حیدرآباد ہندوستان کا میڈیکل ہب: کے کویتا

کے کویتا نے ٹی آر ایس حکومت کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اور ترقیاتی اقدامات جو کہ تمام شعبہ جات پر محیط ہیں جس کی وجہ ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کی راہ ہموار ہوتی جارہی ہے اس لئے تلنگانہ تمام کے لئے ترجیحی مقام بن گیا ہے۔

حیدرآباد: ایم ایل سی کے کویتا نے کہا کہ حیدرآبادکو ہندوستان کے میڈیکل ہب کی حیثیت سے حاصل ہوگئی ہے۔انھوں نے اس سلسلہ میں برسراقتدار ٹی آر ایس حکومت کی اقدامات کی ستائش کی اور کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے عوام کو طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ممکنہ خدمات انجام دیئے ہیں۔

کے کویتا نے ٹی آر ایس حکومت کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ ریسرچ اور ترقیاتی اقدامات جو کہ تمام شعبہ جات پر محیط ہیں جس کی وجہ ریاست کی ہمہ جہتی ترقی کی راہ ہموار ہوتی جارہی ہے اس لئے تلنگانہ تمام کے لئے ترجیحی مقام بن گیا ہے۔

عوام کی قابل لحاظ تعداد تلنگانہ کا رخ کررہی ہے۔اے آئی جے ہاسپٹل کے کولند کینسر بیداری پروگرام میں شرکت کرتے ہوئے رکن قانون ساز کونسل کے کویتا نے آج کہا کہ حکومت کی طبی خدمات کی وجہ عوام کو فراہم کردہ سہولتیں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

انھوں نے ڈاکٹر ناگیشور ریڈی کی کوششوں کی خدمات کی ستائش کی اور کہا کہ اے آئی جے ہاسپٹل کا اسٹاف بھی مسلسل خدمات انجام دے رہا ہے۔اس سلسلہ میں انھوں نے ریسرچ کے شعبہ کا تذکرہ کیا اور کہا کہ طبی ضروریات کی تکمیل کے لئے عصری سہولتوں سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

انھوں نے کہا کہ صحت مند زندگی کے لئے باقاعدگی سے طبی معائنہ کروایا جانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ کولن کینسر کا پتہ لگایا جاسکتا ہے اور یہ قابل علاج ہے بروقت علاج کرواتے ہوئے احتیاطی تدابیر کے بعد اس مرض سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے۔

کویتا نے کہا کہ کولن کینسر ایک ملک سے دوسرے ملک پھیلتا جارہا ہے خصوصاً ہندوستان میں جہاں کے افراد کی غذائی عادتیں مختلف ہیں۔اس لئے عوام کو چاہئے کہ وہ امراض کو شکست دینے کے لئے خود میں قوت مدافعت پیدا کریں اور صحتمند اور مقوی غذاؤں کا استعمال کریں باقاعدگی سے طبی معائنہ کرواتے ہوئے خود کو امراض سے دور رکھا جاسکتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ کولن کینسر قابل علاج ہے اور فوری طور پر تشخیص کروانے کے بعد اس کا علاج کروایا جائے تو یہ مرض ختم ہوجاتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button