ارکان کی معطلی کی منسوخی کیلئے تحریک پر ووٹنگ سے حکومت کا گریز کیوں؟: چدمبرم

چدمبرم نے ٹوئٹر پر کہا کہ راجیہ سبھا کے قواعد میں شامل قاعدہ نمبر 256(2) بے حد واضح ہے۔ کسی بھی رکن یا ارکان کی معطلی کو منسوخ کرنے کسی بھی وقت ایک تحریک پیش کی جاسکتی ہے۔

نئی دہلی: سینئر کانگریس قائد پی چدمبرم نے آج سوال کیا کہ راجیہ سبھا میں ارکان کی معطلی کو منسوخ کرنے ایک تحریک پیش کرنے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی اور کہا کہ حکومت کو ووٹنگ کے بعد ایسی تحریک کو شکست دینا چاہیے اور یہ بتانا چاہیے کہ وہ حق و انصاف کا احترام نہیں کرتی۔ یہاں یہ تذکرہ مناسب ہوگا کہ اگست میں منعقدہ پارلیمانی سیشن کے دوران راجیہ سبھا ارکان کے سرکش رویے اور ہنگامہ آرائی کی پاداش میں 12 اپوزیشن ا رکانِ پارلیمنٹ کو 29 نومبر کو پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کی مکمل کارروائی سے معطل کردیا گیا تھا جس کے بعد ایوانِ بالا کی کارروائی میں بار بار خلل ڈالا جاتا رہا ہے۔

اپوزیشن نے اس معطلی کو غیرجمہوری اور ایوانِ بالا کے تمام قواعد کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ چدمبرم نے ٹوئٹر پر کہا کہ راجیہ سبھا کے قواعد میں شامل قاعدہ نمبر 256(2) بے حد واضح ہے۔ کسی بھی رکن یا ارکان کی معطلی کو منسوخ کرنے کسی بھی وقت ایک تحریک پیش کی جاسکتی ہے۔ آج ایسی ایک تحریک پیش کی گئی تھی۔ اس کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟ حکومت ایسی تحریک پر ووٹنگ کرانے سے خوفزدہ کیوں ہے؟ حکومت کو ایسی تحریک کو شکست سے ہمکنار کرنے دیں اور یہ ظاہر کرنے دیں کہ وہ حق و انصاف کا احترام نہیں کرتی۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.