مولانا آزاد اُردو یونیورسٹی کو قدرتی چٹانوں کے تحفظ پر ایوارڈ

سوسائٹی نے کیمپس کی تعمیر و توسیع کی منصوبہ بندی میں قدیم گرانائٹ کی چٹانوں کے تحفظ کو ملحوظ رکھنے اور ”پتھر دل“ نامی ہیریٹیج چٹان کے قدرتی حسن کے دلفریب نظارے کے لیے رات کے وقت روشنی کے انتظام کی ستائش کی ہے۔

حیدرآباد: مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کو حیدرآباد میں واقع کیمپس میں قدرتی چٹانوں کے تحفظ پر سوسائٹی ٹو سیو راکس (چٹانوں کے تحفظ کی سوسائٹی)، حیدرآباد نے ایوارڈ عطا کیا ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن، وائس چانسلر کو آج ان کے دفتر میں سوسائٹی کی صدر پروفیسر فاطمہ علی خان اور سیکریٹری محترمہ فراؤکے قادر نے سوسائٹی کی جانب سے توصیفی لوح پیش کی۔

سوسائٹی نے کیمپس کی تعمیر و توسیع کی منصوبہ بندی میں قدیم گرانائٹ کی چٹانوں کے تحفظ کو ملحوظ رکھنے اور ”پتھر دل“ نامی ہیریٹیج چٹان کے قدرتی حسن کے دلفریب نظارے کے لیے رات کے وقت روشنی کے انتظام کی ستائش کی ہے۔ پروفیسر سید عین الحسن  نے حیدرآباد اور آس پاس کے علاقوں میں قدرتی چٹانوں کے تحفظ اور عوام میں اس کے متعلق شعور بیداری کے لیے سوسائٹی کی کارکردگی اور سرگرمیوں کی ستائش کی۔

انہوں نے راک سوسائٹی کو یونیورسٹی کے تعاون سے ہارون خان شیروانی مرکز برائے مطالعاتِ دکن کے زیر اہتمام ایک تصویری نمائش اور ورکشاپ منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔ سوسائٹی کی جانب سے 17/ مارچ 2019ء کو اردو یونیورسٹی میں ایک ’راک واک‘ کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد شرکاء کو یونیورسٹی میں محفوظ گرانائٹ کی قدرتی چٹانوں کے تحفظ سے واقف کروانا تھا۔ واضح رہے کہ انڈین نیشنل ٹرسٹ فار آرٹ اینڈ کلچرل ہیریٹیج (انٹاک) نے بھی 2017ء میں یونیورسٹی کو خوبصورت چٹانوں کے تحفظ کے لیے ہیریٹیج ایوارڈ عطا کیا۔

ذریعہ
پریس نوٹ

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.