فضائی آلودگی پر ابھی تک قابو کیوں نہیں پایا گیا: سپریم کورٹ

چیف جسٹس این و ی رمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بنچ نے دہلی میں اسکول کھولے جانے پر ناراضگی ظاہر کی۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے دہلی اورمرکزی حکومت کی جمعرات کو پھرسرزنش کی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ وہ سنجیدگی کے ساتھ غور کرکے فضائی آلودگی کی سطح کو کم کرنے کے مناسب اقداما ت کریں اور جمعہ کی صبح 10 بجے تک ان کے بارے میں واقف کرائیں وگرنہ وہ کوئی آرڈر دے گی۔

چیف جسٹس این و ی رمن، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سوریہ کانت پر مشتمل بنچ نے دہلی میں اسکول کھولے جانے پر ناراضگی ظاہر کی۔

اس کے علاوہ فضائی آلودگی پھیلانے والے بڑے عوامل صنعتی یونٹس اور گاڑیوں کے خلاف مناسب کارروائی نہیں نہ کرنے شدید ناراضگی کا اظہار کیا۔ عدالت عظمیٰ نے مرکز اور دہلی حکومت کے ان دعوؤں کو خارج کردیا جن میں آلودگی کم کرنے کی تمام اقدامات کئے جانے کے دعوے کئے گئے ہیں۔

عدالت نے سوالیہ لہجہ میں کہاکہ جب تما م اقدامات کئے جارہے ہیں تو آلودگی کی سطح کیوں بڑھ رہی ہے۔ بنچ نے بیورو کریٹس کے کام کاج کے طریقوں پر ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کئے۔عدالت عظمیٰ نے مرکز، قومی راجدھانی خطہ دہلی حکومت اور دیگر فریقین سے کہا کہ ہم آپ کو 24 گھنٹے کا وقت دے رہے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ اس پر سنجیدگی سے غور کریں اور اس کا حل نکالیں۔

چیف جسٹس کی صدارت والی 3رکنی بنچ نے کہاکہ ہم کل صبح 10 بجکر 30 منٹ پر سماعت کرسکتے ہیں۔ آپ ہمیں آلودگی روکنے کے اقدامات کے آئندہ مراحل کے بارے میں بتائیں وگرنہ ہم کوئی آرڈر دیں گے۔عدالت نے خطرناک آلودگی کی سطح کے درمیان اسکولس کو کھولنے کی اجازت پر سنگین سوالات اٹھائے اور اس کے لئے دہلی حکومت کی سرزنش کی۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.