دل کا دورہ پڑنے سے موت کے اعدادوشمار کووڈ سے مرنے والوں کی تعداد زیادہ

سرتھ نے کہاکہ سب سے شرمناک بات یہ ہیکہ پوری دنیا کے ممالک کے مقابلہ میں بھی دل کا دورہ پڑنے کے سب سے زیادہ مریض بھی ہندستان کے ہی ہیں۔ دنیا میں ہارٹ اٹیک کے تقریباً دس کروڑ معاملات میں تقریباً چھ کروڑ معاملے ہندستان میں ہی ہیں۔

نئی دہلی: ماہرین کا خیال ہے کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران عالمی وبا کورونا کے انفیکشن سے ہوئی اموات کے مقابلہ میں دل کا دورہ پڑنے سے مرنے والوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ ملیشیا میں واقع لنکن یونیورسٹی کالج کے نیوٹریشنسٹ اور ہیلتھ ایجوکیٹر مانس سرتھ نے یو این آئی سے بات چیت میں کہاکہ کورونا وبا میں وائرس سے پانچ لاکھ لوگوں کی موت پر پورے ملک میں ہنگامہ مچا ہوا ہے لیکن دل کا دورہ پڑنے سے ہونے والی اموات کے اعدادو شمار اس سے کہیں زیادہ خوفناک ہیں۔

 انہوں نے کہاکہ دل کا دورہ پرنے سے ہرسال ملک میں 30لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوتی ہے یعنی مذکور ہ مدت میں 60لاکھ سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی ہے۔ اس حساب سے پورے ملک میں ہر روز نو سے دس ہزار سے زیادہ لوگوں کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوجاتی ہے۔ یعنی اگر ہر دن چار لوگوں کی مختلف اسباب سے موت ہوتی ہے تو ان میں سے ایک کی موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوجاتی ہے۔

سرتھ نے کہاکہ ہندستان میں 25سے 30فیصدی اموات دل کا دورہ پڑنے سے ہوتی ہیں یعنی ہر چار میں سے ایک موت دل کا دورہ پڑنے سے ہوتی ہے۔ ان میں سے پچاس فیصد زیادہ اموات 50برس سے کم عمر کے لوگوں کی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ 25فیصد سے زیادہ اموات 40سال سے کم عمر کے لوگوں کی ہوتی ہیں۔

سرتھ نے کہاکہ سب سے شرمناک بات یہ ہیکہ پوری دنیا کے ممالک کے مقابلہ میں بھی دل کا دورہ پڑنے کے سب سے زیادہ مریض بھی ہندستان کے ہی ہیں۔ دنیا میں ہارٹ اٹیک کے تقریباً دس کروڑ معاملات میں تقریباً چھ کروڑ معاملے ہندستان میں ہی ہیں۔انہوں نے کہاکہ المیہ یہ ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے بعد بیشٹر مریض اسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ دیتے ہیں۔ تشویش کا موضوع یہ ہے کہ اس بیماری کی زد میں آنے والے افراد میں نوجوان بھی شامل ہیں۔

انہوں نے کہاکہ کھیل کود یا جم جانے والے یا ناچنے گانے اور اچھی غذا لینے والے لوگ بھی اس سے نہیں بچے ہیں۔ جن میں کرکٹ کھلاڑی کپل دیو(62)، سابق کپتان سوربھ گونگولی (49) اور ڈانسر ریمو ڈیسوزا (47) بھی شامل ہیں جو ہارٹ اٹیک کے شکار ہوچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ہارٹ اٹیک یا اس کے بعد بھی تین طریقوں سے بیماری سے لڑا جاسکتا ہے۔ نیوٹریشن پیتھ میں لال مرچ یا پانی کے ساتھ اس کا پاوڈر کھانے کی صلاح دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محض 60سیکنڈ میں مرچ کا نسخہ کارگر اثر کرتا ہے۔ یہ نہ صرف خون اور آکسیجن کے بہاو کو بڑھاتا ہے بلکہ اس کا کیمیکل خون کے تھکے کو بھی جمنے سے روک دیتا ہے۔

ہومیوپیتھی ماہرین کے مطابق99فیصد دل کا دورہ صبح سویرے ڈھائی بجے سے چار بجے کے درمیان پڑا ہے۔ ان کا دعوی ہے کہ محض دس روپے میں آنے والی ایکونائٹ 200کی ایک چھوٹی شیشی سے 100لوگوں کی جانچ بچائی جاسکتی ہے۔ اس دوا کی ایک ایک بوند پانچ سے سات منٹ کے وقفہ پر ایک دن میں تین بار اپنی جیبھ پر لینی ہے۔ تین بوند سے زیادہ دوا ایک دن میں نہیں لینی ہے۔

جبکہ ایلوپیتھی ماہرین کا خیال ہے کہ محض 25 روپے خرچ کرکے ہارٹ اٹیک کے مریض کو ٹھیک کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لئے تین دواوں کو ایک ساتھ کھانا ہوگا۔ ایسپرن 325ملی گرام ایک دوا، کلوپی ڈوگریل 75گرم دو ٹیب اور ایٹوروسٹاٹن 80ملی گرام ایک ٹیب کھانے کا رام بن اثر ہوتا ہے۔ اس سے بھی لوگوں کی موت کو روکا جاسکتا ہے۔

ذریعہ
یواین آئی

تبصرہ کریں

Back to top button