کرناٹک میں کانگریس نئے تنازعہ کی شکار

شیواکمار کے وزیر رہنے کے دوران مبینہ اسکام پر پارٹی قائدین کی گفتگو کا ویڈیو وائرل

بنگلورو: کرناٹک میں کانگریس آج بذات خود سب کی نگاہوں کا مرکز بن گئی کیونکہ ایک ویڈیو میں پارٹی کے ذرائع ابلاغ کے رابطہ کار ایم اے سلیم اور سابق رکن لوک سبھا وی ایس اگرپا کے درمیان مبینہ گفتگو کو دکھایا گیا اور اسے صدر اسٹیٹ کانگریس ڈی کے شیواکمار سے منسوب کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ یہ ایک مبینہ اسکام تھا جو اس وقت ہوا تھا جب وہ ایک وزیر تھے۔

وائرل ہوجانے والی کلیپنگ پر سخت اعتراض کرتے ہوئے شیوا کمار نے کہا کہ وہ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کے بات چیت ہوئی تھی اور جو کچھ گفتگو ہوئی تھی اسے مسترد کردیا۔

پارٹی نے تیز رفتار کاروائی کرتے ہوئے سلیم کو 6 سال کے لئے پارٹی سے معطل کردیا اور اگرپا کو جو کانگریس ترجمان ہیں نوٹس وجہہ نمائی جاری کرتے ہوئے ان سے کہا کہ وہ تین دن کے اندر وضاحت کریں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ گفتگو محکمہ آبپاشی میں اسکام سے تعلق رکھتی ہے جب شیوا کمار کانگریس۔ جنتادل ایس مخلوط حکومت کے جو 14 ماہ تک چلی تھی اور جون 2019 کے دوران بیدخل ہوگئی تھی وزیر آبپاشی تھے۔

اس ویڈیو سے بی جے پی کو کانگریس اور شیوا کمار پر تنقید کی ایک وجہ مل گئی ہے اور زعفرانی جماعت کے ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ اس ڈرامہ کے پیچھے سابق چیف منسٹر سدارامیا ہیں۔

تاہم اگرپا نے وضاحت کی کہ سلیم انہیں صرف یہ بتارہے تھے کہ بی جے پی قائدین 7 اکتوبر سے انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 4 ریاستوں میں جن میں کرناٹک و مہاراشٹرا بھی شامل ہیں آبپاشی و شاہرا پراجکٹ کی انجام دہی کے سلسلہ میں تین بڑے کنٹراکٹرس کے خلاف دھاوؤں کے سلسلہ میں کیا گفتگو کررہے ہیں۔

انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ نے منگل کے دن ایک بیان میں بتایا کہ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ کے عہدیداروں نے تلاشی لیتے ہوئے 750 کروڑ روپے کی آمدنی کا پتہ چلایا تھا جس کا انکشاف نہیں کیا گیا تھا۔

ذریعہ
پی ٹی آئی

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.