یا جــــہــالــت تیـــرا آســـرا!

ابھی تو گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ابھی تو نیا پارلیمنٹ زیر تعمیر ہے۔ ابھی تو گاندھی جی کے مقابلے میں ایک دوسرے ‘جی’ کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ابھی تو اس کے قصے نصابی کتابوں میں شائع کرنے پر غور و خوض جاری ہے۔

حفظ الرحمن

2006 میں فلم ‘گینگسٹر’ سے منظر عام پر آنے والی کنگنا رناوت نے ابتدائی فلم میں ہی کافی منجھی ہوئی اداکاری کی تھی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ فلمی دنیا میں اپنی علاحدہ شناخت بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔ اسی عرصے میں عامر خان اپنی فلم ‘گجنی’ میں میڈیکل اسٹوڈنٹ کے کردار کے لیے ایک خاتون ایکٹریس کی تلاش میں تھے اور ان کی نگاہ ِانتخاب کنگنا رناوت پر آکر ٹھہر گئی۔

اس سے قبل اپنے مختلف انٹرویوز میں کنگنا رناوت کہہ چکی تھیں کہ بالی ووڈ میں عامر خان کے ساتھ کام کرنا ان کا خواب ہے اور وہ ان کے پسندیدہ اداکار ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب نیو کمرس کے لیے شاہ رخ خان یا بگ بی کے ساتھ کام کرنا سب سے بڑا خواب ہوتا تھا۔ بہر کیف عامر خان کی فلم میں میڈیکل اسٹوڈنٹ کے کردار کے لیے قرعہ فال کنگنا کے نام کا کھلا اور انہیں فلم کے لیے منتخب کرلیا گیا۔ چونکہ عامر خان بالی ووڈ میں اپنے کام سے زیادہ اپنے کام کرنے کے طریقوں سے جانے جاتے ہیں، اس لیے ان کی ایما پر کنگنا کے انتخاب کو پردہ راز میں رکھا گیا تھا اور اس کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ادھر کنگنا کی دیرینہ خواہش پوری ہو رہی تھی تو انہوں نے شدت جذبات یا اپنے ہلکے پن میں میڈیا میں قے کردی کہ وہ عامر خان کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ عامر خان جنہوں نے باقاعدہ اس کا اعلان نہیں کیا تھا وہ اس سے خفا ہوگئے اور اس کے نتیجے میں کنگنا کو فلم سے آؤٹ کردیا گیا اور ان کی جگہ جیا خان کو میڈیکل اسٹوڈنٹ کے رول کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔

کنگنا رناوت کا حالیہ تنازع بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔ کبھی کبھی تو یہ بات سامنے آنی ہی تھی کہ عامر خان کے ساتھ کنگنا ایک پروجیکٹ پر کام کررہی ہیں؛ لیکن کنگنا نے عجلت کا مظاہرہ کیا اور قبل از وقت اس کا اعلان کردیا۔ اسی طرح راقم الحروف کی دانست میں کنگنا کا حال میں دیا گیا بیان عجلت میں دیا گیا بیان ہے۔ ملک یا جمہوریت کے لیے حالات کتنے ہی ناسازگار کیوں نہ ہوں لیکن اس دعویٰ کے لیے زمین ابھی تیار نہیں ہوئی ہے کہ 1947 میں ملنے والی آزادی بھیک میں ملی آزادی تھی جبکہ حقیقی آزادی ملک کو 2014 میں ملی ہے۔ ابھی بھی ایک ایسی نسل ملک میں موجود ہے، جس نے جنگ آزادی میں حصہ لیا تھا۔

ابھی پارلیمنٹ کی عمارت بھی وہی ہے جس میں ملک کی اولین کابینہ کا اجلاس ہوا تھا۔ زمانے پر ابھی اتنی گرد نہیں پڑی ہے کہ اسے پانی پت کے نتائج اور دیگر تاریخی واقعات کی طرح توڑ مروڑ کر رکھ دیا جائے۔ ابھی اس کے لیے کئی زمانے درکار ہیں اس کے بعد ایک من گھڑت موقف نہایت استدلال کے ساتھ بیان کیا جائے گا۔ ابھی تو سردار پٹیل کا سنگھی کرن کیا جارہا ہے۔ ابھی تو ساورکر کی ویرتا کے قصے بیان کیے جارہے ہیں اور ان کے معافی ناموں کی الٹی سیدھی تاویلیں بیان کی جارہی ہیں۔

ابھی مہاتما گاندھی کے سہارے ساورکر کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ابھی تو گاندھی کے قاتل گوڈسے کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ابھی تو نیا پارلیمنٹ زیر تعمیر ہے۔ ابھی تو گاندھی جی کے مقابلے میں ایک دوسرے ‘جی’ کو پروان چڑھایا جارہا ہے۔ ابھی تو اس کے قصے نصابی کتابوں میں شائع کرنے پر غور و خوض جاری ہے۔ ابھی تو جدید ہندوستان کے معمار پنڈت نہرو کو ملک کی بردبادیوں کا ذمے دار قرار دیا جارہا ہے۔ ابھی تو شہروں کے نام تبدیل کیے جارہے ہیں۔ یہ کنگنا ایک دم سے جست لگا کر کس زمانے میں پہنچ گئی ہیں۔ ابھی تو وہ زمانہ دور، بہت دور ہے۔

تاہم اس حقیقت کو تسلیم کرلیجیے کہ پہلے ساورکر ویر نہیں تھے؛بلکہ گاندھی مرڈر کے مشتبہ ملزم تھے اور ممبئی پولیس انہیں حراست میں لے کر گاندھی کے قتل کے بارے میں بازپرس بھی کرنا چاہتی تھی؛لیکن عدالت سے اس کی اجازت نہیں ملی۔ پہلے ساورکر ویر نہیں تھے؛ بلکہ ان کی برٹش سرکار سے بھیک میں مانگی گئی آزادی ایک مسلمہ حقیقت تھی؛ لیکن آج دیکھ لیجیے، ساورکر ویر ہیں، پارلیمنٹ میں ان کی تصویر اس شخص کی تصویر کے سامنے لگی ہوئی ہے، جس کے قتل کی سازش میں شامل ہونے کا ساورکر پر الزام تھا۔

اب وہ مہاتما گاندھی کے قتل کے مشتبہ ملزم نہیں ہیں؛ بلکہ ملک کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز کے مضبوط ترین دعویدار ہیں۔ زمانہ اسی طرح کروٹ بدلتا ہے اور تاریخ اسی طرح بدل جاتی ہے۔ تاریخ نصف جھوٹ پر مبنی ہوتی ہے اور اس کا نصف سچ اسی نسل کے ساتھ درگور ہوجاتا ہے جس سے وابستہ ہوتا ہے۔ تاریخ فی الواقع تاریخ نہیں ہوتی؛ بلکہ وہ زمانے کے کسی ایک فریق کا Narrative ہوتی ہے، پھر ایک دوسرا فریق طاقت ور ہوجاتا ہے، جو اپنے Narrative کو تاریخ کا نام دے دیتا ہے۔ کنگنا کا بیان فی زمانہ مضحکہ خیز ہے بالکل اسی طرح جس طرح گزرے زمانے میں ساورکر کی ویرتا کا دعویٰ مضحکہ خیز تھا۔

تاہم ایک عرصہ گزر جانے کے بعد 2014 میں ملی آزادی کا تصور ہندوستانی عوام میں نہایت مضبوطی کے ساتھ پیش کیا جائے گا اور اس کی بے شمار تاویلیں و دلیلیں بیان کی جائیں گی۔ کنگنا نہایت منجھی ہوئی اداکارہ ضرور ہیں؛ لیکن وہ اتنی ذہین نہیں ہیں کہ وہ ازخود غور کرکے یہ موقف اختیار کرسکیں، اس کی تائید اپنے بیان کی حمایت میں دیے گئے بیان سے ہوتی ہے، جس میں کنگنا نے کہا کہ 1947 میں تو ہم نے کوئی جنگ نہیں لڑی تھی۔

2014 کی آزادی کا تصور آج کے لئے نہیں بلکہ یہ کسی اور زمانے کے لیے ہے۔ یہ ابھی پروان نہیں چڑھا ہے؛ بلکہ ایک بے وقوف سی متنازع شناخت کی حامل اداکارہ کے توسط سے اس تصور کو یہ جاننے کے لئے چھوڑا گیا ہے کہ عوام پر اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں اور وہ کس حد تک اسے قبول کرتے ہیں۔ جس ٹی وی پروگرام میں یہ شوشہ چھوڑا گیا تھا اس کا کلپ دیکھیں تو اس جہالت کے مظاہرہ کے بعد کچھ لوگوں نے تالیاں بھی بجائی تھیں، اب یہ نہیں معلوم کہ وہ افراد وہاں تالیاں بجانے پر مامور کیے گئے تھے یا انہوں نے اس تصور کو قبول کرلیا تھا؛لیکن یہ حقیقت ہے کہ مستقبل میں یہ شوشہ نہایت شدومد کے ساتھ چھوڑا جاسکتا ہے۔

۰۰۰٭٭٭۰۰۰

ذریعہ
منصف نیوز بیورو

تبصرہ کریں

Back to top button

Adblocker Detected

Please turn off your Adblocker to continue using our service.