راجیہ سبھا الیکشن: بی جے پی سے مسلم نمائندگی کا خاتمہ؟

مسلم حلقوں میں اس بات کا اطمینان تھا کہ راجیہ سبھا میں پارٹی کے کم از کم تین مسلم نمائندے موجود ہیں ، جن میں ایم۔ جے۔ اکبر، ظفر اسلام کے علاوہ بڑا مسلم چہرہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے نام شامل ہیں۔

نئی دہلی: حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹٰی (بی جے پی ) کی طرف سے لوک سبھا میں کوئی مسلم نمائندہ نہ ہونے کے باوجود مسلم حلقوں میں اس بات کا اطمینان تھا کہ راجیہ سبھا میں پارٹی کے کم از کم تین مسلم نمائندے موجود ہیں ، جن میں ایم۔ جے۔ اکبر، ظفر اسلام کے علاوہ بڑا مسلم چہرہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کے نام شامل ہیں۔

لیکن راجیہ سبھا کے لئے پارٹی امیدواروں کے درمیان ٹکٹوں کی تقسیم میں راجیہ سبھا کی رکنیت سے عنقریب سبکدوش ہونے والے ان تینوں مسلم نمائندوں کو ٹکٹ سے محروم کرنے کے سبب لوگ حیران ہیں۔ کیونکہ ایسی صورتحال میں بی جے پی کا کوئی بھی مسلم چہرہ اب راجیہ سبھا میں بھی نہیں ہوگا۔

مختار عباس نقوی کی راجیہ سبھا کی رکنیت کی میعاد 7 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔ اگر آئندہ چھ مہینے میں نقوی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں سے کسی ایک کا رکن نہیں بنتے ہیں تو ان کی وزارت خطرے میں پڑسکتی ہے۔

لیکن سیاسی حلقوں میں یہ خبر گشت کر رہی ہے کہ بی جے پی انہیں اترپردیش کے رامپو ر لوک سبھا سیٹ کے لئے اپنا امیدوار بنا سکتی ہے، جو سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اعظم خان کے استعفیٰ دینے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے، جہاں سے نقوی اس سے پہلے بھی پارٹی کے ٹکٹ پر قسمت آزمائی کرتے رہے ہیں، ایک بار اس سیٹ پر انہیں جیت بھی حاصل ہوئی ہے۔

راجیہ سبھا میں ظفر اسلام کی میعادکار 4 جولائی کو جبکہ ایم جے اکبر کی میعادکار 29 جون کو ختم ہو رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں ایسی قیاس آرئیاں بھی کی جارہی ہیں کہ وزیراعظم مودی کے کابینی وزیر کے طور پر وزارت اقلیتی امور میں شاندار کام کرنے اور مودی کے انتہائی قابل بھروسہ ہونے کی وجہ سے راجیہ سبھا کی رکنیت کے لئے صدر جمہوریہ کوٹے سے نقوی کو نامزد کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ انہیں بطو ر وزارت اقلیتی امور برقرار رکھا جاسکے اور راجیہ سبھا میں مسلم نمائندگی بھی نظر آئے۔

خیال رہے کہ صدر جمہوریہ کے زمرے والی راجیہ سبھا کی سات سیٹیں فی الحال خالی ہیں، جنہیں مودی حکومت کی سفارش پر صدر جمہوریہ راجیہ سبھا کے لئے نامزد کرسکتے ہیں ۔

دوسری طرف ایسی خبریں بھی گشت کر رہی ہیں کہ عرب ملکوں سے نقوی کے مضبوط روابط کےسبب عالمی برادری کو مثبت پیغام دینے کےمقصد سے انہیں نائب صدر جمہوریہ کے لئے بھی نامزد کیا جاسکتا ہے۔

تبصرہ کریں

Back to top button