جموں و کشمیر آمریت سے تھک چکا ہے:فاروق عبداللہ

فاروق عبداللہ نے کہاکہ ملک مندر یا مسجد توڑنے سے نہیں بنے گا اور ہم لیڈروں کی یہ کمزوری ہے کہ ہم مذہب کی بات نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ کرسی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب غلط کرنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔

جموں: نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے بی جے پی زیر قیادت حکومت پر اپنے اس عہد سے مکرجانے کا الزام عائد کیا کہ وہ آئندہ سال مارچ تک جموں و کشمیر میں حدبندی کی مشق مکمل کرلے گی۔ انہوں نے کہاکہ لوگ آمریت سے تھک چکے ہیں اور انہیں ایک ایسی منتخبہ جمہوری حکومت کی ضرورت ہے جو ان کے مسائل کو حل کرسکے۔ یہ الزام عائد کرتے ہوئے کہ صحافت کو حکومت کے خلاف کچھ لکھنے کی آزادی حاصل نہیں ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا اداروں کی بلاخوف کارکردگی کو یقینی بنانے پارلیمنٹ میں قانون پیش  کیا جائے۔ یو این آئی کے بموجب ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا کہنا ہے کہ اگر ان کی پارٹی کو حکومت ملی تو وہ پسماندہ افراد کے ساتھ ہوئی  ناانصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات سے وابستہ لوگ بہت عسرت کی زندگی گذار رہے ہیں انہیں بھی اپنے حقوق کے لئے کھڑا ہوکر جد وجہد کرنی چاہئے۔ فاروق عبداللہ نے ان باتوں کا اظہار چہارشنبہ کے روز شیر کشمیر بھون جموں میں منعقدہ یک روزہ تقریب سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ’پسماندہ طبقات کے ساتھ نا انصافیاں ہوئی ہیں یہ لوگ کافی غریب ہیں، ہم کو ان کے مسائل کو دور کرنا چاہئے اور اگر ہماری جماعت کو حکومت ملی تو ہم ان کے ساتھ ہوئی نا انصافیوں کو دور کرنے کی کوشش کریں گے‘۔

نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ پسماندہ طبقوں میں آج بھی عورتوں کو آگے بڑھنے کے مواقع نہیں دئے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ جب تک عورتوں کو اختیارات اور حقوق نہیں دئے جائیں گے تب تک ترقی ممکن نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک مندر یا مسجد توڑنے سے نہیں بنے گا اور ہم لیڈروں کی یہ کمزوری ہے کہ ہم مذہب کی بات نہیں کرتے بلکہ ہمیشہ کرسی کی بات کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی مذہب غلط کرنے کی تعلیم نہیں دیتا ہے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ لوگ طاقت کا اصل سرچشمہ ہیں اور حقیقی بادشاہ ہیں جبکہ لیڈر ان کے خدمت گار ہیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button