حجاب پرمصر طالبات کو اسکول سے نکال دیا جائے، پرمود متالک زہریلا بیان

سری رام سینا کے صدر پرمود متالک نے کہا کہ یونیفام کو نظرانداز کرکے حجاب پر اصرار کرنا دہشت گردانہ ذہنیت ظاہر کرتا ہے اور ایسی طالبات کو اسکول سے لات مارکر نکال دینا چاہیے۔

ہبالی: ریاست کے بعض اسکولوں میں حجاب پر تنازعہ کے درمیان سری رام سینا کے صدر پرمود متالک نے کہا کہ یونیفام کو نظرانداز کرکے حجاب پر اصرار کرنا دہشت گردانہ ذہنیت ظاہر کرتا ہے اور ایسی طالبات کو اسکول سے لات مارکر نکال دینا چاہیے۔انہوں نے یہاں صحافیوں کو بتایا کہ اس ہٹ دھرمی میں وہ ذہنیت ہے جو انہیں (طلباء) دہشت گردی کی سطح تک لے جاتی ہے۔ اب وہ حجاب کہہ رہے ہیں، اس کے بعد وہ برقعہ کہیں گے اور پھر نماز اور مسجد کے لیے اصرار کریں گے۔

 یہ اسکول ہے یا آپ کا مذہبی مرکز؟“ انہوں نے حکومت سے اس مسئلہ پر کسی بھی عوامی بحث کی اجازت نہ دینے اور فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ میرا کہنا یہی ہے کہ عوامی بحث کے لیے موقع دیے بغیر انہیں (حجاب کے لیے اصرار کرنے والے طلباء) ٹرانسفر سرٹیفکیٹ جاری کرکے اسکول سے نکال باہر کیا جائے۔ یہ ذہنیت بے حد خطرناک ہے۔“ دائیں بازو کے لیڈر نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کو لڑکیوں کو سختی سے کہہ دینا چاہیے کہ حجاب پہن کر اسکول آنے کی ضرورت نہیں ہے۔

“ یہ نشاندہی کرتے ہوئے کہ یونیفارم کا مطلب یکسانیت اور مساوات ہے، متالک نے کہا کہ ضابطہ لباس اس لیے متعارف کرایا گیا تا کہ اونچی اور نچلی ذاتوں یا مذہبی شناختوں کا مظاہرہ نہ ہو۔ آپ گھر پر جو چاہے کرسکتے ہیں، مگر اسکول میں قدم رکھتے ہی آپ کو اپنے اسکول کے قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

“ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کولار ضلع کے کونیگال تعلقہ میں مسلم اکثریتی بومنا ہلی گاؤں  کے اسکول کی ایک ہندو ٹیچر کا تبادلہ کردیا گیا۔ کولار کے چنتامنی تعلقہ کے اسکول میں ایک اور واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے جہاں طلباء نماز ادا کرتے ہیں متالک نے استفسار کیا کہ کیا آپ اسے (ہندوستان کو) پاکستان یا افغانستان بنانا چاہتے ہیں؟ اپنی علاحدگی پسند ذہنیت کے ساتھ اگر آپ حجاب یا برقعہ کا مطالبہ کرتے ہیں تو پاکستان چلے جاؤ۔

“ انہوں نے حکومت سے اس طرح کی ذہنیت کو پنپ نے اور اس مسئلہ پر عوامی بحث کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا۔ایک ماہ قبل ہندو طلباء نے چکمگلورو ضلع کی جماعت میں باحجاب مسلم طالبات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے زعفرانی اوڑھنیاں پہن کر جماعتوں میں شریک ہونا شروع کردیا تھا۔

 ایسا ہی واقعہ اڈپی میں پیش آیا جہاں گورنمنٹ گرلز پری یونیورسٹی کالج کے پانچ طلباء نے حجاب کے بغیر جماعت میں داخل ہونے سے انکار کردیا۔ ایک ماہ تک جماعت سے دور رہنے کے بعد مقامی رکن اسمبلی کے رگھوپتی بھٹ جو کالج ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے صدر بھی ہیں نے دو دن قبل فیصلہ کیا کہ وہ حجاب کے ساتھ جماعت میں داخل نہیں ہوسکتیں۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button