مہاراشٹر کے 12 بی جے پی ارکان اسمبلی کی معطلی پر سپریم کورٹ کا فیصلہ محفوظ

جسٹس اے ایم کھانولکر کی صدارت والی بینچ نے سماعت کے بعد متعلقہ فریقوں کو دو ہفتے کے اندر اپنی درخواست تحریری طورپر پیش کرنے کو کہا اور اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے مہاراشٹر میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جےپی) کے 12 ارکان اسمبلی کے ایک سال کےلئے اسمبلی سے معطل ہونے کے معاملے میں بدھ کو اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔

ان اپوزیشن اراکین پر اسمبلی کے اندر اور باہر پریزائڈنگ افسر کے ساتھ برا برتاؤ کرنے کے الزامات ہیں۔

جسٹس اے ایم کھانولکر کی صدارت والی بینچ نے سماعت کے بعد متعلقہ فریقوں کو دو ہفتے کے اندر اپنی درخواست تحریری طورپر پیش کرنے کو کہا اور اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ۔

بینچ نے رکن اسمبلی آشیش شیلار کی قیادت میں معطل اراکین اسمبلی کے ذریعہ دائر ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عرضی گزاروں کی اس دلیل پر اتفاق ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سال کےلئے معطل کی کارروائی ’معطلی سے بھی بدتر ‘ مانی جائے گی کیونکہ ایوان میں متعلقہ پارلیمانی حلقے کی نمائندگی نہیں ہوگی۔

عدالت عظمیٰ کی بینچ نے آئینی التزامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ کوئی پارلیمانی حلقہ چھ مہینے سے زیادہ وقت تک بغیر نمائندگی کے نہیں رہ سکتا ۔ ایسے میں ان پارلیمانی نمائندوں کا ایک سال معطلی کی سزا کے زمرے میں آئے گا۔

بینچ نے کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 190(4) میں کہا گیا ہے کہ اگر کوئی رکن ایوان کی اجازت کے بغیر 60 دنوں کی مدت کےلئے غیر موجود رہتا ہے تو وہ سیٹ خالی مانی جائے گی۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.