ہوں گے لیکن رات کے انتہائی سرد موسم میں ہمیں فل اسپیڈ سیلنگ فیان تلے سونا تھا … فرش پر پیر رکھتے تو ٹھنڈ کی ایک لہر سی سارے بدن میں دوڑ جاتی ،ہمیں فلم ’’ پاکیزہ‘‘ کا وہ مقبول عام مکالمہ یاد آگیا جو فلم کے ہیرو راجکمار، ہیروئن مینا کماری کی شان میں ادا کرتے ہیں، ’’آپ کے پیر بہت حسین ہیں، خدارا انہیںزمین پر مت رکھیے، میلے ہوجائیں گے‘‘ لیکن موقع کی مناسبت سے ذرا سی تبدیلی کے ساتھ مذکورہ مکالمہ کچھ اس طرح وجود میں آیا ’’تمہارے پیر بہت نازک ہیں عادل ،خداراانہیں فرش پر مت رکھیے ،برف بن جائیں گے‘‘… انکار کی کوئی گنجائش نہ تھی… اور پھر ہم نے سوچا شاہ جہاں نے اپنی زوجہ کی محبت کی لافانی یادگار کے طور پر دریائے جمنا کے ساحل پرتاج محل بناڈالا تو کیا ہم پھول بانو کے لیے کباب بنانے میں مدد نہیں کرسکتے ؟
جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا
یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا
بہادر شاہ ظفر
ہمارا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو خود کو پہنچنے والی اذیتوں کا اظہار نہیں کرتے،اپنی اس عجیب حماقت کی بدولت ہم کئی بار مشقتیں اٹھا چکے ہیں …ہماری خاموشی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہمارے کمرے میں کبابوں کی لڑی لگا دی گئی اورپنکھے کو فل اسپیڈ پر کردیا گیا…رات ہوئی تو موسم اور بھی سرد ہوا، سیلنگ فیان سے اٹھنے والی شدید سرد لہروں کی تاب نہ لاکر ہمارے اندر کپکپاہٹ کا ایسا طوفان اٹھا کہ چائے کا کپ ہمارے ہاتھ سے چھوٹتے چھوٹتے رہ گیا…ہم نے گرما گرم چائے حلق کے نیچے انڈیلی اور خود کو لحاف کے اندر چھپا لیا اور تھرتھراتے جسم کے ساتھ سونے کی کوشش کرنے لگے …جانے نیند کب ہم پرمہربان ہوئی اور جانے کب ہم خواب خرگوش کے مزے لینے لگے!
ہم اس وقت نیند سے بیدار ہوئے جب صبح پھول بانو کی فلک شگاف چیخ ہمارے کانوں سے ٹکرائی ، اٹھنا چاہا تو معلوم ہوا کہ ہم شدید ٹھنڈ کی بدولت اکڑ کر الف سے ’’ و‘‘ بلکہ ’’ نون غنہ‘‘ بن چکے ہیں …
’’ یہ کیا ہوگیا میرے سرتاج؟‘‘ پھول بانو نے سرد آہ بھرکر سوال داغا۔
’’ کباب خشک کرنے کے لیے سرد موسم میں فل اسپیڈ پنکھے کے نیچے سلاتی ہو اور پھر پوچھتی ہو کہ آخر یہ کیا ہوگیا؟‘‘
’’ لیکن مجھے یہ کہاں پتا تھا کہ آپ کی ایسی درگت ہوجائے گی ، اور پھر آپ نے انکاربھی تو نہیں کیا!‘‘ پھول بانو نے شکوہ کرڈالا۔
’’ بیگم! ہمیں تمہاری ناراضگی منظور نہ تھی۔‘‘
’’ آپ کی چاہت کو سلام میرے سرتاج !آپ کی سوچ توکباب جیسی لذیذ تھی لیکن آپ نے اسے حماقت کی چیونیٹوں سے بھر دیا اور چیونٹیوں سے بھرا ہوا کباب تو بیکار اور نقصان دہ ہوتا ہے۔‘‘ پھول بانو نے فلسفہ جھاڑا۔
قبل اس کے ہم اپنی چونچ کھولتے ،پھول بانو نے نعرہ مارا ’’ ہائے اللہ ! میرے کباب جل رہے ہیں ۔‘‘ وہ تیزی سے بیڈ روم سے باہر چلی گئیں اورہم بستر پر پڑے نون غنہ سے الف بننے کے آسان طریقوں سے متعلق غور کرنے لگے…
کباب سیخ ہیں ہم کروٹیں ہر سو بدلتے ہیں
جل اٹھتا ہے جو یہ پہلو تو وہ پہلو بدلتے ہیں
امیر مینائی
ہم نے اپنے کمرے میں لٹکتے جھولتے اور ہم پر ہنستے کبابوں پر نظر دوڑائی تو پتا چلا کہ رات بھر فل اسپیڈ فیان کی ہوا کھاکر بھی ان میں کباب جیسی کوئی کیفیت پیدا نہیں ہوپائی ہے جب کہ ہم رسی پرجھولے بغیر ہی کباب بن چکے ہیں !
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button