گجرات میں بی جے پی کو ہرانا، کانگریس کیلئے بڑا چیلنج

کانگریس‘یوپی میں بھی اقتدار سے بے دخل ہے لیکن اسے امید ہے کہ وہ گجرات میں ابھی بھی بی جے پی کے لئے بڑا چیلنج ہے جبکہ عام آدمی پارٹی اس مغربی ریاست میں قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔

نئی دہلی: وزیراعظم نریند رمودی کے آبائی گڑھ گجرات میں کانگریس 1989 سے اقتدار سے باہر ہے۔ تمام کوششوں کے باوجود وہ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل نہ کرسکی۔

شنکر سنہہ واگھیلا نے کانگریس کی مدد سے مختصر وقفہ کے لئے حکومت بنائی تھی۔ کانگریس‘یوپی میں بھی اقتدار سے بے دخل ہے لیکن اسے امید ہے کہ وہ گجرات میں ابھی بھی بی جے پی کے لئے بڑا چیلنج ہے جبکہ عام آدمی پارٹی اس مغربی ریاست میں قدم جمانے کی کوشش میں ہے۔

2017 کے انتخابات میں کانگریس نے بہتر مظاہرہ کیا تھا لیکن وہ جادوئی ہندسہ تک نہیں پہنچ سکی تھی۔ بعدازاں اس کے ارکان اسمبلی بی جے پی میں شامل ہوگئے تھے لیکن 2019کے عام انتخابات میں بی جے پی نے زبردست جیت حاصل کی اور کانگریس ایک نشست بھی حاصل نہیں کرپائی۔

عام آدمی پارٹی اور بی جے پی کا توڑکرنے کے لئے کانگریس نے نئی ٹیم بنائی ہے۔ رگھو شرما کو ریاستی انچارج بنایا گیا جبکہ کولی قائد اور سابق رکن لوک سبھا جگدیش ٹھاکر صدر پردیش کانگریس بنائے گئے ہیں۔

سابق ریاستی صدر ارجن مودواڈیہ نے کہا کہ عام آدمی پارٹی بڑا چیلنج نہیں ہے بلکہ بی جے پی بڑا چیلنج ہے۔ ہمیں یہ مان کر الیکشن لڑنا چاہئے کہ صرف کانگریس ہی بی جے پی کو ہراسکتی ہے۔ کانگریس‘ بی جے پی کی ناکامیوں کو سامنے لانے کے لئے سلسلہ وار احتجاجی پروگرام کرے گی۔

گجرات کے کانگریس قائدین نے سابق صدر راہول گاندھی کے ساتھ ہنگامی میٹنگ کی جس میں گجرات اسمبلی الیکشن کے تعلق سے تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ امکان ہے کہ گجرات اسمبلی الیکشن آئندہ سال دسمبر میں ہوگا۔ بی جے پی پر مشترکہ حملہ کے لئے کانگریس نے ہاردک پٹیل کو میدان میں اتارا ہے۔

ہاردک پٹیل‘ گجرات میں کانگریس کے کارگزار صدر ہیں۔ اسی دوران بی جے پی نے حکومت مخالف لہر پر قابو پانے کے لئے اپنی ساری ٹیم بدل دی ہے۔ اب ریاست پر بی جے پی کی گرفت مضبوط ہے۔ کانگریس اس ریاست پر قبضہ چاہتی ہے تاکہ وہ ملک میں عام انتخابات سے قبل ایک پیام بھیج سکے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.