مذہب کی تبدیلی کو روکنے عیسائی مشنریوں کے سروے کا حکم

ریاست میں بڑے پیمانے پر مذہب کی تبدیلی کی چہ می گوئیوں کے پس منظر میں یہ احکام جاری کیے گئے۔ یہ فیصلہ پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود کمیٹی نے وکاس سودھا میں منعقدہ اجلاس میں لیا۔

بنگلورو: پسماندہ طبقات اور اقلیتی بہبود کے محکمہ نے عہدیداروں کو ریاست میں سرگرم سرکاری اور غیرسرکاری عیسائی مشینریوں کے سروے کا حکم دیا ہے۔

ریاست میں بڑے پیمانے پر مذہب کی تبدیلی کی چہ می گوئیوں کے پس منظر میں یہ احکام جاری کیے گئے۔ یہ فیصلہ پسماندہ طبقات و اقلیتی بہبود کمیٹی نے وکاس سودھا میں منعقدہ اجلاس میں لیا۔

ارکا ن اسمبلی گولی ہٹی شیکھر، پٹارنگا شیٹی، بی ایم فاروق، ویروپکشپا بیلاری، اشوک نائیک اور دیگر نے اجلاس میں شرکت کرکے اس معاملے پر تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے عیسائی مشنریوں کے رجسٹریشن پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

کمیٹی کے ارکان نے مذہب تبدیل کرنے والوں سے سرکاری سہولتیں واپس لینے کی تجویز پیش کی۔ بی جے پی رکن اسمبلی گولی ہٹی شیکھر نے کہا کہ دستیاب ابتدائی معلومات کے مطابق ریاست میں سرگرم 40فیصد گرجا گھر غیرسرکاری ہیں۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار جمع کیے جارہے ہیں۔

چیف منسٹر بسواراج بومئی نے اعادہ کیا کہ ان کی حکومت ریاست میں جبری تبدیلی مذہب پر امتناع عائد کرنے قانون سازی کرے گی۔

حکومت ملک کی مختلف ریاستی حکومتوں کی جانب سے نافذ کردہ قوانین کا مطالعہ کررہی ہے۔ کرناٹک میں بھی عنقریب اس سلسلہ میں قانون سازی کی جائے گی۔ بی جے پی رکن اسمبلی گولی ہٹی شیکھر نے مانسون اجلاس کے دوران تبدیلی مذہب کامسئلہ اٹھایا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.