تلنگانہ، باپ اور بیٹے کے شکنجہ میں:وائی ایس شرمیلا

ضلع رنگاریڈی کے ابرہیم پٹنم میں اپنی پیدل یاترا کے تحت روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان، طالبان کے تسلط میں ہے ٹھیک ویسے ہی سرزمین تلنگانہ کے سی آر اور کے ٹی آر کی مکمل اجارہ داری اور تسلط ہے۔

حیدرآباد: صدر وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ ریاست تلنگانہ، چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ اور ان کے فرزند کے ٹی راما راؤ کے شکنجہ میں کسا ہوا ہے۔ آج ضلع رنگاریڈی کے ابرہیم پٹنم میں اپنی پیدل یاترا کے تحت روڈ شو سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جس طرح افغانستان، طالبان کے تسلط میں ہے ٹھیک ویسے ہی سرزمین تلنگانہ کے سی آر اور کے ٹی آر کی مکمل اجارہ داری اور تسلط ہے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست کو باپ بیٹے کے تسلط سے نجات دلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر کی حکمرانی میں کسانوں کو اپنی مرضی کی فصل اگانے کی آزادی سے محروم کردئیے گئے۔ شرمیلا نے کہا کہ کس زمین پر کونسی فصل اگانا چاہئے اس ب ارے میں صرف کسان ہی مکمل واقفیت رکھتا ہے۔ اس موضوع میں حکمرانوں کی دخل اندازی ناقابل فہم ہے۔ حکمرانوں کی مداخلت کسانوں کے حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے۔

حکومت کی جانب سے موسم خریف کے دوران دھان کی کاشت نہ کرنے کا مشورہ دینا ناقابل عمل اور باعث افسوس قرار دیتے ہوئے شرمیلا نے کہا کہ حکومت کی ناقص زرعی پالیسی کی وجہ سے کسان مایوس ہیں گذشتہ7 سالوں کے دوران8,000 کسانوں نے خود کشی کرلی ہے۔

 انہوں نے کہا کہ کے سی آر جو خود کو موافق کسان حکمراں قرار دیتے ہیں، کے پاس کسانوں کی خود کشیوں کا کیا جواب ہے۔ وائی ایس آر تلنگانہ پارٹی قائد نے کہا کہ ریاست میں کسانوں کے لئے ان پٹ سبسیڈی نہیں ہے۔ فصلوں کو بیمہ کی سہولت نہیں ہے۔ شعبہ زراعت کو بوجھ بنا دیا گیا۔

کے سی آر کی جانب سے انتخابات کے دوران کئے گئے وعدوں کو کاغذی سطح تک محدود ہونے کا الزام لگاتے ہوئے وائی ایس شرمیلا نے کہا کہ صورتحال میں تبدیلی لانا ضروری ہے اور یہ کام ٹی آر ایس کو شکست سے دوچار کرتے ہوئے انجام دیا جائے گا۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.