راہول گاندھی کا ورنگل میں جلسہ اور خطاب

راہول گاندھی نے عوام سے سوال کیا کہ تلنگانہ کی ترقی کے خواب کا کیا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ تلنگانہ ایک نئی ریاست ہے اور یہ آسانی کے ساتھ حاصل نہیں ہوئی ۔ عوام نے اس کیلئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ یہ ریاست عوام کا ایک خواب ہے۔

حیدرآباد: سینئر کانگریس لیڈر راہول گاندھی دوروزہ دورہ تلنگانہ پر پہنچ چکے ہیں۔ اُنہوں نے آج شام ورنگل میں ایک جلسہ عام سے خطاب کیا جس میں ہزاروں نے لوگوں نے شرکت کی۔ یہ جلسہ رعیتو سنگھرشنا سبھا کے نام سے منعقد کیا گیا ہے۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے راہول گاندھی نے تلنگانہ میں حکمراں ٹی آر ایس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اُسے خودغرض قراردیا۔

اُنہوں عوام سے سوال کیا کہ تلنگانہ کی ترقی کے خواب کا کیا ہوا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ تلنگانہ ایک نئی ریاست ہے اور یہ آسانی کے ساتھ حاصل نہیں ہوئی ۔ عوام نے اس کیلئے اپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ یہ ریاست عوام کا ایک خواب ہے۔ یہ کسی ایک شخص کو نہیں دی گئی تھی۔  بالواسطہ طورپر کے سی آر کو نشانہ بناتے ہوئے راہول نے یہ بات کہی۔

اُنہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے مزید کہاکہ تلنگانہ میں صرف ایک خاندان خوشحال ہوتاجارہا ہے اور میں آپ سب سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں کو نوکریاں ملیں۔ میں کسانوں سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اُن کے قریبی لوگوں نے جو خودکشیاں کرلی ہیں اُس کا ذمہ دار کون ہے۔

اُنہوں نے مزید کہاکہ کانگریس پارٹی نے تلنگانہ دیا تھا اور ہم جانتے تھے کہ ہمیں اس سلسلہ میں کسی کی تائید حاصل نہیں ہوگی، اس کے باوجود ہم عوام کے ساتھ کھڑے رہے۔

اس موقع پر کانگریس پارٹی نے ورنگل ڈکلریشن بھی جاری کیا۔ راہول گاندھی نے ڈکلریشن پر اظہار خیال ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے اس میں قرضوں کی معافی اور اقل ترین امدادی شرحوں کے علاوہ فی ایکر 15 ہزارروپئے کی راست مدد کا وعدہ کیا ہے۔ ریونت ریڈی نے ڈکلریشن پڑھ کر سنایا۔ راہول گاندھی نے اسے ڈکلریشن نہیں بلکہ کسانوں کو کانگریس پارٹی کی ضمانت قراردیا۔

راہول گاندھی دوروزہ دورہ پر تلنگانہ پہنچے ہیں۔ وہ 7 مئی کو آرٹس کالج عثمانیہ یونیورسٹی میں بھی ایک غیر سیاسی پروگرام منعقد کرنا چاہتے تھے مگر پولیس نے اِس کی اجازت نہیں دی۔ وہ چنچل گوڑہ جیل میں محروس طلبا قائدین سے بھی ملاقات کا منصوبہ رکھتے تھے مگر حکومت نے اُنہیں اس کی بھی اجازت نہیں دی۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button