رمیش جرکیہولی کی چیف منسٹر سے ملاقات‘ کابینہ میں شمولیت کا امکان

 لکھن جرکیہولی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے گزشتہ ایم ایل سی انتخابات میں مقابلہ کیا تھا، کیوں کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے بیلگاوی ضلع سے دوسرے امیدوار کے طور پر چھوٹے بھائی کو میدان میں اتارنے رمیش جرکیہولی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

بنگلورو: بی جے پی رکن اسمبلی اور سابق وزیر رمیش جرکیہولی نے کابینہ میں توسیع اور ایوان بالا میں جرکیہولی برادران کی مدد سے انسداد تبدیلی مذہب بل سمیت دیگر قوانین کی منظوری کے لیے اکثریت کے حصول کی قیاس آرائیوں کے درمیان چیف منسٹر بسوراج بومئی سے ملاقات کی۔

 اشارے ہیں کہ بی جے پی تین جرکیہولی برادران رمیش، بال چندر اور لکھن میں سے کسی ایک کو کابینہ میں شامل کرسکتی ہے۔ بی جے پی‘ انسداد تبدیلی مذہب بل جسے دسمبر میں سرمائی اجلاس کے دوران ریاستی اسمبلی میں منظور کیا گیا، ایوان بالا میں اس کی منظوری کے لیے واضح اکثریت حاصل کرنے کی خواہاں ہے۔

 لکھن جرکیہولی نے آزاد امیدوار کی حیثیت سے گزشتہ ایم ایل سی انتخابات میں مقابلہ کیا تھا، کیوں کہ بی جے پی کی مرکزی قیادت نے بیلگاوی ضلع سے دوسرے امیدوار کے طور پر چھوٹے بھائی کو میدان میں اتارنے رمیش جرکیہولی کی درخواست مسترد کردی تھی۔

 نتیجتاً بی جے پی بیلگاوی ضلع سے ایک ایم ایل سی سیٹ سے محروم ہوگئی جس سے بیلگاوی کی سیاست میں ہلچل مچ گئی اور وزیر اُمیش کٹی اور جرکیہولی دھڑوں میں ٹھن گئی۔

 دونوں دھڑوں کی لڑائی نے پارٹی قیادت بشمول بومئی کو معاملے کی یکسوئی پر مجبور کردیا تا کہ ضلع میں پارٹی کے امکانات کو مزید دھچکہ نہ پہنچے جو 18 ارکان اسمبلی کو اسمبلی میں بھیجتا ہے۔

ذریعہ
یو این آئی

تبصرہ کریں

Back to top button