دنیا کی سب سے طاقتور ٹیلی اسکوپ خلا میں روانہ

ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ ہفتہ کے روز صبح یورپی ایریئن راکٹ کے ذریعہ جنوبی امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر فرانسیسی گیانا سے خلا میں بلند ہوئی۔

واشنگٹن: دنیا کی سب سے بڑی اور سب سے طاقتور خلائی دوربین‘ اولین ستاروں اور کہکشاؤں کی روشنی دیکھنے اور کائنات میں زندگی کے اشارے تلاش کرنے کے پر خطر سفر پر روانہ ہوگئی ہے۔

ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی سکوپ ہفتہ کے روز صبح یورپی ایریئن راکٹ کے ذریعہ جنوبی امریکہ کے شمال مشرقی ساحل پر فرانسیسی گیانا سے خلا میں بلند ہوئی۔

9 بلین ڈالر کی رصد گاہ اپنی منزل کی طرف 1.6 ملین کلومیٹر (1 ملین میل) یا چاند سے چار گنا سے زیادہ فاصلہ کے لئے روانہ ہوئی۔ اسے وہاں پہنچنے میں ایک مہینہ لگے گا اور اس کی انفراریڈ آنکھیں کائنات کو اسکین کرنے کے لیے تیار ہونے میں مزید پانچ ماہ لگیں گی۔

انہوں نے کہا ”سائنس دان سیاروں کے ماحول کا جائزہ لینے اور اس بات کا تعین کرنے کے قابل بھی ہوں گے کہ آیا سیارے نہ صرف رہنے کے قابل اور انسانوں کے لیے ایک دن کے قیام کے لیے موزوں ہوسکتے ہیں بلکہ یہ تعین کرنے کے لیے کہ آیا یہ حالات زندگی کے لیے موزوں ہیں یا نہیں“۔

یو این آئی کے بموجب امریکی خلائی ایجنسی ناسا نے ہفتے کے روز جیمز ویب ٹیلی اسکوپ کو کوورو فرنچ گیانا میں واقع گیانا اسپیس سنٹر سے کامیابی کے ساتھ لانچ کیا۔ناسا کے مطابق ہندوستانی وقت کے مطابق ہفتہ کی صبح 5:50بجے ایرین۔ 5 ای سی اے راکٹ کے ذریعہ جیمز ویب ٹیلی ا سکوپ کو لانچ کیا گیا۔

اسے زمین سے 16 لاکھ کلومیٹر کی بلندی پر نصب کیا جائے گا۔ویب‘ ناسا کی طرف سے تیار کی گئی اب تک کی سب سے بڑی اور طاقتور خلائی سائنس دوربین ہے۔

یہ 6.5 میٹر کے پرائمری میرر کے ساتھ بڑی انفرا ریڈ دوربین نظام شمسی کے اندر سے لے کر ابتدائی کائنات میں سب سے دور دیکھنے کے قابل کہکشاؤں تک کائناتی تاریخ کے ہر مرحلے کا مطالعہ کرے گی۔ناسا کے مطابق ویب براہ راست خلا اور وقت کے ایک حصے کا مشاہدہ کرے گی جو پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا تھا۔

یہ اس دور کا پتہ لگائے گی جب 13.5 بلین سال پہلے ستارے اور کہکشائیں بنی تھیں۔واضح رہے ویب ایک بین الاقوامی پروگرام ہے جس کی قیادت ناسا نے یورپی خلائی ایجنسی اور کناڈا کی خلائی ایجنسی کے تعاون سے کی ہے۔

ذریعہ
منصف وین ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button