کشمیری طلبا کی قانونی مدد سے آگرہ کے وکلاء کا انکار

قانونی امداد نہ دینے کا جو فیصلہ آگرہ کے وکیلوں نے کیا ہے اس سے ملک میں سبھی کو یہ پیام جائے گا کہ کسی کو بھی قوم دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے والوں کی مدد نہیں کرنا چاہئے۔

آگرہ: یوپی کے اِس شہر کی کئی وکلاء تنظیموں نے یہاں کے ایک انجینئرنگ کالج کے 3کشمیری طلبا کی قانونی مدد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان طلبا پر غداری کا الزام ہے۔

واٹس ایپ اسٹیٹس پر پاکستانی کرکٹ ٹیم کی مبینہ ستائش پر ان کے خلاف انگریزوں کے زمانہ کے قانون کے تحت کیس درج ہوا ہے۔

صدر ینگ لائرس اسوسی ایشن آگرہ نتن ورما نے پی ٹی آئی سے کہا کہ ہم ملک دشمن یا سماج دشمن سرگرمی میں ملوث رہنے والوں کی قانونی مدد نہیں کریں گے۔ اس سے ملک کو پیام جائے گا کہ آگرہ کے وکیلوں نے ملک دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے والوں کو قانونی امداد فراہم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

ورما نے کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ ملک دشمن سرگرمیوں کی چھوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان طلبا کی طرف سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی ستائش کی مذمت کرتے ہیں۔

باہر سے کوئی بھی ان طلبا کی مدد کرنے آگرہ آیا تو ہم اس کی بھی مخالفت کریں گے۔ صدر آگرہ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن سنیل شرما نے بھی یہی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہند مخالف سرگرمی میں ملوث ہونے کا حق کسی بھی تنظیم کو نہیں ہے۔

قانونی امداد نہ دینے کا جو فیصلہ آگرہ کے وکیلوں نے کیا ہے اس سے ملک میں سبھی کو یہ پیام جائے گا کہ کسی کو بھی قوم دشمن سرگرمی میں ملوث ہونے والوں کی مدد نہیں کرنا چاہئے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.