جن کو گرنا تھا،وہ ہر گام پہ سوبار گرے

حمید عادل

چلنا سیکھنے سے پہلے انسان کو کئی بار گرنا پڑتا ہے ، پے در پے گرکر عموماًلوگ چلنا سیکھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ چلنا سیکھ جانے کے باوجود گرنا نہیں بھولتے … بچپن میں چلنے کی آرزو میں ہمارے گرنے کی خاص بات یہ تھی کہ ہم چلنا توسیکھ چکے تھے لیکن گرے بغیر چلنا سیکھ نہیں پائے تھے…پرانے زخم بھر بھی نہیں پاتے کہ ہم نئے زخم سجا لیتے… ہمارے گھٹنے کی کٹوریاں بار ہا لہو لہان ہوئیں اوربارہا ان کی مرہم پٹی کی گئی…والد صاحب نے سمجھانا نہیں چھوڑا… گویا ہم اس شعر کے شیدائی تھے :
گرتے ہیں شہ سوار ہی میدان جنگ میں
وہ طفل کیا گرے گا جوگھٹنوں کے بل چلے
زندگی بھی تو ایک میدان جنگ ہی ہے …بلکہ کہنے والوں نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ’’ زندگی ہر قدم ایک نئی جنگ ہے ‘‘
چمن بیگ گرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے ہیں ، اپنے گھر کے دروازہ کے قریب کیلے کا چھلکا پڑا پایاتو انہوں نے مسز چمن بیگ کو بلایا اور کہا :دیکھو! آج پھر مجھے پھسل کر گرنا پڑے گا۔
اب ہم بچپن کی طرح توبار بار نہیں گرتے، لیکن ہمیںاپنی یاکسی کی نظروں میں گرنا، کبھی گوارا نہ ہوا۔ہم آخری بار اُس وقت گرے تھے جب ہم چلتی بس سے اترنا چاہ رہے تھے…بس سے اترنے کے لیے ہم تیار کھڑے تھے،بس کی رفتار کم سے کم تر ہوتی جارہی تھی،ہم نے بھرپور اعتماد کے ساتھ اپنا بائیں پیر سڑک پر پھینکا اور پھر کچھ یوں ہوا کہ ہم کرشماتی طور پرگھوم گئے ، ایسے جیسے کسی نے ہمارا ہاتھ پکڑ کر گھما دیا ہو، ہم نے اپنا توازن کھویا تودوسرے ہی لمحے دھڑام سے دھول بلکہ سڑک چاٹتے پائے گئے . . . ہمارے یوںگرنے پر بس اسٹاپ پر کھڑے مسافرین کو بڑا ملال ہوا،ایک بڑھیا تلگو میں کچھ بڑبڑا رہی تھی، ٹھیک سے ہم سن نہیں پائے، بس اتنا سمجھ پائے کہ وہ ہم سے کہہ رہی تھی : بس رکنے کے بعد اترنا بیٹے تو کوئی اردو میں مشورہ دے رہا تھا، اترنا نہیں آتا تو چلتی بس سے اترنے کی ضرورت ہی کیا ہے ؟کچھ ہمدرد ہمیں اٹھانے کے لیے آگے بڑھے،لیکن ہم نے انہیں اٹھانے کا کوئی موقع نہیں دیا، گرتے ہی بڑی تیزی سے اٹھے اور نظریں چرائے لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے آگے بڑھ گئے ،ایسے جیسے کسی کا پرس یا طلائی چین اڑا کر فرار ہورہے ہوں ۔ جب ہمیں اس بات کا احساس ہوا کہ اب ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا ہے اور ہم جہاں گرے تھے وہاں سے بہت دور آچکے ہیں تو سوچنے لگے کہ آخر ہمارے ساتھ کیا معاملہ ہواکہ ہم بس سے اترتے اترتے گھوم گئے؟اورگھوم کر سوکھے پتے کی مانندگر گئے … ہمارے اس طرح بے تکے انداز میں گرنے کے پیچھے کہیںرامسے برادرس کا کوئی فلمی بھوت تو نہیں تھا؟جسے دیکھ کرہم اکثر ہنسا کرتے تھے اوربرسوں بعد وہ ہم سے بدلہ لینے کے لیے وارد تو نہیں ہوگیا ہے؟ …اس قبیل کے وسوسے بھی کھوپڑی میں ادھم مچارہے تھے کہ کہیں یہ کالے جادو کا اثر تو نہیں … ہم خیالی ویڈیو کھوپڑی میں ریوائنڈ کرتے جاتے اور دیکھتے جاتے تھے کہ آخر بس سے اترنے میںہم سے کہاں چوک ہوگئی ؟لیکن کوئی ٹھوس وجہ ہاتھ نہیں لگ رہی تھی کہ جس سے ہمارے گرنے کی وجہ کاپتا چل سکے …ہمارا چین غارت ہوچکا تھا اورہر وقت یہی سوال ہمیںستارہاتھا کہ ہم آخر گرے کیسے؟کیوں کہ ہم وہاں گرے تھے، جہاںہمیں اخلاقی طور پرگرنا ہی نہیں چاہیے تھا…دفعتاً ایک خیال بجلی کی طرح کوندا ،ہم نے فیصلہ کرلیا کہ بس سے اترنے والے منظر کی خیالی ویڈیو کو سلو موشن میں دیکھیں گے…وہی سلوموشن ،جسے دیکھ کر کرکٹ امپائر کھلاڑی کے اوٹ یا ناٹ اوٹ کا فیصلہ کیا کرتے ہیں ….ہم نے خیالی ویڈیو کوسلو موشن میں دیکھنا شروع کردیا … بس کی نشست سے اٹھ کر فٹ بورڈ تک آنے تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا،لیکن فٹ بورڈپر، جہاں ہم کھڑے تھے،وہ کسی قدرٹوٹا ہوا تھا،ہماری نظر اس ٹوٹ پھوٹ پر ایک لمحے کے لیے پڑی لیکن ہم نے اسے یکسر نظرانداز کردیا اور بس سے اترنے کے لیے جیسے ہی بایاں پیر آگے بڑھایا،ہمارا دایاں پیر اسی ٹوٹے ہوئے حصے میں پھنس گیا، جس کی وجہ سے ہم گھوم گئے ، اپنا توازن کھو بیٹھے اور بالآخر ڈھیر ہوگئے ۔
ہمارے گرنے کا دوسرا دلچسپ واقعہ بھی بس ہی سے جڑا ہے …کالج کاد ور تھا،ہمارے ساتھی چلتی بس کو دوڑ کرپکڑلیتے اور چلتی بس سے آرام سے کود بھی جاتے …جب کہ ہم اس کرتب بازی سے کوسوں دور تھے…ایک انجانا خوف دل میں جاگزیں ہوجاتا کہ ایسا کرتے ہوئے ہم نے اپنا توازن کھودیا تو ہمارا کیا ہوگا؟مشکوک، چمن بیگ،کلیم کلبلا، گھوڑے خاں ہمیں حوصلہ بخشتے کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں ہے ، چلتی بس میں سوار ہونا اور چلتی بس سے کودنا کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے …‘‘ وہ ہمیں اکساتے کہ ’’ اگر تم ایک بارچلتی بس میں سوار ہوجاؤ اور ایک بار چلتی بس سے کود جاؤ تو تمہارے اندر خود بخود خود اعتمادی پیدا ہوجائے گی۔‘‘ یار لوگوں کی مسلسل حوصلہ افزائی کا ہی نتیجہ تھا کہ ہم نے حتمی فیصلہ کرڈالا کہ اب جو بھی ہو انجام دیکھا جائے گا،ہم چلتی بس سے کودکر اور سوار ہوکر دکھائیں گے… چنانچہہمارا اسٹاپ آیا تو ہم مکمل یقین کے ساتھ چلتی بس سے اتر گئے…ہمیں بس سے اترتا اور اتراتادیکھا تو مشکوک حیدرآبادی، گھوڑے خاں ، چمن بیگ اور کلیم کلبلا اس قدر خوش ہوئے کہ انہوں نے ہمارا منہ مٹھائی سے بھردیا…
چلتی بس سے اترکر کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کے بعد ہمارا اگلا ہدف تھا چلتی بس کودوڑ کرلپکنا اوریہ ہمیں کوئی زیادہ مشکل کام نظر نہیں آرہا تھا…
کالج سے گھرواپسی کے لیے یارلوگ کچھ فاصلے پر موجود بس اسٹاپ جانے کے بجائے اُس موڑ پر کھڑے ہوجایا کرتے تھے، جہاں سے گزرتے ہوئے بس کی رفتار کم ہوجاتی تھی… چلتی بس سے اترنے کے بعد ہمارے عزائم اس قدر بلند ہوچکے تھے کہ ہم نے اپنے آپ میں یہ فیصلہ کرلیا کہ سارے دوست بس میں سوار ہونے کے بعد ہم سوار ہوں گے ،تاکہ ’’ڈرپوک‘‘ کا جو لیبل ہمارے نام کے ساتھ چسپاں تھا، وہ اتر جائے…ہمارے اس غیر معمولی فیصلے کیسبھی نے بڑی ستائش کی اور پھر جیسے ہی بس آئی، سارے دوست بس میں سوارہوگئے لیکن اسے شومئی قسمت کہیں یا شامت اعمال کہ جیسے ہی ہم نے بس کو لپکنا چاہا ،اس کی چال میں اچھال آیایعنی اس نے رفتار پکڑ لی ، لیکن ہم نے بھی ہمت نہیں ہاری، فلم شعلے میں ’’بسنتی ‘‘ کا تو یہاں ہماری عزت کا سوال تھا، ہماری دیوانگی کا یہ عالم تھا کہ بس کو لپکنے کی چاہ میں کبھی بس آگے ہوجاتی تو ہم پیچھے رہ جاتے اور کبھی ہم آگے ہوجاتے تو بس پیچھے رہ جاتی …بالآخر ہم بس کو پکڑنے میں کامیاب ہو ہی گئے ، لیکن اچانک ہمارا پیر فٹ بورڈ سے پھسلا ، پیرکا پھسلنا تھا کہ بس کے ڈنڈے سے ہاتھ بھی پھسلا اورپلک جھپکتے ہم ’’ مسٹر نٹور لال‘‘بن گئے …جی ہاں ! ٹھیک اسی طرح جس طرح فلم ’’ مسٹر نٹور لعل‘‘ میں دو گھوڑ سوار انہیں رسیوں سے باندھ کرزمین سے گھسیٹتے ہوئے ویلن صاحب کے لے جاتے ہیں ، ہیرو ہونے کی بدولت امیتابھ بچن کو معمولی سی بھی خراش بھی نہیں آئی تھی جبکہ ہماری کہنیاں لہولہان ہوئی جارہی تھیں… لیکن ہم پھر بھی بس کے ڈنڈے کو چھوڑنے تیار نہ تھے ، ہماری اس کرتب بازی سے بس کے اندر موجود مسافرین بطور خاص ہمارے ساتھیوں میں کھلبلی مچ گئی ،وہ شور مچانے لگے ، جس کا اثر یہ ہوا کہ ڈرائیور نے بس روک دی… بس کے رکتے ہی ہم اٹھے اوربس میں سوار ہوگئے ، ہمارے ساتھیوں کے علاوہ دیگر مسافرین نے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیا…ہمیں ٹٹولنے لگے کہ ہم اور ہمارے کپڑے کہاں کہاں سے پھٹ چکے ہیں ؟دریں اثنا بس کا ڈرائیوراپنی سیٹ چھوڑ کر دندناتا ہوا ہماری جانب آیا اور ہمیں کھا جانے والی نگاہوں سے گھورتے ہوئے کہا :مرنے کا شوق ہے تو کیا میری ہی بس ملی تھی؟ یہ کیا حماقت کی تم نے کہ بس کے ڈنڈے کو چھوڑنے کا نام نہیں لے رہے تھے،سڑک کی مسلسل رگڑسے پیٹ پھٹ کر آنتیں باہر آجاتیں تو اس کا کون ذمے دار ہوتا؟ ‘‘ ڈرائیور ہمیں سخت سست سنائے جارہا تھا، لیکن ہمارے کان مزیدکچھ سننے کے موقف میں نہیں تھے،ہم بہرے بلکہ بے بہرے ہوچکے تھے ،ڈرائیور کو حواس باختہ نگاہوںسے تکے جارہے تھے، جس کا منہ کھل اور بند تو ہورہا تھا لیکن اس کی باتیں ہمیں قطعی سنائی نہیں دے رہی تھیں، البتہ مغنی تبسم صاحب کا یہ شعر ذہن میں کہرام مچائے ہوئے تھا:
گرنا نہیں ہے اور سنبھلنا نہیں ہے اب
بیٹھے ہیں رہ گزار پہ چلنا نہیں ہے اب
گرنا بری بات ہے لیکن اس کو کیا کیجیے کہ آدمی گرے بنا سنبھلتا بھی نہیں ہے ،سنبھلنے کے لیے کم از کم ایک بارگرنا لازمی ہے ۔سنا ہے آدمی کے گرنے کے علاوہ ،خوبصورت چہرے پر زلفوں کاگرنا بھی جان لیوا ہوتا ہے …بقول سہیل ثانی :
رخ روشن پہ زلفوں کا یہ گرنا جان لیوا ہے
اور اس پر یہ ستم دلبر ہٹانا بھول جاتا ہے
چہرے پر زلفوں کا گرنا توآدمی برداشت بھی کر جائے لیکن نظروں سے گرنا،روح فنا کردیتا ہے … فی زمانہ سیاست دان اقتدار کی خاطرکسی کی نظروں میں تو کجا خود ا پنی نظروں میںگرنا تک گوارا کرنے لگے ہیں … غالباً انہوں نے ’’ جتنا گروگے،اتنا اٹھو گے‘‘ کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا ہے … آنجہانی لعل بہادرشاستری جیسے رہنما اب کہاں کہ ریل حادثہ کسی کی نا اہلی کی وجہ سے رونما ہوتا ہے اور شاستری جی محض وزیر ریلوے ہونے کی وجہ سے کابینہ سے مستعفی ہوجاتے ہیں:
سفر کے بعد بھی مجھ کو سفر میں رہنا ہے
نظر سے گرنا بھی گویا خبر میں رہنا ہے
عادل رضا منصوری
وہ سیاست داں جو آج کھلے عام جمہوریت کی دھجیاں اڑا رہے ہیں ،معصوم اور سادہ لوح عوام کے احساسات اور جذبات کا خون کر رہے ہیں ،نفرت کا زہر پھیلا رہے ہیں ،وہ سعید اختر کے اس شعر کوہرگز فراموش نہ کریں :
تجھے بھی منہ کے بل گرنا پڑے گا
ابھی تو سر سے ٹوپی ہی گری ہے
۰۰۰٭٭٭۰۰۰

تبصرہ کریں

Back to top button