حکومت راہول گاندھی کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہی ہے: رندیپ سنگھ سرجے والا

کانگریس ترجمان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش کر رہی ہے۔ اگر عوامی سوال اٹھانا جرم ہے تو کانگریس بار بار اس جرم کا ارتکاب کرے گی اور مودی حکومت کے دولت مندوں کے مفادات کے کاموں میں رکاوٹ بنتی رہے گی۔

نئی دہلی : کانگریس نے کہا ہے کہ پارٹی کے سابق صدر راہول گاندھی چین کی دراندازی، کسان، بے روزگاری، مہنگائی جیسے مسائل اجاگر کر کے حکومت کو مسلسل کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہیں، اس لیے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کا استعمال کر کے ان کی آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔

کانگریس میڈیا سیل کے سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ای ڈی کی طرف سے گاندھی کو دوسرے دن پوچھ گچھ کے لئے بلائے جانے سے پہلے آج یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں صحافیوں سے کہا کہ گاندھی نے ہر مسئلے پر حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا ہے اور ان کے پاس کوئی جواب نہیں ہے ۔ اس لیے سرکاری ایجنسیوں کے ذریعے گاندھی کو ہراساں کر رہی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ گاندھی دو سال سے چینی دراندازی، کسانوں، نوجوانوں کے بے روزگاروں، غریبوں، مہنگائی اور قبائلیوں کے مسائل اٹھا رہے ہیں ، جس کی وجہ سے حکومت انہیں پریشان کررہی ہے ۔ حکومت نہیں چاہتی کہ کانگریس عوام کے مسائل اٹھائے ، اس لیے وہ کانگریس کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے، لیکن اس کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔

کانگریس ترجمان نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل کو اٹھانے والی آوازوں کو دبانے کی سازش کر رہی ہے۔ اگر عوامی سوال اٹھانا جرم ہے تو کانگریس بار بار اس جرم کا ارتکاب کرے گی اور مودی حکومت کے دولت مندوں کے مفادات کے کاموں میں رکاوٹ بنتی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کانگریس کی آواز کو دبانے کے لئے پورا دن سازش کی۔ اپنے 40، 50 وزیروں کواسی کام میں لگایا ، پسندیدہ ٹیلی ویژن چینلوں کے ذریعے کانگریس مخالف خبریں دن بھر نشر کرتے رہے ۔

 اپوزیشن میں رہ کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف جو بھی لیڈر آواز اٹھاتے ہیں ، ان کے خلاف ایجنسیوں کا استعمال کیا جاتا ہے، لیکن جیسے ہی یہ لیڈر حکومت کے کہنے پر کام کرتے ہیں یا بی جے پی میں شامل ہوتے ہیں، ان کے خلاف تمام کارروائی ختم ہو جاتی ہے ۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button