بابری مسجد کی شہادت کی آج 29ویں برسی

آئی اے این ایس سے بات چیت میں اے ڈی جی لکھنو زون نے کہا کہ ہم نے ایودھیا میں کافی سیکیوریٹی فورسس تعینات کردی ہیں۔ کوئی خاص انٹلیجنس الرٹ نہیں ہے لیکن ہم پوری احتیاط برت رہے ہیں۔

ایودھیا۔5 دسمبر: ایودھیا میں سیکیوریٹی فورسس ہائی الرٹ ہیں حالانکہ کوئی انٹلیجنس الرٹ نہیں ہے لیکن پولیس جوکھم مول لینا نہیں چاہتی۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو ٹالنے کیلئے تمام احتیاطی اقدامات کئے جارہے ہیں۔

آئی اے این ایس سے بات چیت میں اے ڈی جی لکھنو زون نے کہا کہ ہم نے ایودھیا میں کافی سیکیوریٹی فورسس تعینات کردی ہیں۔ کوئی خاص انٹلیجنس الرٹ نہیں ہے لیکن ہم پوری احتیاط برت رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہیں سے کسی خطرہ کی توقع نہیں ہے‘ لیکن ہم نے تمام پہلوؤں پر نظررکھی ہے۔ تاحال شہر پرامن ہے اور ایس ایس پی نے صورتحال پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ نگرانی کیلئے آئی جی نے علاقہ میں پڑاؤ ڈال رکھا ہے۔ اے ڈی جی نے کہا کہ دو دن قبل جو فون کال آئی تھی، وہ غیراہم ہے۔

ایمرجنسی نمبر112پر ایک گمنام کال آئی تھی کہ ایودھیا سٹی اور زیرتعمیر رام مندر میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوں گے۔ 6 دسمبر1992ء کو کارسیوکوں نے بابری مسجد شہید کردی تھی‘ جس کے نتیجہ میں ملک کا سیاسی دھارا بدل گیاتھا۔ کیس کے تمام ملزمین بشمول لال کرشن اڈوانی، ایم ایم جوشی اور دیگر بری ہوچکے ہیں۔ مسلمان 6 دسمبر کو یوم سیاہ مناتے ہیں۔ متھرا سے پی ٹی آئی کے بموجب سٹی پولیس نے انسداد فساد مشق کی۔

دایاں بازو کے ایک گروپ نے 6 دسمبر کو یہاں کی ایک مسجد میں کرشن بھگوان کی مورتی رکھنے کی دھمکی دی تھی۔ ایک عہدیدار نے اتوار کے دن یہ بات بتائی۔ گروپ نے مورتی رکھنے کا اعلان گذشتہ ہفتہ واپس لے لیاتھا لیکن پولیس کوئی بھی جوکھم نہیں مول لیناچاہتی۔ ہفتہ کے دن پولیس لائنس میں ڈرل کی گئی۔

ایس ایس پی گورو گروور نے یہ بات بتائی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع مجسٹریٹ (کلکٹر) نونیت سنگھ چہل کی موجودگی میں ہتھیار چلاکردیکھ لئے گئے۔ دایاں بازوگروپ کے اس اعلان کے بعد کہ وہ شاہی عیدگاہ مسجد کے اندر ”مورتی استھاپت“ کرے گا پولیس نے شہر میں سیکیوریٹی بڑھادی تھی۔ اورنگ زیب کے دور کی ایک مسجد متھرا میں کیشودیومندر کے احاطہ سے متصل ہے۔ پولیس نے شہر میں دفعہ 144 نافذکردی۔ ہفتہ کی شام سے سرحدوں پر تلاشی لینے کا عمل شروع کردیاگیا۔ ایس پی سٹی مرتنڈپرکاش سنگھ نے یہ بات بتائی۔ شہر کو دو سوپرزونس، چارزونس اور 8 سیکٹرس میں بانٹاگیا۔ سینئر عہدیداروں کو فی کس ایک زون/سیکٹر کا انچارج بنایاگیا۔ اتوار کی صبح مختلف مقامات پر نیم فوجی دستے تعینات کردئیے گئے۔

7 دسمبر تک ٹریفک تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ مندر اور مسجد علاقہ کے قریب گاڑیوں کے آنے جانے پر مکمل امتناع ہے۔ گذشتہ ماہ اکھل بھارت ہندومہاسبھا کے قائد راجیہ شری چودھری نے اعلان کیاتھا کہ جل ابھیشک کے بعد مسجد کے اندر کرشن بھگوان کی مورتی رکھی جائے گی۔ اس گروپ اور دیگر چند گروپس کا دعویٰ ہے کہ بھگوان کرشن کی اصل جنم بھومی مسجد کے اندر ہے۔ 6 دسمبر بابری مسجد کی شہادت کا دن ہے۔

ذریعہ
آئی اے این ایس

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.