حکومت سازی کے 10دن کے اندر کسانوں کے قرض معاف کردیئے جائیں گے: پرینکا گاندھی

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اس کے لئے چھتیس گڑھ کی طرز پر اترپردیش میں آوارہ مویشیوں کے مسائل سے کسانوں کو نجات دلانے کے لئے’گودھن اسکیم‘ کا آغاز کریں گے۔ اس کے تحت دو روپئے فی کلو گرام کی شرح سے حکومت کسانوں سے گوبر خریدے گی۔

لکھنؤ: کانگریس نے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے لئے اپنے انتخابی منشور’انتی ودھان جن گھوشنا پتر‘ میں حکومت بننے پر 10دنوں کے اندر کسانوں کا پورا قرض معاف کرنے اور نوکریوں میں خواتین کو 40فیصدی ریزرویشن دینے جیسے متعدد پرکشش وعدوں کو شامل کیا ہے۔

 کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈر نے چہارشنبہ کو ریاستی کانگریس دفتر میں’انتی ودھان جن گھوشنا پتر‘ جاری کیا۔اس موقع پر کانگریس کے ریاستی صدر اجئے کمار للو اور سابق ریاستی صدر سلمان خورشید سمیت دیگر لیڈروں کی موجودگی میں انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح سے چھتیس گڑھ میں حکومت بننے کے تین گھنٹوں کے اندر کسانوں کا قرض معاف کیا گیا اسی طرح اترپردیش میں بھی قرض معافی کی جائے گی۔

واڈرا نے کہا کہ کانگریس کا دوسرا بڑا اعلان اترپردیش میں 20لاکھ روزگار دینے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اترپردیش میں ابھی 12لاکھ سرکاری اسامیاں خالی ہیں۔ ان اسامیوں کو پُر کر آتھ لاکھ روزگار کے اضافی مواقع پیدا کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے تین ودھان پتر(انتی ودھان، شکتی ودھان اور بھرتی ودھان)کے طور پر اپنا انتخابی منشور جاری کیا ہے۔

واڈرا نے کہا کہ کانگریس لیڈروں نے پورے صوبے میں گھوم کر عوام کے مسائل کی نشاندہی کر کے یہ منشور تیار کیا ہے۔ یہ عوام کی آواز کو اجاگر کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کسانوں کی قرض معافی، نوکریوں میں خواتین کو 40فیصدی ریزرویشن اور 20لاکھ روزگار کے علاوہ کسانوں کو آوارہ موشیوں کے مسائل سے نجات دینے کے بھی پختہ انتظامات کئے جائیں گے۔

کانگریس جنرل سکریٹری نے کہا کہ اس کے لئے چھتیس گڑھ کی طرز پر اترپردیش میں آوارہ مویشیوں کے مسائل سے کسانوں کو نجات دلانے کے لئے’گودھن اسکیم‘ کا آغاز کریں گے۔ اس کے تحت دو روپئے فی کلو گرام کی شرح سے حکومت کسانوں سے گوبر خریدے گی۔

اس گوبر سے آرگنک کھاد بنا کر کسانوں کو سستی شرحوں پر فروخت کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تجربہ چھتیس گڑھ میں کافی کارگر ثابت ہوا ہے۔اس سے کسانوں کو آوارہ مویشیوں سے نجات بھی ملی اور ان کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button