رات 12 بجے عدالتیں کھولنے کا معاملہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکوں گا

تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رات 12 بجے عدالتیں کھولنے کا معاملہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکوں گا۔

کراچی: تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ رات 12 بجے عدالتیں کھولنے کا معاملہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکوں گا، عدالت کو ضمیرفروشوں کی منڈی کا بھی نوٹس لینا چاہیے تھا، امپورٹڈ حکومت کے وزیراعظم پر کرپشن کے 40 ارب روپے کے کیسس ہیں۔

باغ جناح کراچی میں عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری حکومت کے خلاف سازش کرکے امپورٹڈ حکومت مسلط کی گئی ہے، امریکی مراسلے میں میری حکومت گرانے اور عدم اعتماد لانے کی بات موجود ہے، قوم بتائے یہ سازش ہے یا مداخلت، مجھے دوماہ قبل ہی پتہ چل گیا تھا کہ میچ فکس ہوگیا ہے، دوستی سب سے چاہتا ہوں غلامی کسی کی قبول نہیں کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی اس سے زیادہ توہین کیا ہوسکتی ہے جس وزیراعظم پر کرپشن کے کیسز ہیں ضمانتی باپ کو وزیراعظم اور بیٹے کو پنجاب کا وزیر اعلی بنادیا گیا، ملک میں فوری انتخابات کرائیں جائیں، انتخابات کا مطالبہ منوانے کے لیے احتجاج کریں گے۔

عمران خان نے کہا کہ عوام پرامن طور پر سڑکوں پر نکلیں ٹکراو کی سیاست نہیں چاہتے، دھاندلی کے ذریعہ دوبارہ شریف خاندان کو ملک پر مسلط نہیں ہونے دیں گے، ڈیزل کی قیمتیں میں نے کم کی تھیں یہ بڑھانے جارہے ہیں، تین چار ماہ پہلے معلوم چلا کہ امریکی سفارتخانے نے کچھ لوگوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، کچھ مخصوص صحافی بھی امریکی سفارتخانے کے ملاقاتیوں میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں

چیئرمین پی ٹی ائی نے کہا کہ پاکستان سفیر کو کہا گیا کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب نہیں ہوئی تو پاکستان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور تحریک کامیاب ہوئی تو پاکستان کو معاف کردیا جائے گا، اس سے شرم ناک دھمکی کوئی ہوسکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کم از کم خط کی تحقیقات کرالیتی، میر جعفر تیار بیٹھا تھا جو جوتے پالش کرنے کا ماہر ہے، چیری بلوسم کو حکم ملا کہ ڈو مور کرو، سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میں نے کہا کہ ہماری قربانیوں پر شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا، مجھے امریکا میں وہ عزت ملی جو کسی اور کو نہیں ملی۔

عمران خان نے کہا کہ بوٹ پالش کرنے والوں کی امریکا کیسے عزت کرسکتا ہے، معزز ججز سے مودبانہ عرض ہے کہ جب سیاست دان فروخت ہورہے تھے، پارٹی اور آئین سے غداری کررہے تھے کیا عدالت کو اس وقت ازخود نوٹس نہیں لینا چاہیے تھا، ضمیر فروشوں کو کبھی معاف نہیں کرنا۔

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button