جرمنی میں زیرتعمیر مسجد کی فریاد

مساجد، اسلامک سینٹر قائم ہو گئے۔ علماء کرام کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ شیطان بھی میدان عمل میں وارد ہو گیا جو آج ان دینی اداروں اور مراکز میں لڑائی جھگڑوں کی بنیاد رکھ کر دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔

سید اقبال حیدر (فرینکفرٹ)

یورپ میں بسنے والے مسلمان مختلف ممالک میں ہونے والی اسلام دشمن سرگرمیوں پر تنقید کرتے رہتے ہیں،فرانس کے اخبار میں چھپے توہین آمیز کارٹون، ہالینڈ اور انگلینڈمیں حجاب کے خلاف سیاستدانوں کے بیانات ،ڈنمارک میں قرآنی صفحات کی بے حرمتی کے واقعات پر غم و غصہ کا اظہار کرنا اور پُرامن احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلنا ایک فطری عمل اور جذبہ ایمانی کا مظہر ہے۔

ایسی صورتحال میں خاموشی گناہ ہے اور ظالم کے ہاتھ مضبوط کرنے کے مترادف ہے مگر ہمیں ان حکومتوں اور سیاسی جماعتوں جو غیر مسلم ، یورپ میں اسلام کے فروغ سے خوفزدہ اوراسلامی فوبیا کا شکار ہیں، ان پر تنقید کے ساتھ ساتھ اپنی صفوں پر بھی تو نظر ڈالنا ہوگی کہ ہم یورپ میں اسلام کے فروغ کے لئے کیا کر رہے ہیں، کیا ہم مسلمان ہوتے ہوئے اسلام کے احکامات کے منافی حرکات کے مرتکب تو نہیں ہو رہے ،ہمارے آپس کے لڑائی جھگڑے مقامی حکومتوں اورہماری آئندہ نسل کو کیا تاثر دے رہے ہیں۔

میں یورپ میں پچھلے42 برس سے مقیم ہوں،جرمنی میں تارکین وطن کی بڑی تعداد70اور80 کی دھائی میں آئی،تب جرمنی میں ایشین کیمونٹی کے لئے مساجد، مندر، گردوارے نہیں تھے ،حلال گوشت اور مرچ مسالوں کے حصول کے لئے دوردراز سے فرینکفرٹ شہر آنا پڑتا تھا۔

معاشی مسائل اور روز گار کی فکر سے آزاد ہو کر کچھ لوگ آگے بڑھے جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر کوششیں شروع کیں اور آہستہ آہستہ جرمنی کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں حلال گوشت،ایشین گروسری کی دکانیں کھل گئیں۔

ادبی سماجی ،ثقافتی سرگرمیاں شروع ہوئیں ،مساجد، اسلامک سینٹر قائم ہو گئے۔ علماء کرام کے آنے جانے کا سلسلہ شروع ہو گیا مگر اس کے ساتھ ساتھ شیطان بھی میدان عمل میں وارد ہو گیا جو آج ان دینی اداروں اور مراکز میں لڑائی جھگڑوں کی بنیاد رکھ کر دور کھڑا مسکرا رہا ہے۔

  • اس تحریر میں میرا مقصد کسی کا دل دُکھانا نہیں بلکہ اصلاح کرنا ہے،یوں تو جرمنی کے تمام شہروں میں ایشین کمیونٹی نے جہاں قابل ذکر کارنامے سرانجام دئیے ہیں وہاں ذاتی انا، خود نمائی، ہٹ دھرمی نے کمیونٹی کو اختلافات میں مبتلا کر کے منتشر کر دیا ہے۔
  • فرینکفرٹ میں یوں تو مسلم کمیونٹی کی کئی مساجداور کمیونٹی سینٹر ہیں،ان میں دو مختلف مکاتب فکر کے دو بڑے اور سب سے پرانے’’ اداروں‘‘ نے برسوں پہلے زمین خرید کر مساجد اور اسلامک سینٹرز کی بنیاد رکھی،ان میں سے ایک سینٹر کی انتظامیہ نے گھر گھر چندہ جمع کر کے14سال پہلے زمین خریدی، مسجد کی تعمیر کا اعلان سن کر 2سال اس مسجد کی تعمیر کی۔
 مخالفت غیر مسلم اسلام دشمنوں نے کی مگر وہ ناکام ہوئے، حکومت اور قانون کی مددسے 12 سال پہلے مسجد کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا،لگ بھگ 10 سال کی محنت کے بعد مسجد اور باقی ملحقہ پراجیکٹ تکمیل کے آخر مراحل میں داخل ہوئے تو مسجد کی انتظامیہ میں اختلافات کے سبب تعمیر رک گئی جو آج تک رکی ہوئی ہے۔

پچھلے ڈھائی برس سے زیر تعمیر مسجد میں ایک کیل نہیں لگی، ایک بلب روشن نہیں ہوا،یاد رہے اس بیش بہا اسلامی سینٹر جو تکمیل کے آخری مراحل میں ذاتی انا اورباہمی اختلافات کی وجہ سے رک گیا ہے اس کے مکمل ہونے کے بعداس کی قیمت لگ بھگ 9 ملین یورو ہوگی ۔

اسی طرح دوسری زیر تعمیر مسجد کا پراجیکٹ بھی بیش قیمت اہمیت کا حامل ہے مگر شومئی قسمت دونوں پراجیکٹ برسوں سے زیر تعمیر ہیں اور ان میں ایک سینٹر کی تو تعمیر باہمی جھگڑوں کی وجہ سے کئی سال سے رکی ہوئی ہے جس مسجد میں کئی سال پہلے ’’اذان‘‘ کی آواز بلند ہونا تھی وہ اس اذان کی آواز کو ترس رہی ہے اور اسلام اور دین کے نام پر عہدوں کی بندر بانٹ پر لڑنے جھگڑنے والوں سے فریاد کر رہی ہے کہ میری تعمیر مکمل کرو تاکہ ’’اللہ اکبر ‘‘کی صدا بلند ہو اورنمازی آ کریہاں ذکر خدا کر سکیں۔

انتظامیہ کے افراد آپس میں آئے دن لڑتے جھگڑتے ہیں ،کئی مرتبہ پولیس نے آ کر مداخلت کر کے فریقین کو تنبیہ کی مگرمسجد اور اسلامک سینٹر کے نام پر انتظامیہ میں دھڑے بن گئے ،صف بندیا ں ہوئیں اور ایک دوسرے پرعدالت میں کیس کئے گئے اب پچھلے برسوں سے معاملات عدالتوں میں ہیں۔

فریقین ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں اور دونوں طرف کے وکیل بھاری رقمیں وصول کر کے فریقین کو فتح کا یقین دلا رہے ہیں، مسلمانوں کے چندے کی جو رقم اسلام کے فروغ اور اسلامی تعلیمات کی نشرواشاعت پر خرچ ہونا چاہے تھی وہ وکیلوں کی فیس اور عدالتی کارروائیوں کے اخراجات پر صَرف ہو رہی ہے۔

ان حالات اور واقعات میں ہم یورپ میں بسنے والے مسلمان اپنی آئندہ نسلوں کی کیا تربیت کر سکیں گے، کوئی اسلام دشمن ہماری مساجد ،ہمارے مذہبی مقامات کا تقدس پامال کرے تو ہم انھیں برا بھلا کہتے ہیں مگر ہماری اپنی صفوں میں تفرقہ،انتشار پھیلا کر مساجد اور مذہبی سینٹرز کے تقدس کو پامال کرنے والوں’’ اپنوں‘‘ کو ہم کیا کہیں ، یہ سوال قارئین پر چھوڑتا ہوں۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button