جودھپور میں کرفیو جاری‘ 141 افراد گرفتار

مسلمان‘ ایک چوراہا پر عیدمبارک کی جھنڈیاں لگارہے تھے کہ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی طرف سے لگایا گیا بھگوا جھنڈا غائب ہوگیا۔ اس کے بعد سنگباری اور جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں نے اشوک گہلوت اور بی جے پی میں لفظی جنگ چھڑگئی۔

جئے پور: عید سے قبل پرچم لہرانے کے مسئلہ پر چیف منسٹر اشوک گہلوت کے حلقہ جودھپور میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے سلسلہ میں تاحال 141  افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ جودھپور کے 10پولیس اسٹیشن علاقوں میں دوسرے دن بھی کرفیو جاری ہے۔ صورتِ حال قابو میں ہے اور تشدد کا کوئی تازہ واقعہ پیش نہیں آیا۔ نظم وضبط کی برقراری کے لئے تقریباً ایک ہزار پولیس والے تعینات کئے گئے ہیں۔

 جودھپور کے ڈپٹی کمشنر پولیس نے کرفیو نافذ کرنے کے علاوہ موبائل انٹرنیٹ سروس معطل کردینے کا حکم دیا تھا۔ اشوک گہلوت نے منگل کے دن عوام سے اپیل کی کہ وہ امن اور ہم آہنگی برقرار رکھیں۔ انہوں نے 2 وزرا راجندر یادو اور سبھاش گرگ کے علاوہ اے سی ایس ہوم ابھئے کمار اور اے ڈی جی لا اینڈ آرڈر ہوا سنگھ گھمریہ کو جودھپور بھیجا۔

 جودھپور کے جالوری گیٹ سرکل میں پیر کی نصف شب اسلامی جھنڈیاں لگانے کے مسئلہ پر کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔ سنگباری کے نتیجہ میں 5 پولیس والے زخمی ہوئے تھے۔ منگل کی صبح صورتِ حال قابو میں آئی لیکن عیدگاہ میں نماز کے بعد پھر کشیدگی پیدا ہوئی۔ پولیس کی بھاری فورس تعینات کرنی پڑی۔ جالوری گیٹ علاقہ میں دکانوں‘ گاڑیوں اور مکانوں پر سنگباری ہوئی۔

مسلمان‘ ایک چوراہا پر عیدمبارک کی جھنڈیاں لگارہے تھے کہ دوسرے فرقہ کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ ان کی طرف سے لگایا گیا بھگوا جھنڈا غائب ہوگیا۔ اس کے بعد سنگباری اور جھڑپیں ہوئیں۔ ان جھڑپوں نے اشوک گہلوت اور بی جے پی میں لفظی جنگ چھڑدی۔

نیوزچیانلس سے بات چیت میں اشوک گہلوت نے کہا کہ انہیں بدنام کرنا بی جے پی کا ایجنڈہ ہے۔ ہندو مسلم فسادبھڑکانا بی جے پی کا کام ہے۔ بی جے پی والے کب تک مذہبی صف بندی کی سیاست کریں گے؟۔ یہ ملک سبھی مذاہب اور ذاتوں کا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button