راج ٹھاکرے، مہاراشٹرا کے اویسی ہیں:سنجے راؤت

ان دنوں مہاراشٹرا کی سیاست میں گرمی کافی بڑھی ہوئی ہے۔ ایک طرف حکمراں حلیف جماعتوں کے قائدین پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ شکنجہ کس رہی ہے تو دوسری طرف حلیف جماعتوں کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے۔

ممبئی: ان دنوں مہاراشٹرا کی سیاست میں گرمی کافی بڑھی ہوئی ہے۔ ایک طرف حکمراں حلیف جماعتوں کے قائدین پر انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ شکنجہ کس رہی ہے تو دوسری طرف حلیف جماعتوں کے درمیان بھی رسہ کشی جاری ہے۔

گزشتہ ہفتہ دہلی میں این سی پی کے صدر شردپوار نے وزیراعظم نریندر مودی سے ملاقات کی۔ اس سے بھی سیاسی ایوانوں میں قیاس آرائیاں تیز ہوئیں۔

مہاراشٹرا میں ان دنوں جو چل رہا ہے، اس کا سیاسی مطلب کیا ہے اس بارے میں این بی ٹی نیشنل بیورو کی خصوصی نمائندہ منجری چترویدی نے شیوسینا کے سینئر لیڈر اور پارٹی کے ترجمان ”سامنا“ کے ایگزیٹیو ایڈیٹر سنجے راؤت سے بات کی۔

اس سوال پر کہ مہاراشٹرا میں مہا گٹھ بندھن کتنا مضبوط ہے؟ انہوں نے کہا کہ اتحاد کی تینوں جماعتیں مہاراشٹرا میں متحدہ طور پر حکومت چلارہی ہیں۔ تینوں جماعتوں کا نظریہ مختلف ہے۔ کسی ایک پارٹی نے دوسرے میں انضمام نہیں کیا ہے۔ اپنے اپنے کردار کے بارے میں سبھی جماعتیں بولتی رہیں گی۔

ریاست میں حکومت ایک اقل ترین مشترکہ پروگرام کے تحت چل رہی ہے جس میں روٹی، کپڑا، مکان، صحت، تعلیم اور نظم و ضبط کے مسائل شامل ہی۔ اتحاد میں کانگریس کی بے چینی سے متعلق انہوں نے کہا کہ کانگریس میں جو کچھ بھی ہورہا ہے وہ اس کا اندرونی معاملہ ہوسکتا ہے۔

اس پر میں ریمارک نہیں کرسکتا۔ حکومت کے ساتھ ساتھ کانگریس کو کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کو سمجھنا ہوگا کہ اگر یہ اتحاد نہیں ہوتا تو مہاراشٹرا جیسی بڑی ریاست میں کانگریس اقتدار میں نہیں آتی۔ حکومت کے تئیں انہیں ممنون ہونا چاہیے اور وہ ہیں بھی۔

طویل عرصہ سے اسمبلی اسپیکر کے مخلوعہ عہدہ پر راؤت نے کہا کہ ہماری طرف سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ معاملہ گورنر کے ہاتھ میں ہے۔ اسپیکر عہدہ کے لیے احکام دینا او راس کی تاریخ مقرر کرنا سب گورنر کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ جیسے وہ ہمارے 12ایم ایل سی کی فائل دباکر بیٹھے ہیں ویسے ہی وہ اسپیکر کے الیکشن کی تاریخ نہیں دے پارہے ہیں۔

مہاراشٹرا میں راج بھون بی جے پی کا دفتر بن گیا ہے۔ اس سے ریاستی حکومت کو کام کرنے میں اور فیصلہ لینے میں بہت مشکل ہوگی۔ صرف مہاراشٹرا میں ایسا نہیں ہورہا، جہاں بھی غیر این ڈی اے جماعتیں اقتدار میں ہیں وہاں بی جے پی راج بھون سے سیاست کرتی ہے۔ یہ دستوری اصولوں سے تجاوز ہے۔

کرناٹک میں حجاب پر امتناع اور مہاراشٹرا میں اذان پر تنازعہ سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر غور کریں تو یہ مسائل ان ہی ریاستوں میں اٹھ رہے ہیں جہاں آنے والے دنوں میں انتخابات ہونے ہیں۔ رام نومی سے متعلق تنازعہ یا تشدد کے معاملے ہی دیکھ لیجئے۔

زیادہ تر وہیں ہوئے جہاں انتخابات ہونے ہیں۔ چاہے مدھیہ پردیش ہو یا گجرات۔ مہاراشٹرا میں اذان کا مسئلہ بی جے پی نے نہیں اٹھایا ان کی سی یا ڈی ٹیم نے اٹھایا ہے، وہ بھی ممبئی بی ایم سی الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے اٹھایاگیا ہے۔ راج ٹھاکرے کے بیان کے بی جے پی اسپانسرڈ ہونے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے لیے راج ٹھاکرے مہاراشٹرا کے اویسی ہیں۔

جو کام یو پی میں اویسی نے کیا وہی کام بی جے پی مہاراشٹرا میں راج ٹھاکرے کے ذریعہ کرانا چاہتی ہے۔ مہاراشٹرا حکومت کو زوال پذیر کرنے اور ای ڈی کی کارروائی سے متعلق انہوں نے کہا گزشتہ چار مہینے سے میرے ساتھ جو ہورہا ہے وہ سب میں نے راجیہ سبھا کے نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو کو بتایا ہے۔

میں نے انہیں بتایا کہ کس طرح مجھے دھمکایا جارہاہے۔ کھل کر کہا جارہا ہے کہ حکومت گرانے میں مدد کیجئے ورنہ آپ کو سنٹرل ایجنسی کے چکر میں پھنسایا جائے گا۔ اس پر میرا جواب تھا کہ حکومت تو رہے گی اور کام کرتی رہے گی۔ میں ڈرنے والا نہیں ہوں۔

اس سوال پر کہ آخر انہیں کیوں نشانہ بنایا گیا، راؤت نے کہا کہ حکومت سازی اور برقراری میں ہمارا ایک کردار رہا ہے۔ ایسے میں ہمیں ڈیمیج کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ وہ جو کچھ کرسکتے ہیں میرے خلاف کررہے ہیں ویسے تو اخلاقیات یہی کہتی ہے کہ لڑائی نظریات سے لڑی جائے، سرکاری ایجنسیوں کا بیجا استعمال کرکے آپ لڑائی نہیں لڑسکتے۔

اس سوال پر کہ آئندہ انتخابات میں کیا مہاوکاس اگھاڑی کے اویسی کے ساتھ اتحاد کا کوئی امکان ہے، انہوں نے کہا کہ اس کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یہ سب خیالی باتیں ہیں۔

تبصرہ کریں

Back to top button