دہلی فسادات کیس، عمر خالد کی درخواست ضمانت‘ دوسری بنچ سے رجوع

دہلی ہائی کورٹ نے آج قومی دارالحکومت میں فروری 2020 میں فسادات کے پس پردہ سازش سے متعلق کیس میں جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی درخواست ضمانت کو ایک اور بنچ سے رجوع کردیا جہاں 20 مئی کو اس کی سماعت ہوگی۔

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے آج قومی دارالحکومت میں فروری 2020 میں فسادات کے پس پردہ سازش سے متعلق کیس میں جے این یو کے سابق طالب علم عمر خالد کی درخواست ضمانت کو ایک اور بنچ سے رجوع کردیا جہاں 20 مئی کو اس کی سماعت ہوگی۔

جسٹس مکتا گپتا نے اس کیس میں صادر کردہ سابقہ احکام پرغور کیا اور دیکھا کہ اس معاملہ کی جزوی سماعت جسٹس سدھارتھ مردل اور جسٹس رجنیش بھٹناگر کی بنچ پر ہوئی ہے۔ جسٹس منی پشکرنا بھی آج سماعت کررہی بنچ میں شامل تھیں۔

دونوں ججس نے کہاکہ اس معاملہ کی سماعت کارگزار چیف جسٹس سے احکام حاصل کرنے کے بعد جسٹس مردل اور جسٹس بھٹناگر پر مشتمل بنچ سے رجوع کی جائے۔6 مئی کو جسٹس مردل کی زیر صدارت بنچ نے خالد کی درخواست ضمانت کی سماعت 19 مئی کو مقرر کی تھی اور انہیں اور استغاثہ کو اجازت دی تھی کہ وہ تمام متعلقہ دستاویزات ریکارڈ پر پیش کریں تاکہ موثر انداز میں فیصلہ صادر کیا جاسکے۔

عمر خالد اور دیگر کئی افراد کے خلاف انسداد غیرقانونی سرگرمیاں قانون (یو اے پی اے) اور تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ ان پر فروری 2020 کے دہلی فسادات کی سازش رچنے کا الزام ہے جس میں 53 افراد ہلاک اور 700 سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔ شہریت ترمیمی قانون اور شہریوں کے قومی رجسٹر کے خلاف احتجاج کے دوران تشدد بھڑک اٹھاتھا۔ ٹرائل عدالت نے 24 مارچ کو خالد کی درخواست ضمانت خارج کردی تھی۔

عمر خالد نے ہائی کورٹ میں اپنی درخواست ضمانت میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تقریر جس کی بنیاد پر ان کے خلاف الزامات عائد کئے گئے ہیں‘ اس میں تشدد کی اپیل نہیں کی گئی تھی۔ اسے‘ اس عرصہ کے دوران یو ٹیوب پر بھی اپلوڈ نہیں کیاگیاتھا اور نہ اسے گشت کرایا گیا تھا۔ تعزیرات ہند کی دفعہ 124A کے تحت ان پر جرم کے ارتکاب کا الزام بے بنیاد‘ غیر امکانی اور غلط ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button