موجودہ مرکزی حکومت ملک کی تاریخ کی بدترین حکومت: کے سی آر

پرگتی بھون میں ریاستی کابینی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کے مفادات کے تحفظ او رفلاح وبہبود کے خاطر بی جے پی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے۔

حیدرآباد: چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے موجودہ مرکزی حکومت کو ملک کی تاریخ کی بدترین حکومت قرار دیا۔

آج پرگتی بھون میں ریاستی کابینی اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کے مفادات کے تحفظ او رفلاح وبہبود کے خاطر بی جے پی حکومت کا خاتمہ ضروری ہے۔

اس عوام مخالف حکومت کے خلاف اعلان جنگ کی ضرورت ہے۔ چیف منسٹر نے کہا کہ ملک بھر میں غذائی اجناس کی وصولی اور عوامی نظام تقسیم کے ذریعہ ملک کو تقسیم کرنے، ملک کے عوام کی غذائی ضروریات کی تکمیل، غذائی ضرورتوں کی تکمیل کیلئے بفر اسٹاک مینٹیننس کی ذمہ داری مرکزی حکومت پر عائد ہوتی ہے اور حکومت وقت کی دستوری ذمہ داری ہے۔

گذشتہ70 سالوں سے ہر مرکزی حکومت اس ذمہ داری کو ادا کرتی آئی ہے مگر آج مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت اس ذمہ داری سے راہ فرار اختیار کررہی ہے۔ بدترین قوانین تدوین کرتے ہوئے کسانوں کو پریشانیوں کی نذر کردیا گیا۔

کسان احتجاج کرنے پر مجبور ہوگئے، بارش، دھوپ، سردی اور کورونا کے باوجود کسانوں کو سڑکوں پر آنا پڑا۔ بے شمار مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا۔ کسانوں کو دہشت گرد بھی قرار دیا گیا، فرضی مقدمات درج کئے گئے، احتجاج کے دوران750 کسانوں کی موت ہوگئی۔

کے سی آر نے مرکزی حکومت اور بی جے پی کو قاتل جماعت قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کسانوں کے مفادات کے بجائے اڈانی اور امبانی کے مفادات کیلئے کام کررہی ہے دوسری طرف بی جے پی قائدین ٹی آر ایس کے خلاف زہر افشانی کو روز مرہ کا معمول بنالیا ہے۔

مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی کے اختیار کردہ طرز عمل اور ان کے لب ولہجہ پر برہمی ظاہر کرتے ہوئے کے چندر شیکھر راو نے کہا کہ موسم خریف کے دوران تلنگانہ کو حاصل ہونے والی فصل بائلڈ رائس ہے، اگر کسان دھان کو بائلڈرائس میں تبدیل نہ کریں تو انہیں صرف50فیصد فصل ہی حاصل ہوگی۔ اس حقیقت کو نظر میں رکھتے ہوئے دھان خریدنے کے بجائے الٹے سیدھے بیانات دیتے ہوئے کسانوں کو گمراہ کیا جارہا ہے۔

چیف منسٹر نے کہا کہ عموماً کسی ریاست کے قائد کا مرکزی کابینہ کا حصہ ہونے پر ریاست کے عوام میں خوشی ومسرت دیکھی جاتی ہے مگر یہاں معاملہ الٹا ہے۔ کشن ریڈی کو چاہئے کہ وہ مرکز پر دباؤ ڈالتے ہوئے اسے بتائیں کہ ریاست میں موسم خریف کے دوران صرف بائلڈ رائس ہی حاصل ہوتا ہے اور مرکزی حکومت کو لازمی طور پر ہے خریدنا ہوگا۔

انہیں ریاست کے موافق رویہ اختیار کرتے ہوئے ریاست کا سچا سپاہی ثابت ہونا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں کرسکتے ہیں تو انہیں کمزور اور بزدل ہی تصور کیا جائے گا۔ چیف منسٹر نے اس طرح کے لب ولہجہ کو اختیار کرنے پر معذرت خواہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ چیف منسٹر ہونے کے باوجود اس طرح کا لب ولہجہ استعمال کرنے کیلئے مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشن ریڈی غیر ذمہ دارانہ اور جنونی کی طرح بات کررہے ہیں۔ انہیں تلنگانہ کے مفادات میں بات کرنا چاہئے مگر وہ اپنی نااہلی کو ٹی آر ایس پر تھونپ رہے ہیں جبکہ بی جے پی، مخالف کسان حکومت ہے۔ بیکار قوانین تدوین کئے گئے اور خود ان کی جماعت کے وزیر اعظم کو قوم سے معذرت خواہی کرنی پڑی ہے۔ ایسی جماعت کے قائد کو کسانوں کے متعلق بات کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ کے سی آر نے کہا کہ ٹی آر ایس حکومت کی کارکردگی مثالی ہے۔

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.