کالی چرن مہاراج‘ مدھیہ پردیش سے گرفتار

مدھیہ پردیش کی بی جے پی زیرقیادت حکومت اور چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کے درمیان لفظی جنگ چھڑگئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے دعویٰ کیا کہ بین ریاستی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

رائے پور: چھتیس گڑھ پولیس نے آج پڑوسی ریاست مدھیہ پردیش سے ہندو مذہبی گرو کالی چرن مہاراج کو گاندھی جی کے خلاف توہین آمیز تبصرہ پر گرفتار کرلیا ہے۔ بہرحال اس کارروائی پر مدھیہ پردیش کی بی جے پی زیرقیادت حکومت اور چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کے درمیان لفظی جنگ چھڑگئی ہے۔ مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ نروتم مشرا نے دعویٰ کیا کہ بین ریاستی پروٹوکول کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

 چھتیس گڑھ کے چیف منسٹر بھوپیش بگھیل نے اس کی تردید کی اور مشرا سے جاننا چاہا کہ آیا وہ اُس شخص کی گرفتاری پر خوش یا غمزدہ ہیں جس نے گاندھی جی کی توہین کی ہے۔ بگھیل نے یہ بھی کہا کہ بابائے قوم کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کرنے پر کارروائی کی جائے گی۔ گاندھی جی نے ساری دنیا کو امن اور عدم تشدد کا پیام دیا ہے۔ رائے پور پولیس کی 3 علیحدہ ٹیمیں مہاراشٹرا‘ مدھیہ پردیش اور دہلی بھیجی گئی تھیں تاکہ کالی چرن کا پتہ چلایا جاسکے۔

 مدھیہ پردیش کو بھیجی جانے والی 7 رکنی ٹیم کو کامیابی ملی اور اس نے کالی چرن کو کھجوراہو کے قریب گرفتار کرلیا جہاں وہ  ایک کرایہ کے کمرہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔ رائے پور پولیس کی ایک ٹیم نے مخصوص اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے کالی چرن مہاراج عرف ابھیجیت دھننجئے سراگ کو صبح تقریباً 4 بجے باگیشور دھام کے قریب ایک کرایہ کے کمرہ سے گرفتار کرلیا جو مدھیہ پردیش میں کھجوراہو ٹاؤن سے تقریباً 25 کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔

 رائے پور کے سپرنٹنڈنٹ پولیس پرشانت اگروال نے پی ٹی آئی کو بتایا کہ اسے جمعرات کی شام بذریعہ سڑک یہاں لایا جائے گا اور تحویل میں لینے کے 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ بہرحال مدھیہ پردیش کے وزیرداخلہ مشرا نے چھتیس گڑھ پولیس کی کارروائی کو انتہائی قابل اعتراض قراردیا۔

 انہوں نے کہاکہ چھتیس گڑھ نے اس معاملہ میں جس طرح کارروائی کی ہے ہمیں اس پر اعتراض ہے۔ یہ بین ریاستی پروٹوکول کی خلاف ورزی ہے۔ چھتیس گڑھ کی کانگریس حکومت کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ وفاقی ڈھانچہ ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔ انہیں چاہئے تھا کہ وہ ہمیں اطلاع دیتے۔ اگر وہ چاہتے تو ایک نوٹس بھیجتے ہوئے اسے طلب کرسکتے تھے۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.