بی جے پی ہندوتوا پر شیوسینا کو سبق نہ پڑھائے: سنجے راوت

سنجے راوت نے آج یہاں میڈیا سے کہا کہ امیت شاہ کل پونے میں اپنی تقریر میں کیا کہنا چاہتے تھے، وہ خود نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔

ممبئی: شیوسینا کے ترجمان سنجے راوت نے پونے میں ہندوتوا کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ریمارکس پر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور پوچھا کہ مسٹر شاہ کیا کہنا چاہتے ہیں، اسے وہ خود نہیں سمجھتے۔

سنجے راوت نے آج یہاں میڈیا سے کہا کہ امیت شاہ کل پونے میں اپنی تقریر میں کیا کہنا چاہتے تھے، وہ خود نہیں سمجھ پا رہے ہیں۔

راوت نے کہا کہ شیوسینا ایک ہندوتوا وادی پارٹی تھی اور ہمیشہ ملک میں ہندوتواوادی پارٹی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی لیڈروں کو شیو سینا کو ہندوتوا کا سبق نہیں پڑھانا چاہئے کیونکہ شیوسینا کی وجہ سے بی جے پی اتنی بڑی پارٹی بن پائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب بی جے پی کی پول کھل رہی ہے۔ حال ہی میں بی جے پی کی حکومت والی ریاست کرناٹک میں سماج دشمن عناصر کی جانب سے چھترپتی شیواجی مہاراج کے مجسمے پر سیاہی پھینکی گئی تھی، جس پر وزیر اعلیٰ نے کہا تھا کہ یہ ایک چھوٹا سا واقعہ ہے، اس کے لیے ریاست میں احتجاج یا پتھراؤ کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ بی جے پی کتنی ہندوتوا وادی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سال 2019 میں الیکشن سے پہلے انتخابی معاہدہ ہوا تھا کہ دونوں پارٹیوں کے وزیراعلیٰ ڈھائی سال کے لیے بنائے جائیں گے لیکن انتخابات کے بعد بی جے پی مکر گئی ۔ انہوں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کس نے کس کو دھوکہ دیا۔؟

انہوں نے کہا کہ بی جے پی پچھلے دو تین سالوں سے مہاراشٹر حکومت کے بارے میں عوام میں الجھن پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن وہ ایسا کرنے میں کامیاب نہیں ہوگی۔ ان کی حکومت اچھی چل رہی ہے اور اپنی مدت پوری کرے گی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.