حجابی احتجاج اور مسلمان

ڈاكٹر مفتی محمد مصطفی عبد القدوس ندوی

(عمید كلیۃ البحث والتحقیق والافتاء‘ جامعۃ العلوم‘ گجرات)

 اس وقت پوری دنیا میں حجاب كا چرچا ہے، خود ہندوستان میں جہاں حجاب كی موافقت میں احتجاجات ہورہے ہیں وہیں مخالفت میں بھی نعرۂ بازیاں ہورہی ہیں اور میڈیا والے بھی آگ میں ایندھن ڈالنے كا كام كر رہے ہیں ، اس وقت حجاب عالمی موضوع بن چكا ہے ۔ ویسےاس وقت دنیا كے حالات جو بنے ہوئے ہیں۔

وہ كسی سے مخفی نہیں، باد مخالف اندرون خانہ اور بیرون ملك چل رہی ہے ، گردش ایام ، لیل ونہار كی آمد ورفت اور دن گذرنے كے ساتھ ساتھ تیز سے تیز تر ہوتی جارہی ہے ، دنیا كے نقشہ پر حالات تیزی سےبدل رہے ہیں ، نہیں معلوم اونٹ آئندہ كس كروٹ بیٹھے گا؟لیكن ہم مسلمان ہیں، اور مسلمان باد مخالف سے نہیں ڈرتے ہیں ، وہ تیز تند طوفان سے بھی خائف نہیں ہوتے ہیں ، ان كا حال یہ ہے جیسا كہ قرآن نے بیان كیا ہے كہ سخت سے سخت ناساز گار حالات میں ان كا ایمان اور مضبوط ومستحكم ہوتا ہے اور اللہ اور اس كے دین پر یقین بڑھتا ہے:

یہ بھی پڑھیں

وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا(احزاب: ۲۲)۔

كسی اہل بصیرت اور دل دانا پر مخفی نہیں كہ ادھر چند سالوں سے اندر باہر پوری دنیا میں آئے دن اسلام اور مسلمانوں كے مخالف نت نئے مسائل سر اٹھاتے چلے جارہے ہیں، خود ہندوستان میں تین طلاق كا مسئلہ ، كبھی سی اے، این آر سی ، تو كبھی مسجد كا مسئلہ ، كبھی نماز جمعہ، ان دنوں لاؤڈاسپیكرپراذان اورحجاب كا مسئلہ سر گرم ہیں اور میڈیا كا موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔

صورت حال یہ ہے كہ ایك مسئلہ ختم نہیں ہوتا ہے كہ دوسر ا سر پر آجا تا ہے ، اور حقیقت یہی ہے كہ ایك كےبعد دوسرا تیسرا مسئلہ پید ا ہوتا رہے گا، یہ ایك ایسا سلسلہ ہے جو چلتا رہے گا، سب كا معلوم ہے كہ حق وباطل كی كشمكش روز اول سے جاری ہے اور رہتی دنیا تك جاری رہے گی۔ بس سوچنے كامقام ہے كہ ان حالات میں ہمیں كیا كرنا چاہئے اور ہمارا كیا فریضہ ہے ؟

ابھی جو حالات بنے ہوئے ہیں، ان میں جوش وخروش كے بجائے ہوش كی زیادہ ضرروت ہے ، ورنہ فائدہ كم نقضان زیادہ ہوسكتا ہے ۔ كبھی حالات كے اعتبار سے تخلف اختیار كرنے میں دشمن كی شكست نظر آتی ہے ، آج كل اكثر ایسا ہو رہا ہے كہ ہمارا دشمن جتنا زیادہ چوكنا اور بیدار ہے ہم اتنا ہی غاغل اور لاپرواہ ہیں ، پیتل كی طرح فورًا گرم ہو تے اور پھر جلد ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور مسئلہ حل نہیں ہوتا ہے۔

بہر حال اس وقت صورتحال میں سیاسی مبصرین كا تجزیہ ہے كہ حجابی احتجاج اس زور سےجاری ركھنے میں نقصان كا اندیشہ ہے مسلم مخالف میڈیا جور توڑ كر ہمارے مخالف كو فائدہ پہونچانے كے چكر میں ہیں ، ایسے میں ہوشیار ہونے كی ضرورت ہے ورنہ ہماری نادانی سے غلط فائدہ نہ اٹھا لیا جائے اور ہم منہ تكتے رہ جائیں، ہمارا حجاب كا مسئلہ عدالت میں زیر غور ہے ، اس لئے حجابی احتجاج كے زور كو روكا جائے اور كچھ دنوں كے لئے توقف اختیار كیا جائے، اس كے نتائج بہتر ثابت ہو نگے، ابھی ہونے والے الیكشن كی طرف توجہ مركوز كی جائے۔ اللہ تعالیٰ كا ارشاد ہے:

وَجَادِلْهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ(النحل: ۱۲۵)

’’اور ان سے بہتر طریقہ پر بحث كیجئے‘‘۔ یعنی اگر مخالفین بحث وتكرار پر اتر آئیں اور دور حاضر كے پس منظر میں وہ بھی احتجاج پر اتر آئیں، اس سے ان كے مقابلہ میں ضرر كا اندیشہ ہو تو پیتر ابدلا جائے اور مزید احتجاج كركے یا احتجاج میں زور پیدا كر كے ضد كا راستہ اختیار نہ كیا جائے؛ كیونكہ اس سے ان میں ضد پیدا ہوگی اور معاملہ بگڑے گا، ایك دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے اہل كتاب سے مباحثہ كے بارے میں فرمایا:

وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَابِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (عنكبوت: ۴۶)

’’اہل كتاب سے ایسے طریقہ سے بحث كیا كرو، جو سب سے بہتر ہو‘‘؛ لہٰذا حالات كا تقاضا ہے كہ حجابی احتجابی میں تیزی لانے سے بچاجائے ، حذبات كو قابو میں ركھا جائے، اللہ تعالیٰ سے رجوع اور دعا كا اہتمام كیا جائے، جذباتی اور بھڑكاؤ والے بیان سے گریز كیا جائے اور عدالت كے فیصلہ كا انتظار كیا جائے اور ا س درمیان میں الیكشن بھی ختم ہوچكا ہو گا۔

اس كے بعد سوچ سمجھ كر منصوبہ بند مناسب قدم اٹھایا جائے، جو ایك طرف جہاں ملك كے آئین كےاندر اور اس كے مطابق ہو ، تو وہیں دوسری طرف بڑا مؤثر لیكن سڑك پر نہ ہو، قانونی چارہ جوئی كے ذریعہ ہو، جیسا كہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بھی حالات كی نزاكت كو سامنے ركھتے ہوئے اعلامیہ جاری كیا اور امت مسلمہ كے بہ خواہوں سے درخواست كی ہے ’’مسئلہ كو سڑكوں پر لانے كے بجائے قانونی طریقۂ كار اور گفت وشنید كے ذریعہ حل كیا جائے۔ اور كسی حكیم نے بجا كہا : جب آپ مشكلات میں ہوں تو اپنے جذبات پر قابو ركھیں‘‘۔

٭٭٭

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button