راہول گاندھی کی آمد پر کے ٹی آر کا رد عمل

کے ٹی آر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی سیاحوں کی آمد لگی رہتی ہے۔ وہ آتے جاتے رہتے ہیں ۔ تلنگانہ میں بھی ایسے سیاح آتے جاتے رہتے ہیں مگر یہاں صرف کے سی آر کی حکومت رہنے والی ہے۔

حیدرآباد: ریاستی وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی اور ٹی آر ایس کے کارگذار صدر کے تارک راماراؤ نے سینئر کانگریس لیڈر راہول گاندھی کی تلنگانہ آمد پر اپنے رد عمل کااظہار کیا ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ سیاسی سیاح آتے جاتے رہتے ہیں اور تلنگانہ میں صرف کے سی آر کی حکومت رہنے والی ہے۔

 اُنہوں نے اس سلسلہ میں ایک ٹویٹ کرتے ہوئے کہاکہ سیاسی سیاحوں کی آمد لگی رہتی ہے۔ وہ آتے جاتے رہتے ہیں ۔ تلنگانہ میں بھی ایسے سیاح آتے جاتے رہتے ہیں مگر یہاں صرف کے سی آر کی حکومت رہنے والی ہے۔ آئندہ بھی ٹی آر ایس یہاں حکومت بنائے گی۔

کے ٹی آر کے ٹویٹ کے جواب میں سینکڑوں ٹی آر ایس ورکرس نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کے ٹی آر انا اور کے سی آر انا کے ٹویٹ کرتے ہوئے ٹی آر ایس کو اپنی تائید کا اظہار کیا ہے۔

کے ٹی آر نے اپنے اس ٹویٹ کے ساتھ اپنی ایک تصویر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کافی پرجوش نظر آرہے ہیں۔ وہ دفتر میں بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی بات دونوں ہاتھ پھیلاکر رد عمل کا اظہار کررہے ہیں۔

اس طرح کے ٹی آر نے راہول گاندھی کو ایک سیاسی سیاح سے تعبیر کیا ہے۔ راہول گاندھی کی تلنگانہ آمد پر ٹی آر ایس ایک دم متحرک ہوگئی ہے۔ نہ صرف ٹویٹر بلکہ سوسیل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر راہول گاندھی کے دورہ کی اہمیت کو غیراہم ثابت کرنے کے لئے مختلف پوسٹ کئے جارہے ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ راہول گاندھی کی تلنگانہ آمد پر ٹی آر ایس تحفظات کا شکار ہوگئی ہے۔

ذریعہ
منصف ویب ڈیسک

تبصرہ کریں

Back to top button