حکومت، سوریہ نمسکار کے مجوزہ پروگرام سے باز آئے : مسلم پرسنل لا بورڈ

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے بیان میں کہا ہے دستور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی خاص مذہب کی تعلیم دی جائے، یا کسی خاص گروہ کے عقیدہ پر مبنی تقریبات منعقد کی جائیں۔

نئی دہلی: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت ایک سیکولر، کثیر مذہبی اور کثیر ثقافتی ملک ہے، اسی اصول پر ہمارے ملک کا دستور مرتب ہوا ہے۔

اسکولوں کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی اس کا لحاظ رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

دستور ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں کسی خاص مذہب کی تعلیم دی جائے، یا کسی خاص گروہ کے عقیدہ پر مبنی تقریبات منعقد کی جائیں۔

مگر بڑے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ حکومت اس اصول سے ہٹتی جا رہی ہے، اور وہ ملک کے تمام طبقات پر اکثریتی فرقہ کی سوچ اور روایت کو مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

اسی کا ایک مظہر یہ ہے کہ حکومت ہند کے انڈر سکریٹری وزارت تعلیم نے 75ویں یوم آزادی سالگرہ کے موقع پر ریاستوں میں سوریہ نمسکار کا ایک پروجیکٹ چلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں 30 ہزار اسکولوں کو پہلے مرحلہ میں شامل کیا جائے گا۔

یکم جنوری 2022ء سے 7 جنوری 2022ء تک کے لئے یہ پروگرام ترتیب دیا گیا ہے اور 26 جنوری 2022ء کو سوریہ نمسکار پر ایک میوزیکل پرفارمینس کا بھی منصوبہ ہے- ریاست آندھر ا پردیش کے تمام ضلعی تعلیمی افسران کو مرکزی حکومت کی طرف سے اس کی ہدایت دی گئی ہے۔

یہ یقینی طور پر غیر دستوری عمل ہے، اور حب الوطنی کا جھوٹا پرچار ہے، سوریہ نمسکار سورج کی پوجا کی ایک شکل ہے، اسلام اور ملک کی مختلف اقلیتیں نہ سورج کو معبود سمجھتی ہیں اور نہ اس کی پرستش کو درست جانتی ہیں۔

اس لئے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قسم کی ہدایت کو واپس لے اور ملک کے سیکولر اقدار کا لحاظ رکھے، ہاں، اگر چاہے تو حب الوطنی کے جذبہ کو ابھارنے کے لئے قومی ترانہ پڑھوائے۔

اگر واقعی حکومت وطن عزیزسے محبت کا حق ادا کرنا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ملک کے حقیقی مسائل پر توجہ دے۔

ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، گرانی، کرنسی کی قدر میں گراوٹ، باہمی منافرت کا باضابطہ پرچار، ملک کی سرحدوں کی حفاظت میں کوتاہی، حکومت کی طرف سے عوامی اثاثوں کی مسلسل فروخت، یہ وہ حقیقی مسائل ہیں، جن پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

مولانا رحمانی نے کہا کہ مسلمان بچوں کے لئے سوریہ نمسکار جیسے پروگرام میں شرکت قطعاََ جائز نہیں ہے اور اس سے بچنا ضروری ہے۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button