رام کے نام پر ٹکڑے ٹکڑے گینگ! تو اکھنڈ بھارت کیسے بنے گا؟

سنجے راﺅت

رام نومی کے دن دس ریاستوں میں فسادات ہوئے۔ یہ مناظر اچھے نہیں ہیں۔ اس سے پہلے رام نومی کی شوبھا یاترا کے دوان صرف مذہب و ثقافت کا ہی مظاہرہ کیا جاتا تھا۔ اب ایسی شوبھایاتراﺅں میں تلواریں نچائی جاتی ہیں۔ مذہبی دشمنی پھیلائی جاتی ہے۔ آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت نے کہا کہ 15سالوں میں اکھنڈ ہندو راشٹر بنے گا۔ کیا یہ اس کا آغاز ہے؟ مہاراشٹرا میں جہاں مساجد پر لاﺅڈ اسپیکر پر تو وہیں ملک کے دیگر مقامات پر رام نومی کے فسادات کی سیاست شروع ہوگئی ہے۔ مذہبی جنون کی آگ کو ہوا دے کر اور امن کو خاک کرکے اگر کوئی الیکشن جیتنا چاہتا ہوگا تو وہ اپنے ہاتھوں سے ملک کی دوسری تقسیم کے بیج بوتے دیکھ رہے ہیں۔” ملک کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں تو بھی چلے گا، لیکن مذہبی دشمنی پھیلاکر انتخابات جیتنے ہیں“ ایسی پالیسی بی جے پی جیسی پارٹی نے کھلے عام اختیار کی ہے۔
ملک میں رام نومی کا تہوار برسہابرس سے منایا جارہا ہے۔ رام کی پیدائش کا اتسو ایک عقیدہ ہی ہے، مگر اب پہلی بار رام نومی کے موقع پر ملک میں کئی مقامات پر ہاتھوں میں تلوار اور اسلحہ لے کر بڑے جلوس نکالے گئے۔ اتسومیں شامل لوگو ںنے مساجد کے سامنے رک کر ہنگامہ کیا اور اس سے کئی ریاستوں میں فسادات کی چنگاری بھڑکی۔ مدھیہ پردیش کے کھرگون میں رام نومی کے موقع پر جو کچھ ہوا اسے دیکھ کر شری رام پریشان ہوگئے ہوں۔ ایودھیا میں رام مندر کی لڑائی سے جو فرار ہوگئے، وہ اب رام کے نام پر تلواریں نکال رہے ہیں۔ اسے ہندوتوا نہیں کہا جاسکتا۔ رام نومی کے دن دس ریاستوں میں فسادات ہوئے۔ ان ریاستوں میں جلد ہی اسمبلی انتخابات ہونے والے ہیں۔ ان میں جھارکھنڈ، گجرات، کرناٹک، مدھیہ پردیش اور راجستھان شامل ہیں۔ رام نومی کے موقع پر شوبھا یاترا نکالی گئی اور اس پر دوسرے گروہوں کی جانب سے سنگباری کی گئی۔ ممبئی کے مانکھرد علاقہ میں بھی اس دوران حالات کشیدہ ہوگئے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ رام نومی سے پہلے ممبئی اور مہاراشٹرا میں ہندو سال نو گُڑی پاڈوا دھوم دھام سے منایا گیا۔ ممبئی ، پونے ، تھانے، ڈومبیولی، ناسک، ناگپور میں عظیم الشان شوبھا یاترا نکالی گئی۔ بینڈ باجے کے ساتھ کئی جلوس مسلم محلوں میں نکلے ،لیکن جلوسوں پر کسی نے سنگباری یا حملہ نہیں کیا۔ پھر یہ سب رام نومی کے دن ہی کیوں ہونا چاہیے؟ گجرات کے سابرکانٹھا ضلع میں وشوا ہندو پریشد کی جانب سے منعقدہ رام نومی یاترا پر ایک اور گروپ کے لوگو ںنے سنگباری کی۔ گجرات ریاست میں جو مودی اور شاہ کی ریاست ہے اور آج جسے ہندوتوا کا گڑھ مانا جاتا ہے، اس ریاست میں مسلمان رام نومی یاترا پر پتھر پھینکیں گے؟ یہ کوئی مانے گا کیا؟ مغربی بنگال کے ہاﺅڑا شیوپور علاقہ میں بھی فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی۔ وشواہندو پریشد نے رام نومی پر جلوس نکالا۔ اس میں اشتعال انگیز تقاریر کی گئیں۔ اس سے آگ بھڑکی۔ رام نومی پر اشتعال انگیز تقاریر کی روایت کب شروع ہوئی؟ جب تک اشوک سنگھل وشواہندو پریشد کے صدر تھے تب تک ایسی روایت نہیں تھی تو اب یہ سب کون کروارہا ہے؟ ممبئی میں شیوسینا ہندوتوا کا جلوس نکالتی ہے تو اس پر ایسا کوئی حملہ وغیرہ نہیں ہوتا لیکن اگر بی جے پی یا اس کی ”بی “ ٹیم اس طرح کے جلوس کا اہتمام کرتی ہے تو گڑبڑ ضرور ہوگی، ایسا انتظام کررکھا گیا ہے، ایسا نظر آتا ہے۔ رام نومی کے دن ہوا تشدد یہی کہہ رہا ہے۔
جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں رام نومی کے دن ”گوشت خوری، سبزی خوری“ تنازعہ پر فساد بھڑکایا گیا۔ اس میں دس طلباءکے سر پھوٹ گئے ۔ وہ سبھی طلباءہندو ہی تھے۔ رام کے یوم پیدائش پر گوشت کا استعمال نہیں کرنا ہے، اس پر شروع ہوا تنازعہ ”رام نومی“ اتسو کی مخالفت کی، اس لیے طول پکڑا، اس مسئلہ پر آکر ختم ہوا۔ ملک بھر میں ہندو مسلمانوں میں آگ لگانا، فساد بھڑکانا، اسی آگ پر انتخابی روٹی سینکنے کا یہ سیاسی کھیل ملک کو جلادے گا۔
ایم این ایس کے صدر راج ٹھاکرے ابتداءمیں ”مراٹھی مانوس اور عزت نفس کے موضوع“ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ جب یہ مدعا شیوسینا کے سامنے نہیں ٹکا تو اب ہندوتوا کی جانب مڑگئے اور ”مساجد پر لگے لاﺅڈ اسپیکر بند نہیں ہوئے تو اب مساجد کے سامنے ”ہنومان چالیسا“ کا پاٹھ کریں گے،“ ایسی وارننگ دے کر آزاد ہوگئے۔ بی جے پی کو جو چاہیے وہی ایجنڈا شری راج ٹھاکرے لاگو کررہے ہیں۔ ممبئی تھانے بلدی انتخابات کی یہ تیاری ہے اور ہنومان کے نام پر فسادات ہوگئے تو مہاراشٹرا میں نظم و ضبط کے مسئلہ پر ”صدرراج“ نافذ کرنے کا کھیل چل رہا ہے۔ آج ملک میں 22کروڑ مسلمان ہیں اور وہ ملک کے شہری ہیں۔ مسلمانوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے۔ اگر یہ کسی کے لیے تشویش کا موضوع ہے تو لازمی فیملی پلاننگ، یکساں سیول کوڈ، آبادی پر کنٹرول جیسے قوانین کو نافذ کرنا اس کا علاج ہے۔ رام نومی کے فسادات اور گوشت خوری پر خون خرابہ اس کا حل نہیں ہے۔ کل تک مسلمانوں کے معاملے میں ”دہشت گرد“ لفظ پوری دنیا میں عام ہوگیا تھا۔ ہندﺅوں کے معاملے میں دنیا میں ایسا کوئی پروپیگنڈا نہیں ہونا چاہیے۔ اس میں ہندو مذہب کی بدنامی ہوگی۔
اترپردیش کا ایک بھگوا پوش سادھو مسلم خواتین کی عصمت ریزی کرنے کی بات کرتا ہے۔ اس بیان پر کوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے، لیکن جب واشنگٹن میں وزیر دفاع راج ناتھ کی موجودگی میں ہندوستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر سوال اٹھایا جاتا ہے تب اگلے ہی دن بجرنگ منی کے خلاف کیس درج کرکے انہیں گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کے ایسے واقعات پر پوری دنیا کی نظر ہے ۔ کل تک کٹر مسلمان دہشت گردوں جیسا برتاﺅ کرتے تھے ۔کیا ہندوﺅں کا ایسا رویہ منظور ہے؟ یہی حقیقی سوال ہے۔ راجستھان کے کرولی میں رام نومی کی شوبھا یاترا کے موقع پر تشدد بھڑک اٹھا۔ اویسی موصوف جئے پور پہنچے اور انہوں نے کانگریس سے پوچھا ”کانگریس حکومت نے رام نومی کے جلوس کی اجازت دی ہی کیسے؟“
ہندوستان میں رام نومی کے جلوس پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ کانگریسی ریاستوں میں ایسی یاتراﺅں پر پابندی لگائی جاتی ہے تو بی جے پی اور اس کی دوسری تنظیمیں بھی یہی چاہتی ہیں۔ راجستھان میں اسمبلی انتخابات ہو نے ہیں۔ اسے دیکھیں تو رام نومی کے فسادات کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ رام کے نام پھر نفرت کا زہر پھیلانا رام کے نظریہ کی ہی توہین ہے۔ ایسا کرنا بے شرمی کی نشانی ہے، سینئر صحافی نکھل واگلے کا ایسا کہنا سچ ہے۔ ہریدوار میں ایک ہندو جلسے میں آر ایس ایس کے صدر موہن بھاگوت نے کہا کہ اگلے 15سالوں میں ایک اکھنڈ ہندو راشٹرا کی تعمیر ہوگی۔ ہاتھ میں لاٹھی لے کر عدم تشدد کے راستے سے اکھنڈ ہندو راشرا قائم کریں گے یہ عہد اچھا ہی ہے ،لیکن رام کے نام پر اس طرح کے تشدد کا رقص کرکے ملک کو عدم استحکام اور کشیدگی کی کھائی میں دھکیلا جارہا ہے۔ اس سے نئی تقسیم کے بیج بوئے جائیں گے اور اکھنڈ ہندوستان بناتے وقت مذہبی نفرت سے تعمیر ہوئے ہمارے ہی ملک کے ٹکڑے سمیٹنے پڑیں گے۔ ایک تقسیم سے سرپھرا گوڈسے تیار ہوا۔ گاندھی کو اس نے مار ڈالا۔ مرتے وقت گاندھی نے کہا ”ہے رام!“ آج وہی رام ملک کو تکبر،مذہبی جنونیت کی آگ میں جلتے دیکھ رہے ہیں۔!اگر رام کے نام پر ٹکڑے ٹکڑے گینگ بننے والی ہوگی تو ایک اکھنڈ ہندو راشٹرا کیسے بنے گا؟ رام کے نام پر انتخابات جیتیں گے لیکن ملک رہے گا کیا؟

تبصرہ کریں

یہ بھی دیکھیں
بند کریں
Back to top button